آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات5؍ ربیع الثانی 1440ھ 13؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

 لیاقت بلوچ

(سیکرٹری جنرل، جماعت اسلامی پاکستان)

 رسول اللہ ، محسنِ انسانیت، خاتم النبیین ، سرورِدوعالم محمد عربی ﷺکی حیاتِ طیبہ ہر اس انسان کے لئے اسوۂ حسنہ ہے، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے ۔اس سرچشمہ سے رہنمائی مل سکتی ہے اور یہی دارین کی سعادت کا ذریعہ ہے ۔اس دارِفانی میں بڑے بڑے اہل فکر ،دانش وراور مصلحین پیدا ہوئے ،لیکن آپ ﷺجیسا ہمہ صفت کامل رہنما نہیں مل سکا۔تاریخ کے ہر دور اور ہر قوم میں اللہ کے رسول آئے اور انسانیت کو راہ ِہدایت دکھاتے رہے ۔دنیا کو آخری نبی کی آمد کا صدیوں سے انتظار تھا۔ رسول اللہ حضرت محمدﷺ کی بعثت سے یہ طویل انتظار ختم ہوا ۔آپ ﷺسلسلۂ رسالت کی آخری کڑی ثابت ہوئے اور رحمۃ للعالمین بنا کر مبعوث کئے گئے ، آپ کی شریعت آخری شریعت قرار پائی ۔اس نے سب سابقہ شریعتوں کو منسوخ کر دیا۔اب آپﷺ کی رہنمائی ہی سب کے لئے اور تاقیامت ہے۔آپ ﷺکا ارشاد ہے: ”اگر موسیٰ ؑبھی زندہ ہوتے ،تو انہیں میری اتباع کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔“

تاروں سے کہہ دو کوچ کریں ،خورشیدِ منور آتے ہیں قوموں کے پیمبر آتو چکے اب سب کے پیمبر آتے ہیں

ماہِ ربیع الاول رسول اللہ ﷺ کی ولادت اور وصال کا بھی مہینہ ہے ۔آپ ﷺپوری انسانیت کے لیے تاقیامت اسوۂ کامل اور تمام جہانوں کے لئے رحمت ہیں ۔ اللہ کے تمام پیغمبروں نے اللہ کے دین کی دعوت دی، لیکن آپﷺ پیامبر دعوت کے ساتھ ساتھ پیغمبر انقلاب بھی تھے ۔آپﷺ نے عملاً وہ انقلاب برپا کر دیا جس کی مثل تاریخ انسانی میں نہ پہلے تھی، نہ آئندہ ہو گی ۔رسول اللہ ﷺ سے اُمتیوں کے عشق و محبت سے مراد فقط جذبات عقیدت و ارادت نہیں ،تقلیدو اتباع بھی اس کا ضروری جزو ہے ۔ رسول اکرمﷺ کی تعلیمات سے پوری طرح فیض یاب ہونے کے لیے ان کی زندگی کو چراغ راہ بنانے اور آپ ﷺکی روحانی واخلاقی اور عملی خوبیاں اخذ کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے ۔

کتاب و سنت اساس دین ہیں۔رسول اللہﷺ کی ولادت باسعادت اور حیاتِ طیبہ ہماری رہنمائی کرتی ہے ۔رسول اللہ ﷺکے نظام تربیت میں اُمتیوں کے لئے اخلاق و کردار کی سربلندی ،اُخروی آبیاری و نشوونما کا پہلا زینہ ہے ۔سیدنا ابوہریرہؓ راوی ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺنے فرمایا :”میں نے تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑی ہیں ۔ان کے بعد تم ہر گز گمراہ نہ ہو گے ،وہ دو چیزیں ہیں :اللہ کی کتاب اور میری سنت۔یہ دونوں جدا نہ ہوں گی، یہاں تک کہ وہ حوض کوثر تک آئیں گی ۔“ یہ قرآن و سنت ہی ہیں، جن کو مضبوطی سے تھامے رہیں گے تو راہ راست سے نہیں بھٹک سکتے۔ یہ دونوں دین کے بنیادی مآخذ ہیں ۔یہ ہدایت کے وہ سرچشمے ہیں جن سے قیامت تک رہنمائی حاصل کی جاتی رہے گی اور اختلافات میں رجوع کیا جاتا رہے گا۔اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت کے ساتھ اپنے رسول اللہﷺ کی اطاعت کو بھی لازم قرار دیا ہے ۔(ترجمہ) ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو ،اطاعت کرو اللہ اور اطاعت کرورسول ﷺکی اور اپنے اعمال ضائع نہ کرو۔“(سورۂ محمد:۳۲) اللہ کے رسولﷺ کی اطاعت درحقیقت اللہ کی اطاعت ہے ۔اس سے واضح ہوتاہے کہ کتاب اللہ کے ساتھ آپﷺ کی سنت یا آپ ﷺکی تعلیمات ہی دین کی اساس ہیں ۔دونوں کے ذریعے دین کی تکمیل ہوتی ہے ۔محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔آپﷺ کی رسالت تمام انسانوں کے لئے اور قیامت تک کے لئے ہے ۔ اب نہ تو کوئی رسول آئے گا اور نہ ہی کسی سابق رسول کی اتباع جائز ہو گی ۔جو شخص آپ ﷺکو رسول مانتا ہے ،لیکن آخری رسول نہیں مانتا ،وہ حقیقت میں آپﷺ کی رسالت کا آدھا اقرار اور آدھا انکار کر تا ہے اور یہ چیز انکار کے ہی ہم معنی ہے ۔آپ ﷺکی رسالت کے دو جزو ہیں ۔ایک آپﷺ کا رسول ہونا اور دوسرا آپ ﷺکے ذریعے رسالت کا ختم ہونا ۔قرآن کریم نے صاف اور واضح اعلان کر دیا ہے کہ رسالت کا جو سلسلہ حضرت آدم ؑ سے شروع ہوا تھا، وہ آپ تک پہنچ کر ختم ہو گیا اور اب آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔”لیکن آپﷺ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں ۔“ (سورۃالاحزاب)

ختم نبوت کا اعلان حقیقت میںاس بات کا اعلان ہے کہ آپﷺ کی رسالت عالم گیر رسالت ہے ۔آپﷺ صرف اس دور کے پیغمبر نہیں ہیں جس میں آپ پیدا ہوئے ہیں ،بلکہ ہردور میں آپﷺ کی اتباع فرض ہے۔حق غلبہ کے لئے اور باطل مٹنے کے لئے ہے۔آج کے دور میں انسانوں کو غلام بنانے کے انسانی نظام ناکام ہیں ، دعوتِ دین اور اسلام کے کامل ضابطۂ حیات ہونے سے زندگی کے ہر شعبے میںرہنمائی بالکل عیاں ہو رہی ہے ۔اسی لئے مغربی مفکرین ،پالیسی ساز،لادینیت کے پرچار پریشانی کے عالم میںعقیدۂ ختم نبوت اور ناموس رسالت پر حملہ آور ہیں ،توہین وتضحیک کا ہر حربہ استعمال کیاجا رہا ہے ،لیکن اہل ایمان بے شمار کمزوریوں اوربے عملی کے باوجود رسول اللہ ﷺکے عشق و محبت سے سرشار ہیں۔اس لئے ان شیطانی حربوں کے سدِّباب کے لئے احتجاج ،قوانین کی حفاظت ،عالمی قوانین میں ترامیم کے ذریعے تحفظ کی کوششیں ناگزیر ہیں ۔راہ نجات صرف آپ ﷺکی پیروی میں ہے ۔جو شخص بھی اللہ تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے اس کے لئے ایک ہی راستہ ہے کہ رحمۃللعالمین و خاتم النبیین کی بتائی ہوئی راہ پر استقامت سے عمل کرے ۔

رسول اللہ ﷺکے اسوۂ حسنہ سے صرفِ نظر کرکے نہیں، بلکہ مکمل تقلید اور سنت نبویؐ کی پیروی سے ہی قسمت سنور ے گی اور حالات بدلیں گے۔اسی کے نتیجے میں ہم رحمتِ ایزدی کے امیدوارہوں گے۔ ظاہر کے ساتھ ساتھ باطن کو بھی بدلنا ہوگا۔رسول اکرم ﷺکی روحانی اور اخلاقی خوبیوں کاتذکرہ کرنے کے ساتھ آپﷺ کی تقلید بھی کی جائے ،تب در کھلے گا۔ محض لباس اور وضع قطع کابدلنا ہی مطلوب نہیں اور نہ ہی روایتی مسلمانوں کی طرح اخلاق نبوی سے فقط ایک دو باتیں اخذ کرکے اسوۂ نبوی ؐاور تعلیمات اسلامی سے بالکل بیگانگی برتی جائے ،بلکہ رسول اللہ ﷺکی زندگی کے تمام پہلوؤں اور اُن کی ساری روحانی اور اخلاقی خوبیوں کا مکمل اتباع ہونا چاہیے۔ قول وفعل اور گفتار و کردار میں ، رسول اکرم ﷺکا ایمان کامل،تدبّر،حلم،حوصلہ، استقلال ، جہدِ مسلسل ،انصاف پسندی ، بے لوثی اور استغنا سے مسلمانوں کو جزو زندگی بنانے کی سعی کرنی چاہیے۔اقامتِ دین کی ہمہ گیر جدوجہد کا مسلسل حصہ بنے رہنے سے ہی خلافتِ الٰہیہ کی بلندی پر ہم پہنچ سکتے ہیں۔ قرآن سے جڑ جائیں کہ مسلمانوں کے لیے سرچشمۂ ہدایت یہی کتاب ہے۔ قرآن نے ہی ملّتِ اسلامیہ کی بِنا رکھی ہے اور سنتِ رسولؐ نے اسے کامل عمارت کی شکل میں ڈھالا ہے۔ ملتِ اسلامیہ کے لیے سیرتِ رسول اللہﷺ کی ہر لمحہ پیروی ناگزیر ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں