آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ16؍جمادی الاوّل 1440ھ 23؍جنوری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دائمی تنگی تنفس سے متعلق شعور و آگاہی کا عالمی دن آج منایا جا رہا ہے۔ دائمی تنگی تنفس کیا ہے اوریہ مرض کیسے پھیلتا ہے ؟

دائمی تنگی تنفس یعنی ’سی او پی ڈی ‘کی ابتدائی علامات میں سانس لینے میں دشواری ،مسلسل کھانسی ‘بلغم کا اخراج اور سانس پھولنا شامل ہیں۔ موسم سرما میں اس مرض میں اضافہ ہوتا ہے جس سےمریض کی حالت دن بدن بگڑتی جاتی ہے۔

دائمی تنگی تنفس کے ماہر ڈاکٹر ظفر اقبا ل کا کہنا ہے کہ دائمی تنگی تنفس دراصل پھیپھڑوں کی بیماری ہے جس کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ طبی ماہرین سگریٹ نوشی ،ماحولیاتی آلودگی، لکڑی، کوئلوں اور چمنیوں سے نکلنے والے دھوئیں کو اس مرض کی وجوہات بتاتے ہیں۔

محکمہ صحت کے اعداوشمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں دائمی تنگی تنفس کی بیماری میں ہرسال 20 فیصد کی شرح سے ا ضافہ ہو رہا ہے مردوں کی نسبت خواتین میں یہ بیماری زیادہ پائی جاتی ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق دائمی تنگی تنفس یعنی سانس کی بیماری لاعلاج مرض نہیں ہے اس بیماری کی روک تھام کے لیے سردیوں میں بروقت ویکسی نیشن کی جائے تو مریض کو افاقہ ہوسکتا ہے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں