• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زرداری جیسے لیڈروں کے جیل جانے سے کچھ فرق نہیں پڑتا، فواد چوہدری

اسلام آباد،دینہ (نمائندہ جنگ) وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی خواہش ہے کہ این آر او مل جائے لیکن عمران خان کبھی این آر او نہیں دیں گے، آصف زرداری جیسے لیڈروں کے جیل جانے سے کچھ فرق نہیں پڑتا، جنکے پاس سائیکل تھی، وہ آج بڑی بڑی گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں، پوچھیں تو جمہوریت خطرے میں آجاتی ہے، پرویز الٰہی، بزدار آمنے سامنے آئے تو وزیر اعلی کا ساتھ دینگے، وزیر اعظم 29نومبر کو قوم سے خطاب کرینگے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام ʼجیو پارلیمنٹ میں میزبان ارشد وحید چوہدری سے گفتگو اور ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہر چیز کو کارپٹ کے نیچے ڈالنے کا کلچر بن گیا ہے، اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے کرپشن پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔ انہوں نے اپوزیشن جماعت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ نیب میں موجودہ حکومت نے ایک چپڑاسی تک نہیں لگایا، اگر یہ کہیں کہ حکومت کرپشن کیسز کی پیروی نہ کرے تو یہ ناممکن ہے۔ جعلی اکاؤنٹس کے بارے میں سپریم کورٹ کو حکومتی تحقیقات سے بھی آگاہ کریں گے، آصف زرداری کو اندازہ ہی نہیں کہ وہ عوام میں کتنے غیر مقبول ہیں، آصف زرداری سمیت دیگر کے جیل جانے سے کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ فواد چوہدری نے کہا کہ پرویز الٰہی اور عثمان بزدار آمنے سامنے آئے تو ہم عثمان بزدار کے ساتھ ہونگے۔ دھرنے والوں سے معاہدہ حالات پر امن رکھنے کیلئے کیا، بات چیت کے دوران کچھ لو اور کچھ دو کرنا پڑتا ہے۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کیلئے پارلیمانی کمیٹی صرف بات چیت شروع کرنے کیلئے بنائی ہے۔ حکومت کے 100 دن پورے ہونے پر وزیراعظم 29 نومبر کو قوم کو اعتماد میں لیں گے، اچھی ٹیم ملنے تک افسران کی ٹرانسفرز پوسٹنگز ہوتی رہیں گی اور وزراء کو کارکردگی پر ہٹانا وزیراعظم کا استحقاق ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ آسیہ بی بی پاکستان میں ہے اور ہم عدالت کے فیصلے کے ساتھ کھڑے ہیں، خوش قسمتی ہے تمام ریاستی ادارے ایک صفحے پر ہیں۔ علاوہ ازیں ڈومیلی میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئےفوادچوہدری نے کہا کہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ کوئی نہ پوچھے کہ 10 سال میں اربوں روپے کہاں گئے، جب کرپشن کی طرف توجہ دلائو اور ڈاکوئوں کو نہ چھوڑنے کی بات کرو تو اپوزیشن واک آئوٹ کر جاتی ہے، جو کل تک سائیکل پر سفر کرتے تھے وہ آج بڑی بڑی گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں،کھربوں کا حساب مانگنے پر جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے، عوام کو پینے کا پانی میسر نہیں اور حکمران میٹرو بناتے رہے،ہمارے تعلیمی اداروں میں بچوں کو انگریزی پڑھانے والا استاد نہیں جبکہ سابق حکمرانوں کے بچے لندن اور امریکہ میں پڑھ رہے ہیں،جن لوگوں نے خزانہ خالی کیا ان سے پیسے واپس لائیں گے، ہماری عزت عوام سے ہے اور عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ 15سو ارب روپے بلوچستان گئے مگر بلوچستان میں کوئی ڈھنگ کا ہسپتال موجود نہیں ، پچھلے10دس سالوں میں خرچ ہونیوالے کھربوں روپے کہاں گئے، عوام کی نمائندگی نہ کرنیوالی پارلیمنٹ کیسے چل سکتی ہے،پارلیمنٹ ایسے چلائی گئی تو ملک نہیں چلے گا۔

تازہ ترین