آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
حسنی مبارک دور میں اسرائیل سے دوستی ، فلسطینی مسلمانوں سے عملاً دشمنی تک پہنچ گئی اور غزہ کے باشندوں کو فاقہ کشی پر مجبور کرنے کے لئے ان کی ناکہ بندی میں مصری حکومت نے بھرپور حصہ لیا۔ یہ پالیسیاں ظاہر ہے کہ تنہا حسنی مبارک کی نہیں تھیں۔ ان میں فوج ، بیورو کریسی ، عدلیہ سمیت تمام ریاستی اداروں کے قیادتوں کا حصہ تھا۔چنانچہ مبارک حکومت کے خاتمے کے صرف پانچ ہفتوں کے بعد مارچ2011ء میں اس سوال پر عوامی ریفرنڈم ہوا جس میں لوگوں کی ریکارڈ تعداد نے حصہ لیا اور 77فی صد نے منتخب نمائندوں کے ذریعے نئے دستور کی تیاری کے حق میں رائے دی۔ یہ نئے دور میں مراعات یافتہ کرپٹ طبقوں کے مقابلے میں مصری عوام کی پہلی فتح تھی۔ اس کے بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے انتخابات ہوئے۔ جیتنے کے لئے پچاس فی صد سے زیادہ ووٹ لینے کی شرط کی وجہ سے جن نشستوں پر پہلے مرحلے میں فیصلہ نہیں ہوسکا ان پر پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والے امیدوار کے درمیان دوبارہ مقابلہ ہوا۔ اس لئے مصری پارلیمنٹ میں جیتنے والا ہر امیدوار حقیقی اکثریت کا نمائندہ ہے اور پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں تقریباً تین چوتھائی اکثریت اسلامی نظریات والی جماعتوں فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی اور النور پارٹی کے پاس ہے جو بالترتیب اخوان المسلمون اور سلفی مکتب فکر کی نمائندہ ہیں۔

مارچ 2012ء میں دستور سازی کے طے شدہ طریق کار کے مطابق اس منتخب پارلیمنٹ نے 100/ارکان کا انتخاب کرکے دستور ساز اسمبلی تشکیل دی۔ قدرتی طور پر اس میں اسلامی نظریات کی حامل جماعتیں موٴثر حیثیت میں تھیں۔ عدالت نے ”غیر نمائندہ“ قرار دے کر یہ اسمبلی اپریل میں توڑ دی۔ جون میں ملٹری کونسل سے مذاکرات کے بعد نئی دستور ساز اسمبلی بنائی گئی جس میں پارلیمنٹ سے باہر کے گروپوں مثلاً فوجی افسران، مسیحی چرچ، صحافی، جامعہ ازہر کے نمائندے بھی شامل تھے۔ ان نمائندوں کا انتخاب بھی پارلیمنٹ نے کیا تھا مگر پارلیمنٹ کے ایوان زیریں کو قاہرہ کی انتظامی عدالت نے جون میں تحلیل کرکے جمہوری عمل میں عملاً رکاوٹ پیدا کی۔ مئی اور جون2012ء میں صدارتی الیکشن دو مراحل میں مکمل ہوا۔ فوج، بیورو کریسی اور اعلیٰ عدلیہ میں حسنی مبارک دور کی باقیات کی تمام تر کھلی حمایت کے باوجود مبارک کے دست راست احمد شفیق دوسرے مرحلے میں بھی ڈاکٹر مرسی پر سبقت حاصل نہ کرسکے اور مبارک کی باقیات اور مغرب زدہ مراعات یافتہ طبقات کو عوام کی پسند ڈاکٹر محمد مرسی کی صدارت کا کڑوا گھونٹ پینا پڑا۔
مرسی منتخب ہوگئے تو انہیں محض نمائشی سربراہ مملکت کی حیثیت سے ایوان صدر پہنچانے کے لئے19 رکنی حکمراں ملٹری کونسل نے اپنا وار کیا۔ 30 جون کو ان کے منصب سنبھالنے سے چند روز پہلے ملٹری کونسل نے ایک آئینی فرمان کے ذریعے اعلیٰ عہدوں پر تقرر وغیرہ سمیت صدر کے بیشتر اختیارات نگراں فوجی کونسل کو منتقل کردیئے۔ سپریم آئینی عدالت نے فوجی قیادت کی اس کارروائی کو کالعدم قرار دینا تو کجا اس پر کسی ناپسندیدگی کا اظہار بھی ضروری نہیں سمجھا۔ یوں اعلیٰ آئینی عدالت کی طرف سے فوجی قیادت کے اس جمہوریت کش اقدام کی عملی تائید کی گئی۔ مرسی نے صدر بننے کے دو ہفتے بعد جولائی میں قاہرہ کی انتظامی عدالت کے فیصلے کو منسوخ کرکے پارلیمنٹ کو بحال کردیا تاکہ قانون سازی کا عمل شروع ہوسکے۔ سپریم آئینی عدالت نے فوری طور پر صدر کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔ صدر ملٹری کونسل کی جانب سے صدارتی اختیارات سلب کرلئے جانے کی وجہ سے عملاً بے اختیار تھے اور خاموشی اختیار کرنے پر مجبور تھے۔ مرسی کو درپیش ایک اور چیلنج یہ تھا کہ مبارک دور کے ججوں پر مشتمل عدالتیں ان تمام سرکاری افسروں اور سیاسی شخصیات کو بری کرتی چلی جارہی تھیں جن پر کرپشن اور عوام پر مظالم کے الزام میں مقدمات قائم کئے گئے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ کے ایوان بالا اور دستور ساز اسمبلی کی آئینی حیثیت پر بھی سپریم آئینی عدالت فیصلہ دینے والی تھی اور یہ بات تقریباً یقینی تھی کہ ان دونوں منتخب آئینی اداروں کو بھی تحلیل کرکے صدر مرسی کو بے دست و پا کردیا جائے گا اور آئین سازی کا جو عمل تکمیل کے قریب تھا اسے برباد کرکے سیاسی بساط نئے سرے سے بچھانے کی کوشش کی جائے گی ۔
دستور ساز اسمبلی کو 12 دسمبر تک اپنا کام مکمل کرنا تھا جبکہ دو دسمبر کو عدالت اس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے والی تھی۔ یہ اسباب تھے جن میں ڈاکٹر مرسی نے 22 نومبر کا آئینی فرمان جاری کرکے نئے آئین کے نفاذ تک کے لئے عدالتی نظر ثانی سے بالاتر اختیارات حاصل کئے، عدالتوں سے بری ہوجانے والے بااثر ملزمان کو قانون کی گرفت میں لانے کے لے پراسیکیوٹر جنرل کی میعاد چار سال مقرر کی اور نئے پراسیکیوٹر کا تقرر کرکے اسے بری ہو جانے والوں کے خلاف ازسر نو شہادتیں جمع کرنے کی ہدایت کی۔ دستورساز اسمبلی نے سیکولر ارکان کے بائیکاٹ کے باوجود نومبر کی آخری تاریخوں ہی میں اپنا کام مکمل کرلیا جس کے بعد صدر نے دستور پر مصری عوام کے حتمی فیصلے کے لئے 15دسمبر کو ریفرنڈم کی تاریخ کا اعلان کردیا۔ مصرکے عوامی جمہوری انقلاب کی حفاظت کی خاطر صدر مرسی کا یہ اقدام تھا جس پر ان کے مخالفین نے انہیں حسنی مبارک سے بدتر ڈکٹیٹر قرار دے کر حقائق کو دھندلانے کی کوشش کی اور بے پناہ ہنگامہ آرائی کی۔ بحران کے خاتمے کے لئے اس فرمان کو واپس لیا جاچکا ہے جس کے بعد احتجاج کی شدت کم ہوگئی ہے اور آثار اسی بات کے ہیں کہ شکست خوردہ عوام مخالف قوتوں کی ساری چالیں ناکام ہوجائیں گی اور 15دسمبر کے ریفرنڈم کے بعد مصر میں نئے عوامی آئین کا سورج طلوع ہوگا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں