آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر2؍ربیع الثانی 1440ھ 10؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انسان ایمانداری اور خلوص سے کسی نیک کام کا آغاز کرے تو اللہ تعالیٰ راستےکھول دیتا ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار صاحب نے مستقبل میں ملک کو درپیش پانی کے انتہائی اہم مسئلے پر پوری قوم کی توجہ دلائی اور قوم کو باور کرایا اگر اب پانی کی شدید قلت پر توجہ نہ دی گئی تو ملک بنجر بن جائے گا اور وطن عزیز کو پانی کے بحران سے نکالنے کے لئے ڈیم بہت اشد ضروری ہے چنانچہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ڈیم بنانے کے لئے فنڈ ریزنگ مہم اور آگاہی مہم شروع کردی جس پر موجودہ حکومت اور عوام نے بھرپور ساتھ دیا اور چند ماہ میں اربوں روپے اکٹھے ہو گئے اگرچہ ابھی اتنی رقم اکٹھی نہیں ہوئی کہ ڈیم بن سکے مگر دو ڈیموں کی تعمیر کی بنیاد پڑ گئی۔ اب کوئی رکاوٹ ڈیم بنانے کی راہ میں آڑے نہیں آسکتی۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار صاحب نے خلوص دل سے ڈیم بنانے کی مہم شروع کی اور اندرون وبیرون ملک پاکستانیوں میں اس کی زبردست پذیرائی ہوئی دل کی تکلیف اور ڈاکٹروں کی طرف سے آرام کے مشورے کے باوجود چیف جسٹس فنڈ ریزنگ مہم میں حصہ لینے برطانیہ چلے گئے اور صرف ایک تقریب میں جو جیو ٹی وی کے زیر اہتمام منعقد ہوئی مخیر پاکستانیوں نے36کروڑ روپے ڈیم فنڈز میں دے دیئے اس اہم قومی مسئلے پر اپنا حصہ ڈالنے کے لئے جیو انتظامیہ یقیناً مبارکباد اور خراج تحسین کی مستحق ہے ڈیم بنانے کی قومی مہم میں کچھ بڑوں نے جو کھربوں روپے کما چکے ہیں خلاف توقع ڈیم فنڈز میں خاطر خواہ حصہ نہیں ڈالا جس کا اعتراف میاں ثاقب نثار صاحب نے بھی کیا ہے تاہم انہوں نے یہ واضح کیا کہ منی لانڈرنگ اور لانچوں کےذریعے کھربوں روپے بیرون ملک بھیجنے والوں سے لوٹی ہوئی دولت واپس لیں گے اور پھر ڈیم کے لئے چندے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ چیف جسٹس صاحب نے انتہا درجے کی عدالتی مصروفیات کے باوجود ڈیم بنائو مہم شروع کی جس نے پوری قوم کو جگا دیا۔ میاں ثاقب نثار صاحب نے ایسی مضبوط بنیاد ڈال دی جس پر ایک بہت مضبوط عمارت قائم ہو جائے گی اورانشا اللہ ڈیم بن کر رہے گا اور پاکستان کو صومالیہ جیسی صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا میاں ثاقب نثار صاحب جنوری میں اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو رہے ہیں اور ان کی جگہ سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس گلزار صاحب نے چیف جسٹس کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ یقیناً وہ بھی ملک سے محبت رکھنے والے جج ہیں وہ ڈیم بنانے کی مہم کو آگے بڑھائیں گے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایک اور قومی مسئلے کی جانب پوری قوم کی توجہ مبذول کرائی ہے وہ ہے آبادی کا مسئلہ۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے ہمارے وسائل میں کمی اور مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ چیف جسٹس نے اعلان کیا ہے اب وہ آبادی کنٹرول مہم بھی چلائیں گے۔ ان کے پاس وقت بہت کم ہے اور ابھی نہیں قومی نوعیت کے اہم مقدمات کا بھی فیصلہ کرنا ہے دیکھیں وہ اپنے نئے اعلان پر کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اس وقت ملک و قوم کا درد رکھنے والے وزیراعظم عمران خان کی حکومت اور موجودہ حکومت نے بھی چیف جسٹس میاں ثاقب نثار صاحب کی مہم کو آگے بڑھایا۔ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ جب حکومت اس حوالے سے سنجیدگی کا مظاہر نہیں کرے گی تو ڈیم نہیں بن سکتا۔ موجودہ حکومت کے 100دن مکمل ہو گئے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ وہ حکومت میں آتے ہی 100دن میں ملک کو ترقی کی شاہراہ پر ڈال دیں گے۔ موجودہ حکومت کو اقتدار میں آئے سو دن پورے ہو گئے ہیں تمام وزرا اپنی اپنی وزارتوں میں کئے گئے اقدامات کی رپورٹ وزیراعظم صاحب کو پیش کر رہے ہیں دیکھتے ہیں ان کی کابینہ کے ارکان نے کس حد تک کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ سرکاری اداروں کی بہتری کے لئے اور اداروں کی درست سمت مقرر کرنے کے لئے 100دن بہت ہی کم ہیں100دن میں کسی بڑے گھر کی تزئین و آرائش ممکن ہیں ہوتی تو لٹے پٹے ملک کی تعمیر و ترقی کیسے ممکن ہے مگر عمران خان صاحب کی ایک اچھی عادت ہے کہ وہ دھن کے پکے اور ایماندار شخص ہیں آگے چل کر وہ وقت بتائے گا کہ وہ اور انکے وزرا کس حد تک ایمانداری پر قائم رہیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں جب تحریک انصاف نے اقتدار سنبھالا خزانہ بالکل خالی تھا زرمبادلہ کے ذخائر انتہا درجے کی نچلی سطح پر تھے ملک دیوالیہ قرار دیئے جانے کے قریب تھا آئی ایم ایف کے پاس جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا مگر آئی ایم ایف کی انتہائی سخت شرائط سامنے تھیں، جو تسلیم کرنا حکومت کے لئے زہرقاتل تھیں ایسے میں وزیراعظم صاحب نے طوفانی دوروں کا آغاز کیا اور دوست ممالک سے رجوع کیا سعودی عرب نے دوستی اور بھائی چارے کا حق ادا کیا اور پاکستان کو مشکل حالات سے نکالنے کے لئے اربوں ڈالر کی امداددی اسی طرح چین نےبھی دوست ہونے کا حق ادا کر دیا ترقیاتی منصوبوں کے علاوہ پہلی دفعہ اربوں ڈالر دینے کا وعدہ کیا جس پر فوری عملدرآمد ہو رہا ہے اور یہی صورت حال متحدہ عرب امارات اور ملائشیا کے ساتھ ہوئی انہوں نے بھی بھرپور تعاون کیا چنانچہ حکومت نے آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے باعث ان سے قرضہ لینے کا فیصلہ ترک کردیا۔ فی الحال مشکل ترین حالات میں تحریک انصاف کی حکومت سے توقعات بہت زیادہ ہیں مہنگائی میں بے تحاشا اضافے سے لوگ پریشان ہیں مگر ابھی لوگوں نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا لوگ توقع کر رہے ہیں کہ عمران خان وعدے ضرور پورے کریں گے وزیراعظم نے مزید چھ ماہ کا وقت مانگاہے اللہ کرے موجودہ حکومت مالی مشکلات پر قابوپا لے۔ بیورو کریسی نئے وزراء سے تعاون نہیں کر رہی جو سیکشن افسر نواز شریف کے ادوار میں بھرتی ہوا وہ اس وقت ایڈیشنل سیکرٹری اور وفاقی سیکرٹری کے عہدے پر فائز ہے بہرحال آہستہ آہستہ یہ معاملہ بھی قابو میں آ جائے گا۔ ملک دہشت گردی کی نئی لہر میں پھنس گیا ہے دہشت گرد گروپوں کو غیر ملکی سہولت کاروں سے تازہ امداد اور تعاون مل گیا ہے پاکستان میں تازہ ترین دہشت گردی کے واقعات میں راء کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے ہیں تازہ ترین دہشت گردی کے واقعات میں چینی قونصلیٹ پر حملہ اور اورکزئی میں ایک مسلک کی مسجد پر خود کش حملہ شامل ہے خدا کا شکر ہے کہ غیر ملکی آقائوں کے اشارے پر پاکستان اور چین کے تعلقات خراب کرنے اور سی پیک کے منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے لئے چینی قونصلیٹ پر فائرنگ اور دھماکہ کیا گیا اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ پاکستان کی بہادر پولیس نے ایک خاتون اے ایس پی سہائے عزیز کی قیادت میں دہشت گردوں نے اس حملے کو ناکام بنا دیا گیا پولیس کے دو جوان اور دو شہری شہید ہو گئے پولیس کے جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے دہشت گردوں نے قونصلیٹ کے اندر گھس کر دہشت گردوں اور ان کے آقائوں کے منصوبے ناکام بنا دیئے۔ چند روز قبل امریکی صدر ٹرمپ کا پاکستان کے خلاف دھمکی آمیز بیان آیا کہ پاکستان میں چھپے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کرے ہم نے پاکستان کو بھاری امداد دی ہے جس کا وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر ٹرمپ کو دو ٹوک جواب دیا اور کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ 125 ارب ڈالر کا نقصان اٹھایا 70 ہزار لوگ مارے گئے امریکہ افغانستان میں بھاری رقوم خرچ کرنے اربوں ڈالر کے اخراجات کے باوجود ناکام رہا ہے۔ اس نے بڑی تعداد فوج بھی تعینات کر رکھی ہے مگر کامیاب نہیں ہوا اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار ہمیں نہ ٹھہرائے اور ہمیں ڈو مور نہ کہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں