آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات5؍ ربیع الثانی 1440ھ 13؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امتحانات کی تاریخ کا پتہ چلتے ہی سب پڑھائی میں جُت جاتے ہیں اور ان کے سر پر امتحانات سوار ہو جاتے ہیں۔ امتحانات کے دبائو کی وجہ سے اکثر طالب علم چڑ چڑے ہوجاتے ہیں، سہمے سہمے رہتے ہیں، ٹھیک طرح سو نہیں پاتے، ان کا کھانے کو دل نہیں کرتااور بعض اوقات تو سر یا پیٹ کے درد کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ یہ بات درست نہیں ہے کہ صرف نالائق طالب علم ہی امتحانات کے دوران دبائو کا شکار ہوتے ہیں بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ لائق طالب علموں کے دبائو کا شکار ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ لائق اور زیادہ پڑھنے والے طالب علم صرف امتحان میں پاس ہونے کے لیے نہیں بلکہ زیادہ بہتر درجوں میں کامیاب ہونے کے لیے محنت کرتے ہیں۔ امتحان میں دوسروں سے بہتر کارکردگی دکھانے اور آگے نکلنے کی لگن بعض اوقات انہیں دوسروں سے زیادہ دبائو کا شکار بنا دیتی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے اسکولوں میں امتحانات پر بہت زیادہ توجہ طالب علموں کی ذہنی صحت اور خوداعتمادی کو نقصان پہنچا رہی ہے۔نیشنل یونین آف ٹیچرز کی رپورٹ کے مطابق طلباء کو ذہنی دباؤ جیسے مسائل کا سامنا ہے، جن کا تعلق امتحانات سے ہے۔8ہزار اساتذہ سے کیے گئے سروے اور تحقیق پر مبنی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امتحانات کی تیاریوں نے بچوں کے سیکھنے کے عمل کو کم کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا عزم ہے کہ ہر بچہ اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے قابل ہو سکے۔ ایک استاد کا کہنا تھا، ’دس یا گیارہ سال کا بچہ گھبرایا ہوا اور بے بس ہو کر آپ کے سامنے بیٹھا ہوتا ہے‘۔ رپورٹ میں جن اساتذہ نے سروے میں حصہ لیا، ان میں سے بہت سے متفق تھے کہ امتحانات سے قبل طلبا بہت زیادہ ذہنی دباؤ میں دیکھے گئے یا انھیں پریشانی لاحق ہوگئی۔ امتحانات کے دبائو سے نکلنے اور عمدہ مارکس حاصل کرنے کے لیے ماہرین کچھ مشورے دیتے ہیں، جس پر عمل کرکے فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے۔

صبح کی سیر

صبح کی سیر یا چہل قدمی آپ کے دماغ کو مرتکز کرنے میں مدد دیتی ہے۔ تاہم اس سیر کے وقت اپنے دماغ کو تمام پریشانی اور خیالات سے بالکل خالی رکھیں اور کسی چیزکے بارے میں کچھ بھی نہ سوچیں۔ اپنے آپ کو یہ باور کروائیں کہ جسمانی سرگرمیاں آپ کو اچھا رکھنے میں مدد کرتی ہیں۔ صبح کی تازہ ہوا آپ کے ذہنی تناؤ کو کم کرتی ہے اورآپ تازہ دم ہو کر پڑھائی کیلئے تیار ہو جاتے ہیں۔

صحت بخش غذائیں

امتحانات کے دنوں میں جنک فوڈز اور چکنائی والی غذائوں سے بالکل ناطہ توڑ لیں۔ تین وقت پیٹ بھر کر کھانے کے بجائے باقاعدہ وقفے سے کچھ ہلکا پھلکا کھائیں تاکہ معدے پر گرانی اور زیادہ کھانے کی وجہ سے غنودگی طاری نہ ہو۔

اسمارٹ فون سے کنار ہ کشی

پڑھائی کے دوران وقفہ لینا ضروری ہے تاکہ آپ نے جو یاد کیا ہے وہ نہ بھولیں۔ دو سے تین گھنٹے پڑھائی کے بعد دس سے پند ہ منٹ کا وقفہ لینا ضروری ہوتا ہے لیکن کوشش کریں کہ اس دوران اسمارٹ فون کو ہاتھ نہ لگائیں۔ اپنے فیس بک او رٹوئٹر وغیرہ کے اکائونٹس کو ڈی ایکٹیویٹ کردیں تاکہ آپ کی توجہ میں انتشار پیدا نہ ہو۔

وقت کا صحیح استعمال

امتحانات کی تیاری میں سب سے اہم بات وقت کا صحیح استعمال ہے۔ وقت کے صحیح استعمال کا مطلب تیاری جلدی شروع کرنا، باقاعدگی سے پڑھنا، اس بات کا خیال رکھنا کہ کس مضمون کے پرچے سے قبل کتنے دن کا وقفہ ہے، پچھلے سالوں کے امتحانات کے سوالوں سے رہنمائی لینا اور سب سے اہم بات یہ کہ اگر کوئی کہے کہ امتحانی پرچہ آؤٹ ہو گیا ہے تو اس پر یقین نہ کرنا ، بس اپنی تیاری پر دھیان دینا۔

والدین کی سپورٹ

والدین کوشش کریں کہ بچوں کو گھر پر پُرسکون تعلیمی ماحول فراہم کریں۔ امتحانات کے دوران گھر پر کسی بھی قسم کی سماجی یا نجی تقریبات منعقد نہ کر یں اور کسی بھی تقریب میں اپنی یابچوں کی شرکت کو ممنوع تصور کر یں۔گھر کو گھریلوجھگڑوں اور تنازعات سے پاک رکھیں۔ ٹی وی اور انٹرنیٹ کے استعمال سے خود کو روکے رکھیں اور بچوں کو بھی اس سے باز رکھیں۔ بچوں کو ہر وقت پڑھائی کی تلقین نہ کر یں بلکہ پڑھائی کیلئے ایک نظام الاوقات تر تیب دیں اور ان اوقا ت پر صرف نگرانی کا کام انجام دیں۔

نیند کا خیال رکھیں 

راتوں کو زبردستی جاگ کر پڑھنے سے کوئی زیادہ فائدہ نہیں ہوتا ۔ پڑھائی کے دوران آپ کو کچھ دیر کے لیے سو لینا چاہئے ۔ اگرآپ نے دس سے پندرہ منٹ کی نیند لے لی تو اس سے آپ کی ذہنی توانائی پھر سے لوٹ آئے گی اورآپ خود کو تازہ دم محسوس کریں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں