آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 7؍ربیع الثانی 1440ھ 15 ؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بیجنگ (جنگ نیوز) چائنا اکانامک نیٹ (سی ای این) اور پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ (پی سی آئی) نے اسلام آباد میں چینی سفارتخانے کے تعاون سے مشترکہ طور پر چوتھے سی پیک میڈیا فورم کا انعقاد کیاجس کا اختتام آج بیجنگ میں ہوا۔ فورم کا مقصد سی پیک سے متعلق صحیح معلومات فراہم کرنا اور مفاد پرست عناصر کی جانب سے پھیلائے جانیوالے منفی تاثرات کے خلاف مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنا ہے۔ اجلاس میں پی سی آئی کے چیئرمین اور سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے سینیٹر مشاہد حسین سید کی قیادت میں 12رکنی وفد نے شرکت کی۔ چین کیلئے پاکستان کے سفیر مسعود خلیل نے ابتدائی کلمات ادا کئے جس میں انہوں نے وزیراعظم کے دورہ چین کے بعد سی پیک کے حوالے سے نئی حکومت کا موقف سامنے رکھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کےچین کے دورے میں چاراہم کامیابیاں ملیں۔ دونوں ممالک نے سی پیک پر ہونیوالی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا، دونوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ منصوبہ مکمل کیا جائیگا، اس کے ساتھ ساتھ ملازمتوں کے مواقع پیدا کئے جائیں گے، عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دی جائیگی اور صعنتی ترقی پر توجہ مرکوز رکھی جائیگی۔ دونوں ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ سی پیک کی تعمیر کی اگلے مرحلے پر ترقی کیلئے کام کیا جائے اور اس حوالے سے بیجنگ میں ہونیوالے مشترکہ تعاون

کمیٹی کے اجلاس میں فیصلے کئے جائیں گے۔ دونوں ممالک نے اس امر بھی اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے وزارت خارجہ کے تعاون سے سیاسی ورکنگ گروپ کے ساتھ ساتھ سماجی بہبود ترقی کا ورکنگ گروپ بھی بنایا جائے گا۔ پاکستانی سفیر نے سی پیک کے حوالے سے درست معلومات کی فراہمی کیلئے میڈیا کے کردار پر بھی زور ڈالا اور کہا کہ دونوں ممالک کے میڈیا کے درمیان زیادہ رابطوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا ہمیں سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں کو منفی پروپگینڈے حفاظت کرنی چاہیے۔ پی سی آئی کے چیئرمین اور سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے سینیٹر مشاہد حسین سید نے اس موقع پر چین کی پر امن ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی معاشی اور سیاسی طاقت کے توازن میں مغرب سے مشرق کی جانب تبدیلی آئی ہے، اور چین کا پر امن تریقےسے ابھرنا ترقی پذیر ممالک کیلئے متاثر کن ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ اب ایک عظیم تر منصوبے میں تبدیل ہوچکا ہے جو جنوبی ایشیا، وسط ایشیا، چین، ایران اور افغانستان کی معیشتوں اور توانی پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ون بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ ایک نئی دنیا کی طرف دروازے کھول رہا ہے جبکہ سی پیک پہلے ہی کامیاب ثابت ہو چکا ہے کیونکہ یہ ون بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ کا پائلٹ منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ جو کہ سی پیک میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، اب فعال بندرگاہ ہے اور اس سے صرف پاکستان نہیں بلکہ سارا علاقہ مستفید ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک نے بلا مبالغہ پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح میں اہم کردار ادا کیا ہے جو باہمی استفادے کا حامل منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ایک دہائی میں معاشی ترقی کی بلند ترین شرح 5.8فیصد سی پیک کی بدولت حاصل ہوئی۔ اس کے علاوہ مغربی روٹ کے ذریعے کوئٹہ کو گوادر سے 8گھنٹے کی مسافت سے ملاتا ہے۔ پاکستان کی دیرینہ توانائی کا مسئلہ حل ہوچکا ہےجبکہ سی پیک شروع ہونے کے بعد سے اضافی 10ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ تھر میں کان کنی جاری ہے اور کوئلے سے بجلی پیدا کی جارہی ہے۔ میڈیا کے کردار کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج ہم پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ اور چائنا اکانامک نیٹ کے تعاون سے معلومات کے تیز ترین رد عمل کا میکانزم بنانے کی کوشش کررہے ہیں، اور اس حوالے سے سی پیک اور روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے کے مقبول ویب سائٹس بھی موجود ہیں۔ سابق وزیراطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے انسداد دہشت گردی اور انتہا پسندی پر زور دیاتاکہ سی پیک کی ترقی کیلئے سازگار ماحول پیدا کیا جاسکے۔ سابق رکن اسمبلی ڈاکٹر شیزرا منصب علی کھرل نے سی پیک کے حوالے سے خواتین کے کردار پر روشنی ڈالی اور خواتین کی ملازمت، تھر منصوبے میں انہیں بااختیار بنانےکا ذکر کیا جہاں وہ بطور ٹرک ڈرائیور کام کرتی ہیں۔ افتتاحی اجلاس میں تقاریر کے بعد انعام دینے کی تقریب منعقد ہوئی جسے سی پیک کمیونیکشن گولڈن اینکر ایوارڈ کا نام دیا گیا اور جس کی جیوری پاکستانی اور چینی اراکین پر مشتمل تھی۔ جیتنے والوں کو پاکستانی سفیر مسعود خلیل نے سی پیک کے حوالے سے بہترین رپورٹنگ پر انعامات دئے۔اس موقع پر پی سی آئی نے ریپڈ ریسپانس انفارمیشن ایکس چینج نیٹ ورک (آر آر آئی این این) کے قیام کا اعلان کیا جو تین جہتوں پر کام کرے گی۔ منفیت کا تدارک، سی پیک پر چین کی طرف سے دی جانیوالی معاونت کا دوسروں سے تقابل کیونکہ سی پیک پر کوئی سیاست نہیں، اور پاکستان اور چینی میڈیا میں روابط، جس کے ذریعے حقائق پر مبنی بروقت معلومات کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے گی۔ پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مصطفی حیدر سید نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سی پیک میڈیا فورم کو پاک چین تعاون کی چمکدار مثال قرار دیا۔ سی پیک اور پاک چین میڈیا تعاون، معلومات کے تبادلے کو مضبوط بنانا، اور حقائق پر مبنی مثبت معلومات کی فراہمی سے متعلق امور پر یہ اجلاس اختتام پذیر ہوا جہاں پاکستان اور چین کی میڈیا صنعت سے وابسطہ افراد نے شرکت کی۔ اجلاس میں پرنٹ، الیکٹرونک اور ڈیجٹل میڈیا کے سینیئر صحافیوں ، حکومتی اراکین، چین کی کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ عہدیدار، اراکین پارلیمنٹ، تعلیمی اداروں اور طلبا نے شرکت کی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں