آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار8؍ربیع الثانی 1440ھ 16 ؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لاہور(نمائندگان جنگ) فیض انٹرنیشنل فیسٹول کےدوسرے روز مختلف نشستوں کے دوران ادب، سیاست، صحافت، شاعری، موسیقی، ماحولیات سمیت دیگر موضوعات پر معروف شخصیات نے اظہار خیال کیا، فیسٹول کا آج آخری روز ہے،گزشتہ روز29سیشن ہوئے، فیسٹول میں ایک خصوصی نشست کے دوران عاصمہ جہانگیر اور منو بھائی کی خدمات کو بھرپور خراجعقیدت پیش کیا گیا، اس موقع پرجاوید اخترنے کہا کہ اردو زبان انتہائی مشکل ہے، 12 سال کی عمر میں اچھی شاعری کی سمجھ آچکی تھی،امجد اسلام امجد نے کہا کہ پرائمری نصاب میں اردو شاعری شامل کی جائے، اس موقع پر حامد میر، وسعت اللہ خان اور دیگر نے بھی اظہار خیال کیا۔’’محبت کی زبان ‘‘کے عنوان سے منعقدہ پہلے سیشن کی میزبانی عنبرین صلاح الدین نے کی جبکہ پینلسٹ عالمی شہرت یافتہ شاعر جاوید اختر اور امجد اسلام امجد تھے۔ مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے جاوید اختر نے کہا کہ اردو زبان انتہائی مشکل ہے، 12 سال کی عمر میں اچھی شاعری کی سمجھ آچکی تھی، اس کے باوجود کافی برس تک شعر کہنے کی ہمت نہ ہوئی،

شاعر کو کبھی کبھی کڑوی بات بھی کہنی چاہئیں، اشعار سے لوگوں کے ایمان بدل جاتے ہیں اس پر مجھے اعتراض ہے،انہوں نے کہا کہ انگریزی زبان کےغلبے پر اعتراض نہیں بلکہ افسوس یہ ہے کہ یہ غلبہ ہماری مادری زبان کی قیمت پر ہوا ہے،خوشحالی پانے کی دوڑ میں نئی نسل ادب کے پلیٹ فارم پر اپنا سامان یعنی تہذیب، ثقافت اور ادب پیچھے چھوڑ آئی ہے، اردو شاعری کا دوسری زبان میں ترجمہ کرنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انھوں نےکہا کہ یہ ایسا ہی ہے کہ جتنی مرضی احتیاط کریں ایک شیشی سے دوسری میں منتقل کرتے ہوئے عطر کا گر کر ضائع ہونا لازم ہے۔ جاوید اختر نے کہا کہ شاعری محبت کی زبان ہے ۔ اختتام پر اگلے سال آنے کا وعدہ کرتے ہوئے جاوید اختر نے اپنی نظم ’’آنسو ‘‘سنائی ۔ امجد اسلام امجد نے کہا کہ اردو میں کوئی تو کشش ہے کہ نوجوانوں کی اتنی بڑی تعداد فیسٹول میں آئی ہے، جاوید اختر کے مکالمے کے جواب میں امجد اسلام امجد نے کہاکہ ضمیر کی آواز گناہوں سے رک نہیں پاتی البتہ گناہ کا مزا خراب کردیتی ہے۔ انہوںنے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ پرائمری نصاب میں اردو شاعری کو شامل کرکے بچپن ہی سے بچوں کی ذہنی آبیاری کی جائے۔ اختتام پر امجد اسلام امجد نے اپنی نظم ’’اگر میری یاد آئے ‘‘سنا کر حاضرین سے خوب داد سمیٹی ۔’’صحافت میں سیاست ‘‘کے عنوان سے منعقدہ سیشن میں میزبان حامد میر کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے معروف کالم نگار وسعت اللہ خان نے کہا کہ تحقیقاتی صحافت موت کے منہ میں ہاتھ ڈالنے کے برابر ہے،کو ن اصل میں نان اسٹیٹ ایکٹر یا اسٹیٹ ایکٹر ہےاور کون کس کے پیچھے کھڑا ہےیہ جاننا ضروری ہے، تزویراتی لیکس کا زمانہ آچکا ہے، آج کے دور میںسچ اچھا ہے لیکن زیادہ اچھا یہ ہے کہ بولے کوئی دوسرا اور مرے کوئی اور ۔عامر لیاقت بننا آسان نہیں اس کیلئے ایک انچ کی کھال ہونی چاہیے۔ انہوںنے کہا کہ یوٹرن کے بیان کو قائداعظم کے ترازو پر تولیںتو کہا جاسکتا ہے کہ خان صاحب تو سیاستدان ہی نہیں ہیں، آج کے دور کا موازنہ کرتا ہوں تو ضیا الحق کا زمانہ اچھا لگتا ہے یعنی بقول شاعر ’خوف کا حد سے گزر جانا ہے دوا ہوجانا‘ ۔فیک نیوز تو ہماری روٹی روزی ہےاسے غنیمت جانا جائےاسکی بدولت ہمارا چولہا جل رہا ہے،سنسر شپ کا اعلیٰ ترین درجہ صحافت کا قتل ہے،صحافت کو زنجیریں پہنانے کے بعد معاشرے کو جنگجو بنانے کی کوشش جاری ہے۔سمجھ سے باہر ہے کہ یہ کہاں لیجانے کی کوشش ہورہی ہے ۔اس کے جواب میں حامد میر نے کہا شاید یہ چاہتے ہیں کہ یوٹرن پر سوال نہ اٹھایا جائے،نوجوانوں کو مشورہ بلکہ متنبہ کرتا ہوں کہ وہ بالکل بھی صحافت میں نہ آئیں۔صحافی کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود کو زندہ رکھے آدمی کو مرتے دم تک زندہ رہنا چاہیے۔حامد میر نے کہا کہ صحافی کا کام توازن قائم کرنا نہیں اور نہ ہی وہ حقائق کے بیان پر کبھی نیوٹرل ہو سکتا ہے وہ تو صرف سچ بیان کرتا ہے،جھوٹی خبروں سے سیاست اور صحافت دونوں خطرے میں ہیں۔ صحافی برادری کو اکٹھا ہونا ہوگا جس طرح امریکی میڈیا ٹرمپ کے خلاف اکٹھا ہوا ہے۔ ماروی سرمد نے کہا کہ دنیا بلیک اینڈ وائیٹ نہیں تو سیاست کو بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے۔’’میٹ دی آتھر:بورن ٹو بی ہینگڈ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ پینل ڈسکشن میں گفتگو اور بعدازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پیپلز پارٹی رہنما اورمعروف قانون دان اعتزاز احسن نے کہا کہ فیض فیسٹول سے بردباری، برداشت، بھائی چارے اور برابری کو فروغ ملے گا۔ فیض کا پیغام اور شاعری برابری اور بھائی چارے کا پرچار ہے۔ ’’نور کی لہر ‘‘ کے عنوان سے دوسرے سیشن کے پینلسٹس میں اداکار عمران عباس ،احمد علی بٹ ، سلیمہ ہاشمی اور این سی اے کے ماجد سعید خان شریک تھے۔میزبانی میرا ہاشمی نے کی۔ سیشن ’’سحر کا روشن افق ‘‘میں عصمت رضا شاہجہان نے کہاکہ ٹی وی اینکر ز خود کو دانشور سمجھتے ہیں ۔’’ہر اک اولیٰ الامر کو صدادو‘‘ کے عنوان سے ہونے والی کی شام کی نشست میں میزبان نسیم زہرہ کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نےکہا کہ تعلیم کی کمی وعدوں کی تکمیل نہ ہونادہشت گردی کی بڑی وجہ ہے۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں مشترکہ لائحہ عمل اپنائیں۔ شائستہ پرویز ملک ، پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر اور اے این پی کے افراسیاب خٹک نے خطاب کیا۔ تقریب میں سینیٹر رضا ربانی مصروفیات کے باعث شریک نہ ہو سکے۔ واسع چوہدری کی میزبانی میں منعقدہ سیشن ’’ ماضی سے (بے) حال تک ‘‘ میں اداکار سہیل احمد نے اپنے فنی سفر پر گفتگو کی ۔طفیل نیازی کی یاد میں منعقدہ سیشن میں جاوید نیاازی، بابر نیازی اور ارشد محمود نے اظہار خیال کیا ۔’’کہانی بذریعہ ڈانس ‘‘کی ورکشاپ کا انعقاد ہوا۔شاعری اور پیانو کے عنوان پر منعقدہ سیشن میں عدیل ہاشمی نے اپنےخیالات کا اظہار کیا ۔ الحمرا میوزک کلاس کے سٹوڈنٹس نے گائیکی،ڈرم سرکل نے ڈھول کی ترنگ،لعل بینڈ نے ساز کا رنگ جبکہ سنگت پروڈکشن سمیت مختلف سکولوں کے بچوں نے مختلف موضوعات پر ڈانس پرفارمنس پیش کی۔ دریں اثناء شبانہ اعظمی اورجاوید اختر فیض فیسٹول میں شرکت کےبعد واہگہ کے راستے واپس بھارت روانہ ہوگئے ۔ دونوں کو واہگہ بارڈر پر منیزہ ہاشمی اور دیگر منتظمین نے الوداع کیا۔ فیض فیسٹول میں موسیقی کا مظاہرہ بھی کیا گیا جبکہ کتابوں اور کھانوں کے سٹالوں پر شرکا کی بڑی تعداد موجود تھی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں