آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 7؍ربیع الثانی 1440ھ 15 ؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کا راستہ اپنایا،ریاست پھر بھی بند گلی میں۔شک ہوتو11نومبر کو چوہدری فواد حسین کی بے بسی قومی میڈیا پرملاحظہ فرمائیں۔گو سیاسی و اقتصادی بحران ترکہ میں ملا۔مذہبی مناففرت کی آڑ میں نیا بحران،جس کی نشاندہی چوہدری فوادکر رہے ہیں، اسکی ذمہ داری بہرحال موجودہ حکومت کو لینا ہوگی کہ بھڑکانے، اس نہج تک پہنچانے میں تن من حاضر رکھا۔ 2018ء کے انتخابات میں PTI کے بیانیہ کا ایک حصہ یہی۔صد حیف !چار سالہ جاری سیاسی بحران رات دن محنت شاقہ سے ایجاد کیا ۔بالآخر سیاسی بحران کی کوکھ سے ملک کے بد ترین اقتصادی اور مفسدانہ و باغیانہ تفرقاتی بحرانوں نے جنم لیا۔حکومت100دن پورے کرنے کو، ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا ۔ سوار حکومت،گھوڑا بے قابو،لگام ہاتھ میں نہیں، پاؤں رکاب سے باہر ۔اے وطن تیرا اللہ حافظ۔فواد چوہدری کاحالیہ بیان ’’ جب تک ریاست برابری کا ماحول نہیں دے گی تب تک مسائل حل نہیں ہونگے ۔پاکستان میں ریاست’’ رائج الوقت دلیل‘‘ کے مقابلے میں’’اختلافی دلیل‘‘ کے لوگوں کو بچانے میں بے بس رہی۔پہلی دلیل والے مسلح جبکہ جوابی دلیل والے نہتے ‘‘۔نہیں معلوم،چوہدری فواد کس ریاست کو پکار،للکار رہے ہیں،مطالبہ کس سے؟

چند سال پہلے بین الاقوامی شہرت یافتہ سینئر صحافی اور ٹی وی اینکر حامد میر کا جسم 8گولیوں سے چھلنی ہوا۔جسے اللہ رکھے اُسے کون چکھے،حامد میر کو اللہ نے نئی زندگی بخشی۔ اس وقت کے وزیر اطلاعات پرویز رشید نے ملتے جلتے پیرائے میں حکومتی مؤقف دیا ’’ لیگی حکومت ’ غلیل والوں‘ کے ساتھ نہیں ’ دلیل والوں ‘ کے ساتھ ہے‘‘۔ دلیل والوں کا ساتھ دینے پر، پرویز رشید نشان عبرت بنے۔ حامد میر پر قاتلانہ حملہ کرنے والوں کا سراغ تو نہ ملا، ’’دلیل والوں ‘‘ کی حمایت پرویز رشید کو مہنگی پڑی۔وزارت چھوڑنا پڑی۔ جیل جانے سے بال بال بچے۔

آج مملکت خداداد اسلامیہ کا رائج الوقت دستورکیا جمہوری کہلانے کا مستحق ہے؟ پاکستان کا آئین اسلامی جمہوری، بمطابق قرآن و سنت ،جمہوری طور طریقوں پر چلنا تھا۔ حاکمیت ِاعلیٰ،اللہ تبارک کی بابرکت ذات، شوریٰ ( پارلیمان) نے سپریم رہنا تھا۔ سپریم کورٹ کا کام OVERSIGHTکہ تجاوزنہ رہے۔سپریم کورٹ کا محور ’’ بنیادی حقوق‘‘ کو یقینی بنانا تھا۔ آرٹیکل 184(3)سپریم کورٹ کولامحدود اختیارات دیتا ہے ۔ بڑی وجہ بنیادی حقوق (آرٹیکل 8تا 28) کی حفاظت اولین فرض ِمنصبی ہے۔ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ،بلاجواز گرفتاریاں، نظربندیاں،فیئر ٹرائل، جبری مشقت،ایک جرم میں دوسری دفعہ سزا کے خلاف تحفظ، شہری کی عزت نفس، وقار کی حفاظت،نقل و حرکت،اجتماعات،جلسہ جلوس، یو نین و پارٹی سازی میں آزادی سمیت آزادی ِ اظہاررائے ، تحریر،تقریر، میڈیا کی آزادی اہم ترین جزو۔تمام شہری قانون کے سامنے برابر،کسی خاص و عام شہری کوتاک تاک کر نشانہ بنانا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہی۔

آرٹیکل 10(A) فری اینڈ فیئر ٹرائل ہر شہری کے لیے یقینی بناتا ہے۔ نواز شریف کے نیب ٹرائل میں غیر روایتی طریقہ اپنایا گیا۔ امتیازی سلوک مستحکم رہا۔ ہر شہری کا بنیادی حق کہ آزادی سے اپنی مرضی کی سیاسی پارٹی چنے۔ الیکشن 2018ء سے مہینوں پہلے سیاستدانوں کو زبردستی پارٹیاں چھوڑنے اور ہانک ہانک کر دوسری پارٹیوں میں شمولیت کے لیے ہر طریقہ کار استعمال میں آیا۔بنیادی حقوق کی دن دہاڑے خلاف ورزیاں روز مرہ کا معمول بلکہ ریاستی دستور بن چکا ہے۔ فواد چوہدری صاحب کو اب پتہ چلا کہ ریاست کے اندر ایک طاقتور ریاست موجود ہے۔مذہبی منافرت اور مسلح جتھے (جسکی طرف فواد چوہدری صاحب کا اشارہ ہے) سامنے آئے۔آئین ایسوں پرقد غن لگاتا ہے۔اداروں نے صرفِ نظر رکھا۔ آج عفریت، چوہدری فواد کا گلا دبوچنے کو ۔لاہور NA120 کے ضمنی انتخاب میں لبیک پارٹی ہی تو تھی جس نے سیاسی منافرت پر الیکشن لڑا۔نیشنل ایکشن پلان کی نفی ، الیکشن کمیشن خاموش ۔ کلثوم نواز کو ہر حالت ہروانا ،مسلم لیگ ن کو صفحہ ہستی سے مٹانا قومی فریضہ سمجھا گیا۔ کامیاب نیٹ پریکٹس کے بعد لبیک پارٹی کو2018ء کے انتخابی ٹیسٹ میچ میںاتارا گیا۔24لاکھ ووٹرز نہیں،انتہاپسند اکٹھے کیے۔ آج24لاکھ کٹ مرنے والے ،زیادہ منظم ،ہمہ وقت دستیاب ہیں۔ کوئی ذمہ داری لے گا؟ 2018ء میں ن لیگ کی شکست و ریخت وطن عزیز کی سب سے بڑی ضرورت تھی،امن و امان جھونک ڈالا۔ فواد صاحب اب بھگتنے کو عارضہ نہ سمجھیںاور نہ ہی عارضی۔نفسا نفسی کا عالم سب سے زیادہ متاثر نظامِ عدل۔بڑی عدالتیں غصے میں نظر آتی ہیں۔ فیصلوں میں ذاتی ریمارکس ایسے کہ تذلیل و تحقیر عام۔ عزت نفس وقار مجروح۔کمزور کو کڑی سزائیں،طاقتوروں سے صرف نظر بلکہ ACCOMODATE کیا جا رہا ہے۔

دوران جنگ جب ایک کافرحضرت علی کرم اللہ وجہہ کی تلوار کی زد میں، عین جب گلا کاٹنے کوتھے کہ کافر نے منہ پر تھوک دیا۔عالی مرتبت مقام حضرت علی کرم اللہ وجہہ کافر کوچھوڑ دیتے ہیں کہ ذاتی انتقام کا گناہ گلے نہ پڑ جائے۔ سوچتا ہوں اگر قاضی غصہ،بغض ،عناد میں ہو تو انصاف کیسے کر پائے گا؟ انصاف کرنے والوں کو غصہ نہیں آنا چاہئے۔جبکہ غصہ ہمارے عدالتی نظام کا حصہ بن چکا۔

کیا ہم وطن عزیز کے نظام کی دوبارہ تشریح کرنے کو؟ تبدیلی نظام کی خاطر نئی تعبیر و تدبیر ڈھونڈ چکے ؟ کیاواردات، شخصی جمہوریت یا یک پارٹی حکومت قائم کرنے کے لیے؟بظاہرنئی نویلی حکومت موجود،نفسا نفسی کا عالم، نظام تتر بتر۔ تازہ بہ تازہ ،بنی گالہ تجاوزات کیس میں چیف جسٹس صاحب نے فرمایا کہ نیا پاکستان بنانے والوں کے پاس اہلیت نہ صلاحیت اور نہ ہی منصوبہ بندی۔ ’’سلیکٹ حکومت ‘‘پر سپریم کورٹ کی پھبتی جچتی ہے ۔وفاقی حکومت کا بے دست و پاہونا، ایک ڈراؤنا خواب۔ پنجاب میں طاقت کا سرچشمہ کہاں سے پھوٹتاہے؟ KPکا جمہوری نظام کون کنٹرول کر رہا ہے؟ بلوچستان کے اصل حکمران کون؟سندھ کی منتخب حکومت پچھلے 5سالوں سے اپنے صوبے میں در بدر کیوں؟۔ریورس انجینئرنگ سے وجود میں آئی حکومتیں ہر مقام پر حواس باختہ نظر آرہی ہیں۔کیا کبھی، کسی موقع پر،کسی ذہن میںبنگلہ دیش ماڈل پھب چکاتھا؟کیا بنگلہ دیش ماڈل کی کامیابی ہمیں ستا رہی ہے؟ بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کے ذریعے بھارت نے کٹھ پتلی حکومت قائم کر رکھی ہے۔اپوزیشن کو کامیابی سے تہس نہس کر کے عملاً فاشسٹ حکومت قائم ہے۔آج بھارت بنگلہ دیش سے اپنی فوجیں ہٹائے ،حسینہ واجدکا نظام دھڑام سے زمین بھوس رہے گا۔پاکستان کی صورت بالکل مختلف۔ فواد چوہدری صاحب کا مزیدکہنا کہ ’’ ریاست کو بے اثر کرنے والے مسلح ہیں،جبکہ جوابی دلیل والے نہتے ‘‘۔چوہدری صاحب نے ہمیں ڈرا دیا۔ بندوق کے زور پر ریاست کو کنٹرول میں لینا تباہی بربادی کے سوا کچھ نہیں۔ایسے کنٹرول کا اختتام خانہ جنگی اور افرا تفری۔وزیر اعظم،چوہدری فواد پاکستان اپنی مملکت میں بقلم خود APOLOGATIC ،وضاحتیں دے دے چُور ۔ یہی صورتحال طاقتور اداروں کی،ہراساں، وضاحتوں کا انبوہ لگا چکے ۔پچھلے دنوںوزیر اعظم کی متنازع تقریر نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ بڑے بڑے طاقتوروں کی سیٹی گم رہی۔جبکہ دلیل والے ،ریاست کو بذریعہ زور کنٹرول کرنے والے توانا دندناتے پھر رہے ہیں۔

سب نتیجہ کہ آئین اور قانون سے صرف نظر ہوا۔ مذہبی اور سیاسی منافرت پچھلے چار سال سے تندہی سے پروان چڑھائی گئی۔ چند سال پہلے اعلان خاص و عام اتنا’’شریف خاندان قصہ پارینہ سمجھو، مستقبل میں کہیں نہیں‘‘۔یاد رہے اس وقت عوامی رائے یکسر مختلف تھی، سارے سروے مسلم لیگ ن کو ساری پارٹیوں پر بڑے مارجن سے حاوی بتا رہے تھے جبکہ نواز شریف کو مقبول ترین رہنما بتلائے گئے۔ وطنی طول و عرض میں سارے ضمنی الیکشن میںمسلم لیگ ن کی بھاری اکثریت سے جیت نے مہر تصدیق ثبت کی۔نواز شریف کو اقتدار سے علیحدہ کر کے سارے خاندان کو پابند سلاسل کرنے کے باجود چین چھن چکا۔میرا تجسس اتنا کیا بنیادی حقوق سے محروم شریف خاندان کو زندہ دفنانامطمح نظر ہے۔۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف 70سالہ ملکی تاریخ کے سب سے کامیاب ،دیانتدار وزیر اعلیٰ،ترقیاتی معجزات دکھائے۔شہباز شریف اور بیٹوں پر عرصہ حیات کی تنگی کے بعدیہی حقیقت سامنے کہ نئے نظام کی کامیابی شریف خاندان کی مزید بیخ کنی سے جڑچکی تاکہ ’’سنجیاں ہو جان گلیاں تے وِچ مرزا یار پھرے ‘‘۔

مفروضہ اتنا شریف خاندان کے تیاپانچہ پر حکمرانی آسان رہنی ہے۔ حالات کا آغاز مخدوش، مقننہ، انتظامیہ ، عدلیہ ،سارے ادارے، سارے محکمے اپنا وقار و تکریم تیزی سے کھو رہے ہیں۔قوم اداروںپر منقسم۔ تنازعات،ناکامیاں، نا اہلیاں،خرابیاں نئے سے نئے بحران کو جنم دے رہی ہیں۔100دن پورے ہونے کو مثبت کارکردگی صفر بٹہ صفر۔کیا’’ نیا نظام ‘‘ ،نیا پاکستان بناپائے گا؟ نیاپاکستان کیسا ہوگا؟نئے پاکستان کا سوچ سوچ کر قوم لرزہ براندام،بند گلی میں ۔کون بچائے گا نظریاتی پاکستان؟

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں