آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات17؍رمضان المبارک 1440ھ 23؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نٹ شیل فورم کے بانی اظفر احسن میرے بہت قریبی دوست ہیں جنہوں نے کارپوریٹ سیکٹر کے 255سی ای اوز کا سوشل میڈیا پر ’’کارپوریٹ پاکستان گروپ‘‘ (CPGians) بنا رکھا ہے جس میں وفاقی وزراء، سیکریٹریز، معیشت دان، کارپوریٹ سیکٹر کے سی ای اوز، آرمی، نیوی اور فضائیہ کے اعلیٰ فوجی حکام اور تمام سیاسی جماعتوں کے 10سینیٹرز اور لیڈرز شامل ہیں۔ میں اور میرے بھائی اشتیاق بیگ بھی اس تھنک ٹینک کے ممبر ہیں جس میں اہم قومی اور بین الاقوامی ایشوز پر معلومات شیئر کی جاتی ہیں۔ گزشتہ دنوں کراچی میں نٹ شیل فورم کے زیر اہتمام ’’فیوچرز سمٹ‘‘ کا انعقاد کیا گیا جس سے پاکستان اور بیرونِ ملک کارپوریٹ سیکٹر کے معروف سربراہان نے خطاب کیا۔ کانفرنس کی ماڈریٹر CNNانٹرنیشنل کی اینکر امیلیا یاچیا تھیں جو نہایت مہارت سے میزبانی کے فرائض انجام دے رہی تھیں۔ دو دن جاری رہنے والی اس کانفرنس میں مجھے بھی مدعو کیا گیا تھا۔ کانفرنس کے افتتاحی سیشن میں اہم خطاب چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل زبیر محمود حیات کا تھا۔ جنرل زبیر محمود سے میری ملاقات کچھ دن قبل راولپنڈی میں ایک عشایئے پر ہوئی تھی جس میں فوج کے موجودہ اور سابق اعلیٰ افسران شریک تھے۔ دورانِ گفتگو موضوع جنرل زبیر محمود کا گزشتہ ماہ ملٹری اکیڈمی کاکول میں کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ کا تاریخی خطاب تھا۔ دوسری بار جنرل زبیر حیات سے میری ملاقات کراچی میں ’’فیوچر سمٹ‘‘ پر ہوئی اور مجھے ان کا خطاب سننے کا موقع ملا۔ جنرل زبیر محمود کی تقریر نے کانفرنس کے شرکا کو محو کر دیا تھا۔ انہوں نے نہایت مہارت سے معاشی اعداد و شمار پیش کئے۔ جنرل زبیر محمود حیات نے بتایا کہ پاکستان کی خطے میں جیو اسٹرٹیجک اور جیو اکنامک اہمیت ہے جس کی وجہ سے دنیا ہمیں نظر انداز نہیں کر سکتی، ہمارے ملک کو بھی علاقائی اور عالمی مسائل کا سامنا ہے جس میں آلودگی، ماحولیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ 21ویں صدی کے اہم چیلنج ہیں۔ بھارت اور افغانستان سے بہتر تعلقات کیلئے ہمیں تسلسل کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کی ضرورت ہے۔ ون بیلٹ ون روڈ (OBOR) اور پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) خطے کیلئے گیم چینجر ہیں ۔ خواتین اور نوجوان ہمارے ملک کا سرمایہ ہیں اور ملکی ترقی میں ان کا اہم کردار ہے۔ ہمیں اپنے ملک کی معاشی ترقی کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) اور آرٹیفشل انٹیلی جنس (AI) کو فروغ دینا ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ ’’بلیک فرائیڈے‘‘ پر علی بابا کی ایک دن کی سیل 37.7ارب ڈالر ہوئی جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آنے والا وقت ای کامرس کا ہے، نوجوانوں کی بڑی تعداد کے فیس بک، واٹس ایپ اور ٹیوٹر کے استعمال کی بنیاد پر ہمارا ملک ای کامرس میں تیزی سے ترقی کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں معدنیات سونا، تانبا، کوئلہ، تیل اور گیس کے اربوں ڈالرز کے ذخائر موجود ہیں۔ جنرل زبیر نے بتایا کہ مکران کے ساحل پر حالیہ اوشیونو گرافی سروے میں مکران میں گیس کے بڑے ذخائر دریافت ہوئے ہیں، پاکستان 2030ء تک نیوکلیئر توانائی سے 8800میگا واٹ بجلی پیدا کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان شیل گیس کے ذخائر میں دنیا میں نویں نمبر پر ہے۔ خطاب کے بعد شرکا نے کھڑے ہوکر تالیوں کی گونج میں جنرل زبیر کو سراہا اور مجھے اندازہ ہوا کہ جنرل زبیر ایک اچھے مقرر بھی ہیں۔ دیگر مقررین میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے منیجنگ ڈائریکٹر رچرڈ مورین، پی ٹی سی ایل کے صدر ڈاکٹر ڈینل رڈز، مٹسوبشی کارپوریشن کے سی ای او کمی ہائیڈ اینڈو، اینگرو کارپوریشن کے صدر غیاث خان، حبکو کے سی ای او خالد منصور، امریکی قونصل جنرل جان ریگنر، شبر زیدی، وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار زبیدہ جلال، دیگر وفاقی وزراء گورنر سندھ عمران اسماعیل شامل تھے۔ دوسرے دن پاکستان میں ایک موبائل کمپنی کے سابق سربراہ مائیکل فولے نے جدت اور رکاوٹ (Innovation & Disruption) پر خطاب کیا اور مستقبل میں موجودہ گاڑیوں کی جگہ الیکٹرک کاروں Teslaپر نہایت اہم معلومات فراہم کیں۔ لاطینی امریکی کمپنی کے صدر طاہر ملک جنہیں 50سے زائد ممالک میں کام کرنے کا تجربہ ہے، نے لیڈر شپ پر 6سنہرے اصول اور اپنی کامیاب کی اسٹوری پیش کی۔ ٹیلنٹ گیمز کے سی ای او پال کزر نے کہا کہ 2023ء تک ایک ہزار ڈالر میں انسانی دماغ کی طرح کام کرنے والا کمپیوٹر خریدا جا سکے گا۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا میں ٹیکنالوجی انسانی صلاحیتوں سے زیادہ تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور دنیا میں 3ارب سے زائد افراد انٹرنیٹ سے منسلک ہیں۔ ہنر اور صلاحیت اب پارٹنر شپ، آئوٹ سورس اور فری لانس ذرائع سے خریدی جا سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا دنیا کی جی ڈی پی میں حصہ صرف 0.29فیصد ہے جبکہ ہمارے خطے کے دیگر ممالک کا دنیا کی جی ڈی پی میں حصہ ہم سے زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر چین 16فیصد، بھارت 3.25فیصد، ایران 0.48فیصد، بنگلا دیش 0.33فیصد ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پاکستان کو اپنی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانا ہو گا۔

کانفرنس کے دوسرے دن پینل ڈسکشن میں امریکی قونصل جنرل جان ریگنر، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے سی ای او شہزاد دادا، الفلاح انویسٹمنٹ کی سی ای او ماہین رحمٰن، پاک برونائی کی منیجنگ ڈائریکٹر عائشہ عزیز اور ایبٹ کے کنسلٹنٹ فاطمہ اسد سعد نے حصہ لیا جس کا عنوان ’’فیوچر آف ڈائیورسٹی اینڈ انکلوژن‘‘ تھا۔ پینل ڈسکشن میں بحث کی گئی کہ پاکستان میں اب بھی مردوں کا غلبہ اور اجارہ داری ہے اور روایتی مجبوریوں کے باعث خواتین کو ان کا حقیقی مقام نہیں دیا جا رہا۔ میں نے سوال و جواب کے سیشن میں بتایا کہ آج بھی ملک میں ایک بڑی تعداد خاندان کی پڑھی لکھی لڑکیوں کی ملازمت کے خلاف ہے جس کیلئے ہمیں لوگوں کے ذہنوں کو بدلنا ہو گا۔ فیوچر سمٹ میں دو دن ماہرین سے تبادلۂ خیال سے یہ بات ثابت ہوئی کہ آنے والا وقت اعلیٰ ٹیکنالوجی اپنانے کا ہے۔ روایتی مصنوعات کی ایکسپورٹ کے ساتھ ساتھ ہمیں انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT)، مصنوعی ذہانت (AI)، ای کامرس کے شعبوں کے پوٹینشل سے فائدہ اٹھانا ہو گا، ورنہ ہم ترقی یافتہ ممالک کی دوڑ میں پیچھے رہ جائینگے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں