آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل3؍ربیع الثانی 1440ھ11؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محمد عبدالمتعالی نعمان

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ سرور کائنات، امام الانبیاء خاتم النبیین،سید المرسلین،محسن انسانیت،نبی رحمت، حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰﷺ کی تشریف آوری اور بعثت سے قبل پوری انسانیت جہالت و گمراہی کی گھٹاٹوپ تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی تھی۔کاروان زندگی اپنی راہ و منزل گم کرکے بھول بھلیوں میں سر گرداں تھا۔حیاتِ انسانی مجرموں، ظالموں اور استحصالی قوتوں کی محکوم و غلام تھی۔ کوئی نجات دہندہ، رہبر، فریاد رس و غم خوار نہ تھا۔ انسانی حیات کا وجود شرک و بت پرستی سے پارہ پارہ ہو چکا تھا، ہر گوشۂ حیات میں ابتری اور فساد برپا تھا۔ خوف و حزن کے سائے پھیل کر کل حیات انسانی پر محیط ہوچکے تھے۔روح انسانی ہی نہیں، بلکہ روح کائنات بھی مضطرب و پریشان تھی، کیوںکہ اسے اس نجات دہندہ کا انتظار تھا جسے خاتم النبیین، سید المرسلین رحمۃ للعالمینﷺ بن کر انسان ہی کے لیے نہیں، بلکہ تمام عالمین کے لیے رحمت بن کر انقلاب برپا کرنا اور مثالی معاشرے کی تشکیل و تعمیر کرنا، جس سے تمام بنی نوع انسان نے ابد تک کے لیے مستفید ہونا تھا۔

آپ ﷺسید المرسلین اور اعلیٰ و اکمل اوصاف حمیدہ سے آراستہ تھے۔آپؐ کی ہستی مبارک میں حسن صورت اور حسن سیرت کے تمام محامد و محاسن بدرجۂ اتم سمو دیے گئے تھے۔ اللہ رب العزت نے وہ تمام اوصاف اور کمالات جو آپ ؐ سے پہلے انبیائے کرام ؑ کو عطا کیے گئے تھے ،وہ مجموعی طور پر آپ ؐ کی ذات والا صفات میں جمع کردیے۔ خاتم النبیینؐ حسن و جمال کا ظہور کامل او ر آپؐ کی ذات افضلیت و اکملیت کا معیار آخر ہے۔

حسن یوسف، دم عیسیٰ، ید بیضا داری

آنچہ خوباں ہمہ دارند، تو تنہا داری

جس طرح نبی کریم، رحمۃ للعالمین حسن و جمال کا پیکر تھے اورزیبائی و رعنائی میں آپؐ کا کوئی مثل نہ پہلے تھا اور نہ ابد تک ممکن ہے۔ اسی طرح آپؐ کی سیرت اور اسوئہ حسنہ احسن ترین صورت میں چودہ سو سال سے جلوہ افروز ہے اور اس کی ضیا پاشیاں ابد تک جاری و ساری رہیں گی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپؐ کو رحمۃ للعالمین اور خاتم النبیین بنا کر اعلیٰ ترین اخلاق پر فائز فرمایا اور آپؐ کے اسوئہ حسنہ کو تمام بنی نوع انسان کے لیے باعث رحمت و تقلید قرار دیا۔ آپﷺ کے اخلاق کریمہ کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:’’بے شک، آپؐ اخلاق کے بلند مقام پر فائز ہیں۔‘‘ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ حضور اقدس ﷺ کی مبارک زندگی قرآن مجید کا عکس ہے۔ ام المومنین حضرت عاثشہ صدیقہؓ سے کسی نے نبی کریمﷺ کے اخلاق کے بارے میں دریافت کیا تو آپ ؓ نے فرمایا: ’’کیا تم نے قرآن مجید نہیں پڑھا؟ آپؐ کا اخلاق قرآن ہی تو ہے۔‘‘نبی رحمتﷺ نے فرمایا: ’’میں حسن اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہوں۔‘‘آپﷺ نے فرمایا:’’تم میں بہترین شخص وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہیں۔‘‘(بخاری و مسلم)

اس دنیا میں بہت سے ایسے انسان گزرے ہیں جنہوں نے زندگی کے کسی ایک یا ایک سے زائد شعبوں میں کمال حاصل کیا اور تاریخ ساز کار نامہ انجام دیا ، لیکن زندگی کے کل ہی شعبوں میں حسین و ہمہ گیر انقلاب لانے اور عہد آفریں و تاریخ ساز مثبت تعمیری کارنامے انجام دینے والی صرف ایک ہی شخصیت ہے۔ رہبر کامل حضرت محمدﷺکی جن کے رشد و ہدایت اور رحمت و شفقت کا درخشاں آفتاب کبھی نہ غروب ہونے کے لیے ابھرا اور ابھرتا ہی چلا گیا،چڑھااور چڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دین مبین یعنی اسلام اس کرئہ ارض پر سب سے زیادہ تیزی سے پھیلتا ہوا مذہب ہے۔ بجا طور پر کہا گیا ہے…

ایک نام محمدؐ ہے جو بڑھ کر گھٹا نہیں

ورنہ ہر ایک عروج میں پنہاں زوال ہے

نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ ایک عظیم اور پاکیزہ انقلاب کی ایک مقدس تاریخ ہے،جس کی تاریخ انسانی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔آپؐ نے انتہائی نامساعد حالات کے باوجود صرف تئیس سال میں زندگی کے ہر شعبے میں ایسا عہد آفریں ہمہ گیر و عالمگیر انقلاب برپا کیا کہ جہالت و تاریکیوں میں ڈوبی اور سسکتی انسانیت کی کایا پلٹ گئی جس کی نظیر تاریخ اقوام میں نہیں ملتی۔ اقبالؒ نے کیا خوب فرمایا ہے۔

وہ دانائے سبل ختم الرسل،مولائے کل جس نے

غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا!

نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر

وہی قرآں، وہی فرقاں وہی یٰس، وہی طٰہٰ

ہادی عالمﷺ نے ایسے عالمگیر مثالی معاشرے کی تشکیل و تعمیر کی جو ہر قسم کے ظلم و استحصال سے پاک اور اخوت و محبت صبر و استقلال اور حریت و مساوات کی بنیادوں پر استوار تھا۔حجۃ الوداع کے تاریخی خطبے میں آپؐ نے حقوق انسانی کا جو عظیم ترین منشور (چارٹر) پیش کیا، وہ نہ صرف اسلامی بلکہ بنی نوع انسان کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جس میں بنیادی انسانی حقوق کا مکمل تحفظ اور احاطہ کیا گیا ہے۔ چودہ سو سال پہلے پیش کیا جانے والا یہ چارٹر ملکوں، نسلوں، قبیلوں، رنگوں اورزمانوں کی حدود پھاند کر پوری انسانیت کے تمام ادوار کو اپنی حدود میں سمیٹ لیتا ہے۔

سید عرب و عجم حضرت محمدﷺتوحید کے سب سے بڑے داعی،انسانی حقوق کے سب سے بڑے علم بردار، محبت و شفقت اور عفو و درگزر کے مثالی پیکر، پاکیزہ تہذیب و تمدن و ثقافت کے بانی عظیم ترین سوشل ریفارمر سب سے بڑے مدبر و مفکر، رہبر اور دنیا کے کامل ترین انسان ہیں۔

سرکار دو عالمﷺ بیٹے کے روپ میں ہوں شوہر یا باپ کے، شہری ہوں ہمسائے ہوں یا دوست یا رشتے دار آپ ؐ ایک مبلغ کی حیثیت میں ہوں یا جرنیل کی، ایک فاتح کی حیثیت میں ہوں یا حکمراں کی۔ زاہد کی حیثیت میں ہوں یا عابد کی، جج کی حیثیت میں ہوں یا طبیب کی ، ایک معلم کی حیثیت میں ہوں یا تاجر کی ایک رہبرکامل کی حیثیت میں ہوں یا ایک عظیم مصلح کے غرض یہ کہ تمام حیثیتوں میں آپ ؐ کی ذات اقدس ہمہ جہت جامع الصفات عظیم ترین اور مثالی ہے۔

سلام اس پر لقب ہے رحمۃ للعالمین جس کا

سلام اس پر دو عالم میں کوئی ثانی نہیں جس کا

سلام اس پر جو باطل شکن بھی ہے حق نگر بھی ہے

سلام اس پر جو ممدوح رب، خیر البشر بھی ہے

یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے قرآن حکیم میں متعدد مقامات پر اپنی اطاعت کے ساتھ نبی ؐ کی اطاعت پر زور دیا ہے۔ یعنی اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ خاتم النبیینﷺ کی دل و جان سے اطاعت و فرماں برداری کی جائے۔ بلا شبہ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کی ذات با برکات رحیم و کریم کو روا ہیں اور اللہ رب العزت کے بعد جس ہستی کی سب سے زیادہ تعریف کی گئی وہ عظیم ترین ہستی رحمۃ للعالمینﷺ کی ہے۔ارشاد ربانی ہے ’’بے شک، ہم نے آپؐ کو روشن فتح عطا کی۔ (الم نشرح)’’اور ہم نے آپ ؐکے لیے آپؐ کا ذکر بلندکیا۔‘‘’’بے شک، ہم نے آپ ؐکو کوثر (خیر کثیر) عطا فرمائی ہے۔‘‘ (سورۃ الکوثر)

حقیقت یہ ہے کہ فخر موجودات، وجہ تخلیق کائنات حضرت محمدﷺ کی سیرت و شخصیت ازل سے ابد تک زمان و مکاں پر احاطہ کیے ہوئے ہیں۔ کائنات کا ذرہ ذرہ سرکار دو عالم، امام الانبیاءﷺ کی مدحت و رفعت کا شاہد ہے۔ یہ رتبہ بلند کل کائنات میں آپؐ کے سوا کسی اور کو نصیب ہوا اور نہ ہوگا۔ آپ ؐ کے ذکر کے بغیر نہ اذان مکمل ہوتی ہے اور نہ نماز، قرآن پاک نے یہ اعلان کیا ہے کہ آپؐ اس کائنات کے ’’سراج منیر‘‘ ہیں۔

مولانا عبدالماجد دریا آبادی کیا خوب لکھتے ہیں۔’’ہر سال نہیں،ہر ماہ نہیں، ہر روز پانچ مرتبہ بلند و بالا میناروں سے جس نام کی پکار خالق کے نام کے ساتھ فضائوں میں گونجتی ہے، وہ اس عظیم اور مقدس ہستی کی ہے جسے بصیرت سے محروم دنیا نے ایک زمانے میں محض ایک بے کس و یتیم کی حیثیت سے جانا تھا، یہ معنی ہیں یتیم کے راج کے، یہ تفسیر ہے ’’ورفعنا لک ذکرک‘‘ کی کسی ایک صوبے یا کسی ایک جزیرے پر نہیں، دنیا پر، دنیا کے دلوں پر آج حکومت ہے تو اس یتیم کی، راج ہے تو اسی امی ﷺ کا۔

سرکار دو عالم ﷺ کی سیرت طیبہ اور حیاتِ مطہرہ کا یہ تاریخی اور ابدی اعجاز ہے کہ آپ کی شخصی عظمت پر مسلم ہی نہیں دنیا کے مشاہیر اور غیر مسلم دانش ور بھی متفق ہیں۔ مغرب کے نامور دانش وروں نے آپ ؐکے حضور خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے آپ ؐ کی عظمت کو تسلیم کیا ہے۔ مشہور ہندو شاعر کنور مہندر سنگھ بیدی سحر کیا خوب کہتے ہیں۔

عشق ہو جائے کسی سے، کوئی چارہ تو نہیں

صرف مسلم کا محمدؐ پہ اجارہ تو نہیں

اور بقول شیش چندر سکسینہ

یہ ذاتِ مقدس تو ہر انسان کو ہے محبوب

مسلم ہی نہیں وابستہ دامان محمدؐ

عالمگیر، دائمی، کامل اور جامع نمونہ عمل صرف خاتم النبیین رحمۃ للعالمین کی سیرت طیبہ ہے۔آپ ؐ کی شخصیت بے حد عظیم، جامع ہے۔آپؐ کی سیرت طیبہ پر بے شمار کتابیں لکھی گئیں اور لکھی جائیں گی۔ زبان و قلم دونوں آپؐ کے اوصافِ حمیدہ بیان کرتے رہیں گے اور آپؐ کی سیرت طیبہ کے نئے نئے گوشوں کا سراغ ملتا رہے گا ۔دنیا اس سے مستفید ہوتی رہے گی، مگر یہ بھی ایک ابدی اور تاریخی حقیقت ہے کہ آپؐ کی حیات پاک کے کسی ایک پہلو کا اجمالی احاطہ کرنا بھی آسان نہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ہر ذی شعور بڑی عقیدت سے بے ساختہ پکار اٹھتا ہے۔

یا صاحب الجمال و یا سیّد البشر

من وجہک المنیر لقد نور القمر

لا یمکن الثناء کما کان حقّہ

بعد از خدا بزرگ توئی، قصہ مختصر

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں