آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 7؍ربیع الثانی 1440ھ 15 ؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی(جنگ نیوز)سینئر تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ نواز شریف کی قطری خط اور پارلیمنٹ میں تقریر سے لاتعلقی قابل قبول نہیں ہے،علیمہ خان کے معاملہ پر پیپلز پارٹی کا جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ سیاسی ہے، علیمہ خان نہ پبلک آفس ہولڈر ہیں نہ ان پر کرپشن کا کوئی الزام ہے، علیمہ خان کو پی ٹی آئی اور عمران خان کے ساتھ کسی بھی طور جوڑنا انتہائی درجے کی اخلاقی پستی ہے، سب جانتے ہیں عمران خان کے اپنے اہل خانہ کے ساتھ رشتے رسمی اور انتہائی غیرروایتی قسم کے ہیں،حکومت پنجاب میں پولیس کو غیرسیاسی کرنے کی نیت نہیں رکھتی، تقرریوں اور تبادلوں کے پیچھے سیاسی دباؤ نظر آرہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مظہر عباس، امتیاز عالم، حسن نثار، حفیظ اللہ نیازی، سلیم صافی اور بابر ستار نے جیو نیوز کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں میزبان ابصاء کومل سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ میزبان کے پہلے سوال نواز شریف کا قطری خط اور پارلیمنٹ میں تقریر سے لاتعلقی کا اظہار، کیا نواز شریف کی وضاحت قابل قبول ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے

حسن نثار کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا پارلیمنٹ میں تقریر کا منظر سامنے آتا ہے تو کراہت محسوس ہوتی ہے ،پارلیمنٹ میں کی گئی اپنی تقریر کو سنی سنائی باتیں قرار دینے کے بعد اخلاقیات کہاں چلی گئی، نواز شریف کی قطری خط اور پارلیمنٹ میں تقریر سے لاتعلقی قابل قبول نہیں ہے۔ حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 66 کے مطابق پارلیمنٹ میں کہی گئی بات کورٹ آف لاء میں ڈسکس نہیں کی جاسکتی ہے، حسین نواز کو کاروبار براہ راست دادا سے ملا تھااس لئے نوازشریف کی قطری خط اور پارلیمنٹ میں تقریر سے لاتعلقی قابل قبول ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں