آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر21؍رمضان المبارک 1440ھ27؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جنرل خادم حسین راجہ نے مجھے بتایا کہ جب وہ ڈھاکا میں فوج کی کمان جنرل نیازی کے سپرد کر چکے، تو جنرل نیازی نے پوچھا ”اپنی داشتاؤں کا چارج کب دو گے؟“ اس جملے کے راوی 1971ء میں پاک فوج کے شعبہٴ ابلاغ کے سربراہ اور اپنے ہم وطنوں کے ساتھ دو سال تک بھارت میں اسیر رہنے والے بریگیڈیئر صدیق سالک ہیں، جو ان کی خودنوشت ”میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا“ کے صفحہ 100 پر رقم ہے… دو روز قبل عالمِ خیال میں بنگالی مسلمانوں کی یاد آتے ہوئے فیض صاحب کی نظم ”ڈھاکہ سے واپسی پر“ نے من کی دنیا کو بہت رلایا۔
ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی ملاقاتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی مداراتوں کے بعد
کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
دل تو چاہا پر شکستِ دل نے مہلت ہی نہ دی
کچھ گِلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعد
یہ ناچیز سوچتا رہا کہ 1971میں جنگ کے فیصلے کن موڑ پر جب مغربی پاکستان میں ہر شخص کو مشرقی پاکستان میں اپنی غیرت وناموس کی بازی ہار جانے کی فکر ووسوسے لاحق تھے ہمارے تازہ دم ”ٹائیگر نیازی“ اپنے پیش رو شریف النفس جنرل سے حسیناؤں کا حساب بے باق کرنے میں مشغول تھے،ہائے افسوس کہ پاکستانی عوام تو اپنے سپاہیوں پر نازاں ہیں لیکن نشہٴ اقتدار بھی کیا چیز ہے کہ چند جرنیل وطنِ پاک کو ایسا بدنام کر

گئے ہیں کہ قرطاسِ تاریخ پر بکھری ان کی سیاہ کاریوں کو چھپاتے چھپاتے ہم اقوام عالم میں اپنا منہ چھپاتے رہ گئے ہیں، تاہم یہ مٹی اتنی زرخیز ضرورہے کہ اس کے باوجود یہ اپنی نمو آپ کر رہی ہے… ان دنوں معروضی صورت حال کو المیہ مشرقی پاکستان سے مشابہت دینا ایک فیشن بن گیا ہے۔ لیکن یہ احقر ان بقراطوں سے متفق نہیں جو موجودہ دگرگوں واقعات کو ملک ٹوٹنے کا پیش خیمہ سمجھتے ہیں۔ ان سے یہ مودبانہ سوال ہے کہ کیا اس وقت دستارِ سیاست سر پر سجانے والوں میں سے کوئی ایک بھی ایسا لیڈر موجود ہے جو شیخ مجیب الرحمن کی طرح کُل 300 میں 160 یعنی بھٹو مرحوم سے دگنی نشستیں حاصل کر کے یہ دعویٰ کر سکے کہ ہاں وہی عوامی سیل رواں کا رہبر حقیقی ہے؟ 2025ء کے نقشے میں رنگ بھرنے کے آرزو مند تصوراتی عاشقانِ آزادی سے پوچھا جا سکتا ہے کہ کس صوبے میں علیحدگی کی ایسی متفقہ عوامی تحریک بپا ہے کہ جس کی مہار امریکہ بہادر پکڑ کر ان کے تشنہ خوابوں کو تعبیر دے سکے یا کونسی ایسی موٴثر تنظیم ہے جو خفیہ ہی سہی فکری آبیاری کرتے ہوئے ایسا واضح روڈ میپ رکھتی ہو کہ کس صوبے یا علاقے کو کیسے اور کن خطوط پر علیحدہ کرنا ہے !! نواب خیر بخش مری اور سردار عطاء اللہ مینگل ہمارے بزرگ اور بلوچستان کے ستارے اور غوث بخش بزنجو مرحوم اور نواب اکبر بگٹی شہید، بلوچوں و ہمارے پیارے ہیں۔ انہوں نے کب ملک توڑنے کی بات کی!؟ کیا یہ امر قابل اعتبار نہیں کہ حضرت باچا خان کے پوتے جناب اسفند یار ولی خان اور خان شہید عبدالصمد اچکزئی کے صاحبزادے محترم محمود خان اچکزئی قائداعظم کے پاکستان کے نقشے میں پختونخوا کا نام شامل کرنے کے متمنی رہے اور اب اس پر شاداں و نازاں ہیں!! ملک نہیں ٹوٹنے کا، البتہ عوام ٹوٹ رہے ہیں۔ آئیے ماضی کے رخِ سیاہ کا حال کے ”رخِ زیبا“ سے پھر موازنہ کرتے ہیں۔
بے باک قلم کار و ادیب صدیق سالک متذکرہ کتاب کے صفحہ 14 پر رقم طراز ہیں ”میں جب ڈھاکہ ائر پورٹ پہنچا، ایک فوجی جیپ میرے قریب آ کر رکی۔ حوالدار نے مجھے سمارٹ سا سیلوٹ کیا اور ایک بنگالی لڑکے کو بھبک دار لہجے میں حکم دیا، صاحب کا اٹیچی کیس جیپ میں رکھو، میں نے چند سکے اس غریب لڑکے کو دینا چاہے، مگر حوالدار نے پرزور لہجے میں کہا ”سر، ان حرام زادوں کی عادت نہ بگاڑیے“ بنگالی لڑکا نفرت بھری نگاہ ڈالتے ہوئے چلا گیا… راستے میں جو عورتیں نظر آئیں ان کے پاس ستر پوشی کیلئے چند چیتھڑوں کے سوا کچھ نہ تھا، مردوں کی سیاہ جلد میں منڈھی ہوئی پسلیاں چلتی گاڑی سے بھی گنی جا سکتی تھیں۔ بچوں کی کمزور ٹانگوں کے اوپر ابھری ہوئی توندیں باہر کو امڈ رہی تھیں، بعض بچوں کے کمر کے گرد گندا سا دھاگا بندھا تھا جس سے ایک گھنٹی لٹک رہی تھی، یہ ان کا واحد کھلونا تھا“۔ ملک ٹوٹنے کا راگ الاپنے والے یہ اقتباس پڑھ کر فوراً یہ کہہ سکتے ہیں کہ آج عوام کی یہی مفلوک الحالی ہی تو ہمارے استدلال کو تقویت دیتی ہے!! لیکن نہیں جناب نہیں!! آج کے سیاستدان شیخ مجیب کی طرح کوئی اور بنگلہ دیش نہیں ملک کو ایتھوپیا بنانا چاہتے ہیں۔ بنگالیوں نے اپنے سے مختلف زبانیں بولنے والے حکمران اشرافیہ کے ردعمل میں سب کچھ کیا جبکہ آج پاکستانی عوام اپنے ہی ہم زبانوں کے عملِ بد کا شکار ہیں۔ وہاں کے مظلوم کوسوں میل دور کے استحصالی عناصر سے شاکی تھے جبکہ یہاں ظالم و مظلوم ایک ہی گھر کے باسی ہیں۔اُدھر بنگالیوں کے مال کو مال غنیمت سمجھ کر اِدھر مغربی پاکستان لایا جا رہا تھا اور آج اِدھر پاکستانیوں کے مال کو مالِ مفت سمجھ کر اُدھر غیر ملکی بنکوں میں پہنچایا جا رہا ہے۔ وہاں قحط کا سامان کر کے حکمران جام پر جام انڈیلتے رہے اور یہاں سفاک ذخیرہ اندوزوں اور دہشت گردوں کے ہاتھوں سڑکوں پر گرنے والی انسانی لاشوں کو محض دیکھنے کے لئے بھی اختیار مند اپنے عیاش کدوں سے باہر نہیں آتے۔ وہاں فوجی حکمران مسائل کم کرنے کیلئے بنگالیوں کو کم اور یہاں کے زرپرست غریبی کم کرنے کیلئے غرباء کو کم کرنے کے کارخیر میں مصروف ہیں۔ مسئلہ وہاں بھی بالادست و زیردست کے درمیان تھا۔ معاملہ یہاں بھی بالادست و زیردست کا ہے۔ وہاں زمین کے ٹکڑے کر کے اپنا حصہ پانے کی سوچ تھی اور یہاں ٹکڑے کئے بغیر حقوق حاصل کرنے کی امید ہے چنانچہ جو سابق جرنیل، سیاستدان، سیاسی، مولوی، دانشور و صحافی ملک ٹوٹنے کے شوشے چھوڑ رہے ہیں، وہ مایوسی پھیلا کر درحقیقت ایک ایسے عوامی اتحاد کو روکنے میں لگے ہوئے ہیں جو خود ساختہ انتہا پسندی کا راستہ روک اور سفینہٴ زر پرستی لے ڈوب سکتا ہے۔ دوسری طرف یہ عناصر پاکستانی عوام کو عراق، افغانستان، مصر، شام کی فکر میں مبتلا کر کے دراصل انہیں اپنے غم سے اس لئے بیگانہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ اسٹیٹس کو برقرار اور غاصبوں اور ان کے طفیلی عناصر کا کاروبار چلتا رہے۔ وقت کا المیہ یہ نہیں ہے کہ مملکت خداداد پاکستان کے سینے پر کوئی اور شیخ مجیب سینہ تانے کھڑا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جو حقیقت برسوں قبل فیض صاحب سمجھا گئے تھے، وہ حقیقت ہم عوام آج تک سمجھ نہیں پائے۔ آپ نے کہا تھا…
اِک گردنِ مخلوق جو ہر حال میں خم ہے
اِک بازوئے قاتل ہے کہ خوں ریز بہت ہے

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں