آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر2؍ربیع الثانی 1440ھ 10؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نواز، مریم خود ساختہ خاموشی، خزاں کے پتے بنی اپوزیشن، حکومتی بونگیاں، کرپشن، احتساب، بحث زوروں پر تھی، اچانک میں نے حسن نثار صاحب سے پوچھ لیا ’’بڑوں نے اتنا کچھ جمع کر لیا، کیا جو پاس نہیں، ارب، کھرب پتی ہو گئے، پھر بھی پیٹ ہیں کہ بھر ہی نہیں رہے، کیوں؟‘‘ حسن نثار بولے ’’بھریں گے بھی نہیں‘‘ میں نے حیران ہوکر کہا ’’کیوں‘‘ کہنے لگے ’’اقتصادیات کا بنیادی اصول ’لاء آف مارجنل یوٹیلٹی‘ قانونِ افادۂ مختتم بتائے کہ کوئی شخص پیاس سے مر رہا ہو یا اتنا پیاسا ہو کہ ایک گلاس پانی کے بدلے وہ اپنی کل جمع پونجی دینے پر بھی تیار ہو جائے، تب بھی چار، 5گلاس پانی پینے کے بعد کہہ دے گا کہ بس، کوئی مزید پانی پلانا چاہے گا تو کہہ دے گا، بس بھائی بس، پہلے پیاس سے مر رہا تھا اب پانی پلا پلا کر مارنا ہے، اسی طرح کوئی اتنا بھوکا بھی ہو کہ مرنے کے قریب، آخری دموں پر، وہ ایک، دو، تین، ہو سکتاہے کہ 10روٹیاں بھی کھا لے مگر جب پیٹ بھر جائے گا، کوئی مزید کھانے کیلئے کہے گا تو جواب آئے گا حضور بس... بھو ک سے تو بچ گیا، کیا اب کھلا کھلا کر مارنا ہے‘‘۔

لیکن اقتصادیات کا یہ ’لاء آف مارجنل یوٹیلٹی‘ کلکٹرز مطلب جمع کرنے والوں پر آکر بالکل ہی الٹ ہو جائے، جیسے کوئی نوادرات جمع کرنے والا، 10ہزار نوادرات بھی جمع کر چکا ہو، 20ہزار نوادرات بھی اس کے پاس ہوں، تب بھی وہ رُکے گا نہیں، اور، اور کا چکر چلتا رہے گا، اسی طرح نایاب ٹکٹیں جمع کرنے والا، جتنی نایاب ٹکٹیں زیادہ ہوتی جائیں گی، اتنی ہی ٹکٹوں کی بھوک بڑھتی جائے گی، یہی حال دو لت collectorsکا، جتنی دولت آتی جائے گی، اتنی ہی دولت کی بھوک بڑھتی جائے گی، یعنی ’دا مور یو ہیو‘ ’دا میریئر یو وانٹ‘، کوئی حد نہیں، بندہ انسان سے حیوان، مگر پیٹ بھرنے کا کوئی چانس نہیں، الٹا پیٹ کا سائز بڑھتا رہے گا، لہٰذا ہمارے نو دولتیوں کا بھی یہی حال کہ سائیکل والوں نے جہاز لے لئے مگر ہوس ختم نہ ہوئی، جھونپڑی والے محلوں میں آ گئے مگر حرص نہ گئی۔

استادِ محترم کی تھیوری پر جوں جوں سوچا، توں توں doubtsکلیئر ہوئے، سوچ رہا زرداری صاحب کہاں سے چلے تھے، کہاں آگئے مگر مجال ہے کہ گاڑی کہیں رُک رہی ہو، ابھی دو دن پہلے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں چیف جسٹس، زرداری صاحب کے دستِ راست انور مجید سے مخاطب تھے ’’لانچوں سے بھیجے گئے پیسے واپس کر دیں، آپ کے گھر کے سامنے گھر، اس کے اندر گڑھا اور گڑھے سے جو کاغذات ملے، ہمیں اس کا بھی پتا اور دولت رحمت، اسے زحمت نہ بنائیں‘‘ اب زرداری صاحب سہارے کے بنا چل نہ پائیں، رات کو حفاظتی حصاروں کے بعد بھی اسلحہ رکھ کر سوئیں، انور مجید دو قدم چلنے سے قاصر مگر مجال ہے کہ کسی مرحلے پر بھی کوئی بولا ہو ’’غلطی ہو گئی‘‘، مجال ہے کسی کو کوئی پچھتاوا ہو، بات وہی کہ ’دا مور یو ہیو، دا میریئر یو وانٹ‘ لالچ ختم ہو رہا، نہ حرص وہ وس کا کوئی endاور نہ پیٹ بھر رہے، یہ سوچ آہی نہیں رہی کہ بندہ اس لئے نہیں کماتا کہ سکون نہ چین، رسوائی ہی رسوائی، یہ خیال آہی نہیں رہا کہ یہاں بچ بھی گئے تو اگلے جہان کیا بنے گا، وہاں تو ریکارڈ جلایا جا سکے گا نہ اصل کاغذات غائب کرائے جا سکیں گے۔

ہاؤس آف شریفس کو لے لیں، 69روزہ جیل، مزاحمت، بغاوت اور انقلاب سب غباروں سے ہوا نکال چکی، باپ، بیٹی ’چپ کر دڑ وَٹ جا‘ کی تصویر بنے بیٹھے، داماد کا اتا پتا ہی نہیں، دونوں بیٹے اور سمدھی اشتہاری، شہباز شریف نیب کی حراست میں، حمزہ، سلمان پیشیاں بھگت رہے، داماد مفرور، اللہ تعالیٰ نے کیا نہ دیا، عزت، شہرت، دولت، نام، مقام اور اللہ نے کتنے مواقع دیئے، اب سنبھل جاؤ، اب ہی سنبھل جاؤ، مگر خواہشات کا گھوڑا سرپٹ بھاگتا رہا، سب جانیں، مانیں کہ جانا ڈھائی گز کی قبر میں مگر کھڑے کر لئے 25پچیس ہزار کنال کے محل، بنا لیں 5پانچ براعظموں میں جائیدادیں، اتنا اکٹھا کر لیا کہ حساب دینا مشکل، اتنا جمع کر لیا کہ اگلی سات نسلیں صرف نوٹ کھائیں، پھر بھی ختم نہ ہو، لگ رہا کہ ان سب نے قیامت تک زندہ رہنا، ’میرے اثاثے ذرائع آمدنی سے زیادہ تو تمہیں اس سے کیا‘ جی بالکل! ہمیں اس سے کیا، ہماری کیا مجال، اوقات کہ پوچھ، جان سکیں، مگر آگے جا کر پوچھ لیا گیا تو کیا یہی کہیں گے کہ ’میرے اثاثے ذرائع آمدنی سے زیادہ تو تمہیں اس سے کیا‘ کیا یہ کہہ پائیں گے مگر بات وہی کہ ’دا مور یو ہیو، دا میریئر یو وانٹ‘ یہ پیٹ قبر کی مٹی ہی بھرے گی۔

اپنی تو گزر ہی جائے گی، اپنے بچوں، اگلی نسل کی فکر اور یہ فکر خوف میں تب بدلے، جب دیکھوں کہ عمران خان کے بعد تحریکِ انصاف پانی کا بلبلہ، پی پی اور بھٹو کا وارث بلاول جو ڈیڑھ ارب اثاثوں کا مالک، یہ الگ بحث کہ کیوں اثاثے اتنے سستے کہ اسلام آباد کی نواحی زمین آٹھ روپے فی مرلہ اور اسلام آباد کا گھر 20پچیس لاکھ بلکہ 70کلفٹن 40لاکھ کا، یہ رہنے دیں، یہ سنیں کہ کاغذاتِ نامزدگی بتائیں ارب پتی بلاول نے چار آنے کی خیرات بھی نہ کی، دل تو یہ بھی پوچھنے کو کر رہا کہ دس سال سے سندھ میں حکومت، بلاول کتنی بار تھر گئے، کیا مدد کی مرتی مخلوق کی، بس خوبصورت تقریریں کرے جا رہے، تھر میں بچے مرے جا رہے، صرف گزشتہ 11ماہ میں ساڑھے 5سو بچے مر چکے، اللہ بلاول کو خاندان سمیت اپنے حفظ و آمان میں رکھے مگر جب کوئی اپنا مرے تو لگ پتا جائے، تھر والوں کا قصور یہی کہ وہ کسی کے اپنے نہیں، ورنہ اپنوں کو کون بھوک اور بیماری کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہے، آگے سنئے مسلم لیگ کا مستقبل حمزہ اور مریم کے حوالے، یعنی آگے چل کر اقتدار ن لیگ کو ملا تو میرے بچوں کے حکمراں مریم اور حمزہ، اپنے کاغذاتِ نامزدگی کے مطابق 84کروڑ اثاثوں کی مالک مریم نواز کے بارے میں صرف ان کا یہی سچ کافی کہ ’’میری بیرونِ ملک تو کیا، اندورنِ ملک بھی کوئی جائیداد نہیں‘‘، حمزہ شہباز نے بحیثیت ڈپٹی وزیراعلیٰ گزشتہ 10سالوں میں کیا تیر چلائے، وہ سب کے سامنے۔

نہ سوچیں تو جیسا کل ویسا آج، نہ سوچیں تو امیر، غریب ایک دن سب کو ہی مر جانا لیکن سوچیں تو دکھ ہی دکھ، اندھیرا ہی اندھیرا، سوچیں تو ایک طرف عوام ’’ناکوں، دھماکوں اور فاقوں‘‘ والی فلم دیکھی جا رہے، دوسری طرف بڑوں نے ’’حال بچاؤ، آل بچاؤ اور مال بچاؤ‘‘ والی فلم چلا رکھی، ایک طرف انسان جانوروں سے بھی بدتر، دوسری طرف انسان بھگوان بنے بیٹھے، ایک طرف انصاف مل نہیں رہا، دوسری طرف انصاف ہو نہیں رہا، ایک طرف کوئی بول نہیں رہا، دوسری طرف کوئی سن نہیں رہا، ایک طرف لُٹ لُٹ، بھٹک بھٹک کر بھی کسی کو عقل نہ آئی، دوسری طرف لوٹ لوٹ کر اور بھٹکا بھٹکا کر بھی جی نہ بھرا، ایک طر ف پیٹ کے لالے پڑے ہوئے اور دوسری طرف ’دا مور یو ہیو، دا میریئر یو وانٹ‘ پھر سے چیف جسٹس یاد آجائیں ’’دولت تو رحمت، اسے زحمت کیوں بنا رہے، ذرا مقامِ عبرت تو ملاحظہ ہو کہ 22کروڑ کو زحمت میں ڈال کر ’رحمت‘ سمیٹنے والوں کیلئے آج وہی رحمت زحمت بنی ہوئی‘‘۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں