آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍رجب المرجب 1440ھ 19؍مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

معاشی تجزیہ کاروں نے روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں اضافے پر کہا ہے کہ لگتا ہے حکومت آئی ایم ایف کی شرائط مان رہی ہے۔

معاشی تجزیہ کار محمد سہیل،سمیع اللہ طارق اور فرحان بخاری نے جیو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ بیماری کا علاج کرنے کے لئے کڑوری گولی کھانی پڑتی ہے۔

تجزیہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا کہ آئندہ چند دنوں میں ڈالر کی قدر 145 سے 150 روپے تک رہنے کا امکان ہے۔

لیدر گارمنٹس ایسوسی ایشن کے مطابق ڈالر کی قیمت بڑھنے سے لیدر کی صنعت کو فائدہ ہوگا۔

معاشی تجزیہ کار محمد سہیل نے کہا کہ ملک کی معیشت بیمار ہو تو اسے ٹیکے لگانا پڑتے ہیں، کڑوی گولیاں بھی کھانا پڑتی ہیں، حکومت کو ٹیکس نہ دینے والوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا تو عوام کو ریلیف مل سکتا ہے۔

معاشی تجزیہ کار سمیع اللہ طارق کہتے ہیں کہ طویل المعیاد اقدامات کرنا ہوں گے، ہمیں اپنی برآمدات کو بڑھانا ہوگا، معیشت کا درآمدارت پر انحصار کم کرنا ہوگا۔

معاشی تجزیہ کارفرحان بخاری کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت کا ٹیکس ڈھانچہ کمزور ہوچکا ہے، پرائز کنٹرول نظام ناپید ہوچکا ہے، ماضی میں حکومتوں نے تیل کی قیمتوں کو بڑھا کر معیشت کا خسارہ پُر کرنے کے لئے استعمال کیا۔

ممبر اقتصادی کونسل عابد سلہیری نے کہا کہ ڈالر کو مزید اوپر جانے کی ضرور نہیں پڑے گی، مارکیٹ رجحان کی وجہ سے ڈالر اوپر گیا، امکان ہے کہ ڈالر نیچے بھی آسکتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں