آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 20؍رمضان المبارک 1440ھ26؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اصل موضوع پر آنے سے قبل مختصراً اپنے گزشتہ کالم ’’سہیل وڑائچ کچھ لکھنے ہی نہیں دیتے‘‘ کے متعلق ایک سینئر وکیل دوست کا دلچسپ تبصرہ قارئین سے شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ کالم کے مزاج کے مطابق وکیل دوست نے کہا کہ میڈیا کو چھوڑیں، آپ کو پتا نہیں کہ وڑائچ صاحب نے عدلیہ کے ساتھ کیا کیا ہے!!!! وکیل دوست کی بات سن کر پہلے پہل تو مجھے سہیل وڑائچ کے نام سے نجانے کیوں ایک دم ڈر سا لگا لیکن بعد میں سمجھ آئی وہ تو مذاق کر رہے تھے۔ ڈر تو دراصل ہمارے اندر ویسے ہی سرایت کر چکا ہے ورنہ سہیل وڑائچ جیسے بیبے آدمی سے ڈرنا ایسے ہی ہے جیسے کوئی اپنے ہی سائے سے ڈر جائے۔ اب اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ آج کے اخبار میں اسلامی نظریاتی کونسل کے حوالے سے ایک اہم خبر شائع ہوئی۔ خبر کے مطابق کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ نجی سود کے خاتمے کیلئے قانون سازی کا مرحلہ مکمل ہو گیا اور اب قتل کے فتوے دینے والوں کے خلاف سزائیں بڑھائیں گے۔ ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ اجلاس میں اس بات پر تمام علماء نے اتفاق کیا کہ کسی کو واجب القتل قرار دینا یا کسی کو کافر کہنا کسی فرد یا گروہ کا کام نہیں اور اس حوالے سے تعزیراتِ پاکستان میں جو سزا ہے اس کو مزید سخت کیا جائے گا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاستِ مدینہ کے تصور کا پہلا قدم بلاسود بینکاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور ساری کابینہ کی یہ خواہش ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل سے رہنمائی لی جائے، حکومت اسلامی نظریاتی کونسل کو مؤثر انداز میں فعال کرنا چاہتی ہے۔ اس موقع پر وزیرِ مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل ریاستِ پاکستان کا ذیلی ادارہ ہے اور یہ ادارہ اپنی سفارشات دینے میں مکمل طور پر آزاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین اور ممبران کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ وقتاً فوقتاً قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس میں شرکت کرتے رہیں تاکہ ان سے رہنمائی حاصل کی جا سکے۔ یہ خبر پڑھ کر پہلی خوشی تو اس بات پر ہوئی کہ کم از کم اسلام کے نام پر بننے والے پاکستان میں اب سود کے خاتمہ کے سلسلے میں برسر اقتدار حکومت کچھ سنجیدگی دکھا رہی ہے۔ حال ہی میں مجھے یہ بھی معلوم ہو ا کہ تحریک انصاف کی حکومت نیا پاکستان ہائوسنگ اسکیم کو سود کے بجائے اسلامی اصولوں کے مطابق قرضوں کی بنیاد پر چلانے کی خواہاں ہے جس پر سوچ بچار ہو رہی ہے۔ اگر حکومت یہ فیصلہ کر لیتی ہے تو اس سے نہ صرف نیا پاکستان ہائوسنگ اسکیم کے تحت قرضہ لے کر گھر خریدنے والے لاکھوں افراد سود کی لعنت سے بچ جائیں گے بلکہ اس اقدام کی برکت سے عمران خان اور اُن کی حکومت کو بھی ان شاء اللہ بہت فائدہ ہو گا۔ دوسری صورت میں سودی نظام کے تحت عام لوگوں کو اس لعنت میں جھونکنے کا سارا گناہ حکومت اور وزیراعظم کے کندھوں پر ہو گا۔ مجھے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کی بھی کوشش ہے کہ نیا پاکستان ہائوسنگ اسکیم کو سود سے پاک رکھا جائے۔ میری دعا ہے کہ اس سلسلے میں حکومت کو کامیابی حاصل ہو۔ وزیر مذہبی امور کے بیان کے مطابق اگر موجودہ حکومت ریاستِ مدینہ کے تصور کے پہلے قدم کے طور پر بلاسود بینکاری کی حوصلہ افزائی کرتی ہے تو یہ ایسا اقدام ہے جس کی علماء کرام کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ، سیاسی جماعتوں اور میڈیا سب کو حمایت کرنا چاہیے۔ جہاں تک اسلامی نظریاتی کونسل کو فعال بنانے کا تعلق ہے تو اس کے لیے آئین پاکستان کے مطابق ضروری ہے کہ پارلیمنٹ کونسل کی سالانہ رپورٹس پر بحث کرکے اُن تمام قوانین میں ترامیم کرے جن کو کونسل اپنی سفارشات میں قرآن و سنت کے خلاف قرار دے چکی ہے۔ 1973ء کے آئین کے تحت اسلامی نظریاتی کونسل تشکیل دی گئی جس کا مقصد پاکستان کے قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنا تھا۔ آئین کے مطابق کونسل کی سالانہ رپورٹس کو پارلیمنٹ میں پیش کرکے ان پر بحث کرنا بھی لازم ہے لیکن آج تک کونسل کی رپورٹس پر کسی حکومت، کسی پارلیمنٹ نے عمل نہیں کیا جس کی وجہ سے اس وقت پاکستان میں کم از کم سات سو ایسے قوانین لاگو ہیں جنہیں اسلامی نظریاتی کونسل نے غیر اسلامی قرار دیا لیکن اُن کی درستی کسی پارلیمنٹ نے نہ کی۔ اس لیے کونسل کو اہمیت دینا ہے تو ضروری ہے کہ اس کی سفارشات اور سالانہ رپورٹس پر عمل کیا جائے تا کہ پاکستان کو واقعی ایک اسلامی فلاحی ریاست بنایا جا سکے۔

(کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں