آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍رجب المرجب 1440ھ 19؍مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہمارے بہت پیارے منو بھائی نے فیض احمد فیضؔ کے بارے میں اپنی ایک پنجابی نظم کا عنوان رکھا تھا ’’نعرہ حق دا، ضد منصور والی‘‘۔ فیض صاحب کی حق گوئی میں منصور والی ضد نہ ہوتی تو وہ ایک عظیم شاعر نہیں بن سکتے تھے۔ اس سال فیض فائونڈیشن ٹرسٹ نے الحمراء لاہور میں 16سے 18نومبر تک فیض انٹرنیشنل فیسٹول میں صرف فیض صاحب کی یادوں کے چراغ نہیں جلائے بلکہ کچھ ایسے لوگوں کو بھی یاد کیا جن میں منصور والی ضد تھی۔ 17نومبر کی سہ پہر ایک سیشن منو بھائی اور عاصمہ جہانگیر کے متعلق تھا جس میں اس ناچیز کو بھی اظہارِ خیال کا موقع ملا۔ ایک اور سیشن ’’صحافت میں سیاست‘‘ کے متعلق تھا اور اس کی میزبانی میرے سپرد تھی، اس سیشن میں وسعت اللہ خان اور ماروی سرمد کے ساتھ گفتگو کے دوران سیاست میں یوٹرن کا ذکر آ گیا اور حاضرینِ محفل نے قہقہے لگانا شروع کر دیئے۔ منصور والی ضد اور یوٹرن کا تقابلی جائزہ شروع ہو گیا تو وسعت اللہ خان گویا ہوئے کہ اگر قائداعظمؒ محمد علی جناحؒ بھی یوٹرن والے ہوتے تو شاید پاکستان ہی نہ بن پاتا۔ یوٹرن کے حق میں ایک دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ قائداعظمؒ پہلے ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے، بعد میں مسلمانوں کی علیحدہ مملکت کے حامی بن گئے، علامہ اقبالؒ نے بھی کہا تھا ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘ بعد میں کہا ’’مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا‘‘ تو کیا یہ بھی یوٹرن نہیں تھا؟ افسوس کے علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ کی جدوجہدِ آزادی کو ان کی سیاسی بے اصولیوں سے ملا کر انتہا درجے کی سنگدلی اور مفاد پرستی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ قائداعظم ؒاقتدار کیلئے جدوجہد نہیں کر رہے تھے انہیں متحدہ ہندوستان کے اقتدار میں حصہ پیش بھی کیا گیا، انہوں نے انکار کر دیا۔ وہ تو پاکستان کیلئے جدوجہد کر رہے تھے اور پاکستان کا حصول منصور والی ضد کے بغیر ممکن نہ تھا۔ فیض انٹرنیشنل فیسٹول میں پنجاب کے وزیرِ اطلاعات فیاض الحسن چوہان سے بھی ملاقات ہوئی اور ہم نے یوٹرن کا ذکر چھیڑ دیا لیکن چوہان صاحب نے تجاہلِ عارفانہ سے کام لیتے ہوئے یوٹرن کو نظرانداز کر دیا۔ یوٹرن کا دفاع کرنے کے بجائے اس معاملے پر تجاہلِ عارفانہ ہی بہتر ہے۔

فیض فیسٹول میں بھارت سے آئے مشہور شاعر جاوید اختر سے بھی ملاقات ہوئی۔ پچھلے دنوں بی جے پی اور آر ایس ایس نے شیرِ میسور ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش منانے کی مخالفت کی تو جاوید اختر نے خاموش رہنے کے بجائے ٹیپو سلطان کا بھرپور دفاع کیا۔ ٹیپو سلطان ایک ایسا شجیع حکمران تھا جو نپولین کا اتحادی سمجھا جاتا تھا۔ وہ چاہتا تو برطانوی سرکار کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کرکے اپنا اقتدار بچا سکتا تھا لیکن ٹیپو سلطان کیلئے دوستی کے نام پر برطانیہ کی غلامی قابل قبول نہ تھی۔ انہوں نے یوٹرن لینے کی بجائے یہ کہا کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔ اس ایک جملے میں آپ کو منصور والی ضد نظر آتی ہے اور اسی جملے کے باعث ٹیپو سلطان کا نام تاقیامت زندہ رہے گا۔ میں نے ٹیپو سلطان کا دفاع کرنے پر جاوید اختر کا شکریہ ادا کیا۔ اصغر ندیم سید نے انہیں میرے گزشتہ کالم کے متعلق بتایا جس میں ٹیپو سلطان کے دفاع پر ان کی تحسین کی گئی تھی۔ 16نومبر کے کالم میں یہ افسوس ظاہر کیا گیا تھا کہ بھارت میں ہندو انتہا پسند ٹیپو سلطان کے بارے میں دروغ گوئی کرتے ہیں اور پاکستان میں کچھ لبرل اور سیکولر دانشور علامہ اقبالؒ کے درپے رہتے ہیں اور تنقید کے نام پر جھوٹے الزامات لگانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ فیض فیسٹول میں ایک طالبہ نے گزشتہ کالم کے حوالے سے پوچھا کہ آپ نے لکھا فیض صاحب نے ہمیشہ علامہ اقبالؒ کا دفاع کیا تو کسی ایسی کتاب کا نام بتائیں جس میں فیض صاحب کا یہ دفاع موجود ہے۔ میں نے اس طالبہ کو بتایا کہ ڈاکٹر سید تقی عابدی کی کتاب ’’فیض شناسی‘‘ میں فیض صاحب کے بہت سے انٹرویوز اکٹھے کر دیئے گئے ہیں جن میں فیض نے علامہ اقبالؒ کو اس دور کا آخری مفکر قرار دیا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلے کے لئے فیض صاحب کے والد نے علامہ اقبالؒ سے سفارشی رقعہ لیا تھا، فیض صاحب یہ رقعہ لے کر قاضی فضل حق کے پاس گئے جو گورنمنٹ کالج میں فارسی کے استاد تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہور (یونیورسٹی) میں ایک سالانہ مشاعرہ ہوا جس کا عنوان تھا ’’اقبال‘‘۔ فیض صاحب کی نظم کو پہلا انعام ملا پھر صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کے اصرار پر فیض نے یہ نظم اقبالؒ کے حضور پیش بھی کی۔ میں طالبہ کو یہ بتا ہی رہا تھا کہ ایک نوجوان بولا: آپ جس کتاب کا ذکر کر رہے ہیں وہ سامنے بک اسٹال پر موجود ہے۔ اس کتاب میں ڈاکٹر تقی عابدی نے ’’پیامِ مشرق‘‘ میں علامہ اقبالؒ کی فارسی نظموں کو شامل کیا ہے جن کا اردو ترجمہ فیض صاحب نے کیا۔ اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ 1976ء میں علامہ اقبالؒ کا صد سالہ یوم ولادت منایا گیا اور اسی سلسلے میں فیض صاحب نے علامہ اقبالؒ کی فارسی شاعری کا اردو ترجمہ شروع کر دیا۔ آغا ناصر نے فیض صاحب کو کہا کہ آپ تو خود علامہ اقبالؒ کے ہم پلہ شاعر ہیں، آپ کو اپنا تخلیقی جوہر ترجموں میں ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ احمد فراز بھی آغا ناصر کے ہم خیال تھے لیکن فیض صاحب نے دونوں سے کہا کہ ’’پیامِ مشرق‘‘ تو ہمارے مطلب کی شاعری ہے، ہم اس کا اردو ترجمہ ضرور کریں گے۔ پھر انہوں نے ترجمہ مکمل کیا اور آغا ناصر کو اپنے گھر بلا کر سنایا۔ ہماری خوش قسمتی دیکھئے کہ یہ سب باتیں جس کتاب میں موجود ہیں اس کے مصنف ڈاکٹر تقی عابدی بھی فیض فیسٹیول میں نظر آگئے اور مجھے ان کے ساتھ مصافحے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔

فیض صاحب کی علامہ اقبالؒ سے محبت کی ایک گواہی ڈاکٹر ایوب مرزا نے بھی دی ہے ’’ہم کہ ٹھہرے اجنبی‘‘ میں لکھتے ہیں کہ 1949ء میں احمد ندیم قاسمی انجمنِ ترقی پسند مصنفین کے سیکرٹری تھے۔ حکم ہوا علامہ اقبال، عصمت چغتائی، منٹو اور ن۔م راشد کی مذمت کی جائے کیونکہ یہ ترقی پسندوں کی کسوٹی پر پورے نہیں اترتے۔ فیض صاحب نے کہا یہ بک بک ہے، علامہ اقبالؒ نے سامراج اور جاگیرداروں کے خلاف بہت کچھ کہا۔ یہی قصہ منٹو کے بارے میں تھا۔ فیض صاحب نے اقبالؒ کے بارے میں یوٹرن لینے سے انکار کر دیا۔ پھر ایک روز مظہر علی خان کے گیراج میں انجمن کی میٹنگ ہوئی جس کی صدارت صفدر میر نے کی۔ قاسمی صاحب نے علامہ اقبالؒ کے خلاف مقالہ پڑھا تو فیض صاحب نے اس مقالے کو بےمعنی انتہا پسندی قرار دے دیا اور پھر انجمن کی محفلوں میں شریک نہیں ہوئے اور کہا ’’بول کہ لب آزاد ہیں تیرے‘‘۔

علامہ اقبالؒ کے بارے میں کچھ ترقی پسندوں کی بے معنی انتہا پسندی کو فیض نے مسترد کردیا تھا اور اس انتہا پسندی کو آج بھی ببانگ دہل مسترد کیا جانا چاہیے۔ 15نومبر کے کالم میں اسی انتہا پسندی کا ذکر تھا جس پر مجھے پروفیسر فتح محمد ملک صاحب کا خط ملا ہے۔ وہ بھی دی نیوز میں 9نومبر کو شائع ہونے والا ایک مضمون پڑھ کر دنگ رہ گئے جس کا جواب میں نے ’’فکری آلودگی‘‘ کے عنوان سے دیا۔ ملک صاحب نے لکھا کہ مضمون نگار محترمہ کو سوویت روس کے مارکسی نقادوں سے یہ گلہ ہے کہ انہوں نے اپنے نظریات کی روشنی میں اقبالؒ کو روشن خیال شاعر اور انقلابی فلسفی کیوں قرار دیا؟ محترمہ ان دانشوروں سے بھی ناراض ہیں جو اقبالؒ کی تعبیر اسلام کو اسلام کی سچی تفسیر قرار دیتے ہیں۔ انہیں اس بات کا بہت دیکھ ہے کہ اقبالؒ ملائیت کے بجائے حقیقی اسلام کے ترجمان کیوں ہیں؟ آپ نے ان تمام سوالات کے تشفی بخش جواب پیش کرکے اقبالؒ کے فلسفہ و شعر کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ ملک صاحب کی حوصلہ افزائی کا شکریہ۔ اگر فیض صاحب نے ترقی پسندی کے نام پر اقبالؒ کے بارے میں یوٹرن لینے سے انکار کر دیا تو ہم کیسے یوٹرن لے سکتے ہیں؟ تبدیلی اور انقلاب کے پیامبر منصور والی ضد پر قائم رہ کر دار پر چڑھ جاتے ہیں اور تاریخ میں نپولین یا ہٹلر بن کر نہیں ٹیپو سلطان بن کر زندہ رہتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں