آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات5؍ ربیع الثانی 1440ھ 13؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

واشنگٹن : جیمز پولیٹی اور

دیمتیری سیواستپولو

وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ سطح کے مشیروں نے چین کے ساتھ دہانی گیر کو ختم کرنے کیلئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دباؤ میں لانے کی کوشش کا عالمیت پسند ارب پتیوں پر الزام لگایا ہے،انہوں نے کہا کہ ان کی بیجنگ کیلئے شٹل ڈپلومیسی کا مطلب ہے کہ کسی بھی وقفہ کے ارد گرد ناگواریت ہوگی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتصادی مشیروں کے حلقے میں چین کے سب سے نمایاں شکاری پیٹر نوارو نے وال اسٹریٹ پر زور دیا کہ وہ مذاکرات سے باہر نکلیں اور خبردار کیا کہ اس ماہ ارجینٹینا میں ہونے والی جی 20سربراہی کانفرنس کے دوران ژی جنگ پنگ کے ساتھ صدر ٹرمپ کی ملاقات میں کوئی معاہدہ طے پاتا ہےتواسے گولڈ مین ساشے کی توثیق حاصل ہوگی۔

پیٹر نوارو کا جمعہ کو حملہ چینی حکومت کے وال اسٹریٹ کے چند سب سے نمایاں سرمایہ کاروں کو چین کے طاقتور نائب صدر وانگ قشان کے ساتھ مذاکرات بیجنگ آنے کی دعوت کے دو ماہ بعد سامنے آیا ہے،یہ واشنگٹن کے ساتھ تجارتی کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں کا ایک حصہ ہے۔

بلیک اسٹون کے چیف ایگزیکٹو اسٹیفن شوارزمن ان میں شامل ہیں جنہیں مدعو کیا گیا،انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ سمیت دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام تک رسائی کے ساتھ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان ایک اہم چینل کے طور پر خدمات انجام دی ہیں۔ اسٹیفن شوارزمین کے تبصرے کیلئے ان تک رسائی نہیں ہوسکی۔

امریکی سابق وزیر خزانہ اور گولڈ مین ساشے کے چیف ہینری پاؤل سن، اور گولڈ مین ساشے کے سابق صدر اورتنگ ہوا یونیورسٹی میں پروفیسر جان تھورنٹن نے بھی دونوں ممالک کے درمیان بااعتماد مصالحت کاروں کے طور پر خدمات ست انجام دی ہیں۔ چینی حکام کے ڈونلڈ ٹرمپ پر ان کے اثر ونفوذ کے درجے کے بارے میں سوالات بڑھتے جارہے ہیں۔

پیٹر نوارو نے وال اسٹریٹ بینکرز اور ہیج فنڈ مینیجرز کے خودمختار گروپ پر الزام لگایا کہ جی 20 سربراہی ملاقات سے پہلے وائٹ ہاؤس پر بھرپور دباؤ ڈالنے کے چینی اثر و رسوخ کی کارروائی کا حصہ تھے۔

پیٹر نوارو نے واشنگٹن کے تھنک ٹینک، سینٹر برائے اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز میں ایک خطاب میں کہا کہ ان غیر اندراج شدہ بیرون ایجنٹس کا مشن وہی ہے کہ کسی قسم کے معاہدے میں صدر ٹرمپ کو دباؤ میں لینا ہے۔ انہوں نے وال اسٹریٹ پر زور دیا کہ اس کی بجائے اپنی رقم ڈے ٹون، اوہیو میں رقم رکھیں۔

پیٹر نوارو کی مداخلت سے پتہ چلتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حلقے کے اندر چینی شکاری جولائی میں یورپی یونین کے امریکا کے ساتھ عارضی صلح کے خطوط کے جی 20 سربراہی کانفرنس کے موقع پر ثانوی کام کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جنگ پنگ کے درمیان تجارتی معاہدے کے امکانات کو خطرے میں ڈالنے کی کوششیں کررہے ہیں ۔

وزیر خزانہ اسٹیون منچن اور قومی اقتصادی کونسل کے ڈائریکٹر لیری کڈلو سمیت انتظامیہ میں دیگر آنے والے مہینوں میں بھرپور اقتصادی تنازاعات کو روکنے کے لئے بیجنگ کے ساتھ معاہدہ مرتب کرنے کے لئے تیار ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ 250 ارب ڈالر کی چینی برآمدات پر ٹیرف عائد کرچکے ہیں اور جنوری میں بڑی تعداد میں ان مصنوعات پر 10 سے 25 فیصد ٹیکس کا اضافہ کرنے کی دھمکی بھی دی ہے اگر بیجنگ نے اس کی اقتصادی پالیسیوں پر امریکی مطالبات کو قبول نہیں کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جی 20 سربراہی اجلاس کے موقع پر صدر شی جنگ پنگ کے ساتھ معاہدے کا امکان ہے،جس سے سرمایہ کاروں اور حکام کے درمیان امید بڑھی ہے کہ تجارتی جنگ میں کسی بھی اضافے کو ٹالنے کیلئے عارضی جنگ بندی مستقبل میں ہوسکتی ہے۔ اپنے متنازع بیانات کے لہجے کو نرم کرنے میں صدر شی جنگ پنگ ناکام رہے،حال ہی میں تجارتی پالیسیوں کو جنگل کا قانون کہہ کر شدید تنقید کی۔

یہ حملہ اس وقت آیا جب امریکا اور چین انہیں تقسیم کرنے والے چند خاردار مسائل کو حل کرنے کے مقصد کے تحت واشنگٹن میں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد کررہے تھے۔

چینی وفد کی سربراہی خارجہ امور کیلئے ذمہ داری کے ساتھ اسٹیٹ کاؤنسلر یانگ جیچی کررہے تھے۔ مسٹر یانگ نے یہ تعین کرنے کوشش میں آیا دونوں ممالک کے رہنماؤں کا جی 20 سربراہی اجلاس میں کسی معاہدے تک پہنچنے کا امکان تھا، کئی دن واشنگٹن میں گزارے۔

ان کے دورے سے آگاہ افراد کے مطابق مسٹر یانگ نے ہفتے کے آغاز میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن سے ملاقات کی، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات نہیں کی۔ بات چیت سے آگاہ دو افراد کے مطابق مسٹر یانگ کی مسٹر بولٹن کے ساتھ ملاقات میں امریکی صدر کے داماد جیریڈ کشنر نے بھی شرکت کی۔

پیٹر نوارو کا تبصرہ ڈونلڈ ٹرمپ کی تحفظ پسند تجارتی پالیسی کے مضبوط دفاع کے طور پر سامنے آیا ہے، انہوں نے کہا کہ صدر کے پاس عالمی وحدت پسند اشرافیہ کے سامنے کھڑے ہونے کی جرأت اور دانائی تھی جو امریکا کو دنیا کے بینک کے طور پر استعمال کررہے تھے۔

پیٹر نوارو نے کہا کہ انہیں وال اسٹریٹ کی مدد کی ضرورت نہیں تھی،انہیں گولڈ مین ساشے کی مدد کی ضرورت نہیں تھی اور انہیں ابھی اس کی ضرورت نہیں۔ جب یہ بلا معاوضہ غیر ملکی ایجنٹس اس طرح کی سفارتکای،نام نہاد سفارتکاری میں مصروف تھے، ان سب نے اس صدر اور اس کی مزاکرات کی پوزیشن کو کمزور کیا ہے۔ اس سے کوئی بھلائی نہیں ہوسکتی۔

پیٹر نوارو نے عہد کیا کہ بیجنگ کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ ڈونلڈ ٹرمپ کی شرائط پر ہوگا نا کہ وال اسٹریٹ کی شرائط پر۔

انہوں نے کہا کہ اگر وال اسٹریٹ ملوث ہے اور ان مزاکرات کے اندر خود کو داخل کرنا جاری رکھا، وہاں ایک تعفن ہوگا، کسی بھی معاہدے کے گرد ایک تعفن جو طے ہوا ہے، کیونکہ اسے گولڈ مین ساشے اور وال اسٹریٹ کی توثیق حاصل ہوگی۔

چین کی جانب سے موت نامی کتاب کے مصنف پیٹر نوارو انتظامیہ کے اندر طویل عرصے سے بیجنگ کے سب سے جوشیلے ناقد رہے ہیں، نے خبردار کیا کہ چین امریکا کے خلاف اقتصادی جارحیت کی مہم کا مجرم تھا جو امریکا کی دفاعی سپلائی چین تک کیلئے خطرہ تھی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں