آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ایک انگریزی محاورے کا کیا خوبصورت ترجمہ ہے کہ
ہزاروں لغزشیں حائل ہیں لب تک جام آنے میں
غالب نے تو اسے اپنے مخصوص شاعرانہ اسلوب کا جامہٴ رنگیں اپناتے ہوئے کیا کمال کا شعر کہا
دام ہر موج میں ہے حلقہٴ صد کام نہنگ
دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک
ہر موج کے جال میں سیکڑوں مگرمچھ اپنے مہیب جبڑے کھولے شکار کی تلاش میں ہیں۔ جانے ابر بہار کے اس قطرے پہ کیا گزرتی ہے جو سیپ کے منہ میں گہر بننے کے انتظار میں ہے۔ یوں تو ہمارے ہاں ایک ایک سے بڑھ کر حشر ساماں خبر ہر روز کوئی نہ کوئی نئی قیامت جگا جاتی ہے اور ہم اسے معمولات کی ایک عمومی سی کروٹ خیال کرکے منہ دوسری طرف پھیر لیتے ہیں لیکن جب سے انتخابات کی بات چلی ہے، ایسی ہر خبر یہ وسوسہ سا چھوڑ جاتی ہے کہ کہیں جمہوریت پھر آمریت کے کسی مگرمچھ کا لقمہ نہ ہوجائے۔ جو کسی نہ کسی موج حوادث کی اوٹ میں اپنے خونی جبڑے کھولے بیٹھا رہتا ہے۔
ایم کیو ایم کے قائد جناب الطاف حسین کو توہین عدالت کے الزام میں عدالت عظمیٰ کے سامنے پیش ہونے کا نوٹس کوئی ایسی اچنبھے کی بات نہیں ہونی چاہئے تھی۔ دنیا بھر میں ایسی روایات موجود ہیں۔ ہمارے ہاں بھی یہ کوئی نئی روایت نہیں۔ ہماری تاریخ کا ایک مقبول سیاستدان اپنی عدالتوں میں پیشیاں بھگتتا ہوا، انہی عدالتوں کے حکم پر پھانسی چڑھ

گیا۔ نواز شریف کو تب دوبار اسی الزام میں عدالتی کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑا جب عدلیہ اتنی قوی نہ تھی اور عوام کا سیل رواں اس کی پشت پہ نہ تھا۔ اسی الزام میں سید یوسف رضا گیلانی کی وزارت عظمیٰ چھن گئی اور وہ اگلے پانچ برس کے لئے سیاست بدر ہوگئے۔ اسی الزام میں موجودہ وزیراعظم پرویز اشرف پیشیاں بھگت چکے ہیں۔ اسی الزام میں صدر آصف علی زرداری لاہور ہائیکورٹ میں مقدمہ لڑرہے ہیں۔ اسی عدالت کے سامنے آرمی چیف، ایجنسیوں کے سربراہ اور اعلیٰ سرکاری عہدیدار، احکامات کی تعمیل میں اپنے تحریری بیانات جمع کراتے رہے ہیں۔ اسی عدالت کے سامنے ایف سی کے سربراہ کو پیش ہونا پڑا۔ اسی عدالت کے سامنے ایک سابق آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کو پیش ہونا پڑا اور وہ مجرم ٹھہرائے گئے۔ عدالتوں میں پیش ہونا، ہرگز سبکی کی دلیل ہے نہ اس سے کسی کے مرتبہ و مقام میں کوئی فرق آتا ہے۔ سیاستدان کے لئے تو یہ افتخار کی علامت ہوتی ہے کہ وہ کروڑوں عوام کے سامنے آئین کے احترام اور قانون کی بالادستی کا عملی نمونہ پیش کرے۔
کیا الطاف حسین نے واقعی عدالت کی توہین کی ہے؟ ابھی یہ بات ایک سوالیہ نشان ہے۔ سپریم کورٹ نے آئینی طریقہ کار کے مطابق انہیں یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ عدالت کے سامنے آکر اپنی صفائی پیش کریں۔ اس طلبی کا کوئی آئینی و قانونی ردعمل ہی سامنے آنا چاہئے۔ گزشتہ روز اس ضمن میں جاری ہونے والے عدالتی حکم میں معاملے کے پس منظر کا پوری طرح جائزہ لیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے 13ستمبر 2011ء کو وطن پارٹی بنام وفاق پاکستان نامی مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کچھ واضح ہدایات جاری کی تھیں۔ کہا گیا تھا کہ فرقہ وارانہ فسادات اور باہمی جھگڑوں کے سدباب کے لئے تھانوں اور ریونیو حدود کا نئے سرے سے تعین کیا جائے تاکہ یہ تاثر ختم ہو کہ مختلف علاقے مختلف گروہوں کے قبضے میں ہیں اور وہ اپنی دہشت کے زور پر انہیں دوسروں کے لئے ممنوعہ علاقے قرار دے سکتے ہیں۔ یہ ہدایت بھی کی گئی تھی کہ پاکستان کے اقتصادی اور تجارتی مرکز کراچی کو امن آشنا کرنے کے لئے نئی حلقہ بندیاں کی جائیں عملاً یہ ہوا کہ وفاقی حکومت یا حکومت سندھ نے اپنی عمومی افتاد طبع کے مطابق ان ہدایات کو نظرانداز کردیا۔ قابل غور پہلو یہ ہے کہ ایم کیو ایم سمیت کسی متعلقہ فریق (stake holder) نے اس کے خلاف نظرثانی کی کوئی اپیل دائر نہ کی اور بظاہر اس فیصلے کو قبول کرلیا گیا۔شہر کو اسلحہ سے پاک کرنے اور متاثرین کو معاوضہ ادا کرنے کے لئے دی گئی ہدایات کو بھی کوئی اہمیت نہ دی گئی۔ بعدازاں عدالت نے الیکشن کمیشن کو طلب کرکے دریافت کیا تو سیکرٹری کمیشن نے بتایا کہ آئین اور قواعد و ضوابط کے مطابق نئی حلقہ بندیوں میں کوئی بات مانع نہیں۔ اسی دوران اے این پی کے سینیٹر حاجی عدیل نے عدالت میں درخواست دائر کی کہ ایک سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی عدالتی احکامات پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ سپریم کورٹ نے سوا سال پہلے والے حکم کو نئی تاکید کے ساتھ دہرایا جس پر قائد تحریک نے 2دسمبر2012ء کو اپنے ٹیلیفونک خطاب میں شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”…سپریم کورٹ کے جج ایم کیو ایم کا نام و نشان مٹانے کے عمل میں شریک ہوگئے ہیں۔ جس جج اور جس بنچ نے یہ فیصلہ دیا ہے اگر وہ کروڑوں عوام کی نمائندہ جماعت ایم کیو ایم کے خلاف دیئے گئے ان ریمارکس پر معافی نہیں مانگیں گے تو میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ انشاء اللہ ان کا نام و نشان بھی مٹ جائے گا۔ عدلتی ریمارکس دو کروڑ سے زائد عوام کی توہین ہیں۔ ان کے لئے گالی ہیں۔ فاضل جج۔عوام سے معافی مانگو…ورنہ جلد قہر خداوندی تم پر نازل ہوگا…تمہارا نام ہمیشہ یزیدیت کے ساتھ آئے گا…“۔عدالت عظمیٰ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں الطاف حسین کی تقریر کا تفصیلی حوالہ دیا ہے۔ اب زیرنظر سوال یہ ہے کہ کیا یہ تقریر توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے یا نہیں۔ اس کا فیصلہ بھی مروجہ آئین و قانون کے تحت عدالت عظمیٰ کو ہی کرنا ہے۔ الطاف حسین کو اپنے وکلاء کے ہمراہ یہ ثابت کرنا ہے کہ ان کا خطاب کسی طور توہین عدالت قرار نہیں پاتا۔ لندن سے ان کا ردعمل یہی آیا ہے کہ وہ وکلاء سے مشاورت کے بعد عدالتی نوٹس کا جواب دیں گے۔ یہ معقول بات ہے لیکن جو کچھ دو دن قبل، کراچی، حیدرآباد، سکھر اور بہت سے دوسرے مقامات پر زبردست فائرنگ، فوری جبری ہڑتال اور شہروں پر طاری کردیئے جانے والے سکوتِ مرگ کی صورت میں سامنے آیا، اسے کسی طور بھی مناسب قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر اور وفاقی وزیر ڈاکٹر فاروق ستار نے اتوار کو پریس کلب کے سامنے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم بعض ناروا عدالتی ریمارکس کے حوالے سے مذکورہ جج کے خلاف جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کریں گے“۔ یہ بھی قابل فہم اور معقول بات ہے۔ نئے قوانین کے تحت ایم کیو ایم کو ایسا ریفرنس دائر کرنے کا استحقاق حاصل ہے لیکن ڈاکٹر فاروق ستار نے مزید فرمایا کہ … 7جنوری کو الطاف حسین عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوں گے البتہ کراچی سمیت ملک بھر کے لاکھوں عوام اس دن عدالت میں جمع ہوں گے۔ عدالت نوٹس فوراً واپس لے۔ اجارہ داری کا لفظ عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے۔ کوئی غیرمنصفانہ متعصب اور جانبدار شخص منصف نہیں ہوسکتا۔ ایک اور اخباری رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ …”7جنوری کو پانچ کروڑ عوام عدالت میں پیش ہوں گے۔ قائد تحریک کو جاری کیا گیا نوٹس، اس جج کو دیا جائے جس نے اجارہ داری کا لفظ استعمال کیا“۔
مجھے نہیں معلوم کہ عدالتی محاذ کا یہ نیا معرکہ کیا گل کھلائے گا۔ ایم کیو ایم جانے اور عدالت عظمیٰ جانے۔ مجھے تو یہ دھڑکا لگا ہوا ہے کہ کہیں جمہوری سسٹم کے دریا میں مہیب جبڑے کھولے بیٹھے مگرمچھوں کی نہ بن آئے اور انہیں جمہوریت کا لقمہ بھرنے کا موقع نہ مل جائے۔ ہوا سی چل پڑی ہے کہ موجودہ سسٹم کی کوکھ سے مثبت نتائج جنم نہیں لے سکتے لہٰذا اس کا دفتر لپیٹ کر اس لمحہ سعید کا انتظار کیا جائے جب غربت کا مکمل طور پر خاتمہ ہوجائے گا، جب پاکستان میں کوئی شخص ناخواندہ نہیں رہے گا، جب اٹھارہ کروڑ انسانوں میں کسی ایک کا سر بھی سماجی تحفظ کی چھتری سے محروم نہ ہو گا۔ شیخ الاسلام اسی انقلاب آفریں ایجنڈے کے ساتھ تشریف لا رہے ہیں۔ ڈر ہے کہ انتخابات سے پہلے کوئی ایسا تلاطم نہ بپا ہوجائے کہ شیخ الاسلام کے انقلاب کی رگوں میں یکایک تازہ لہو دوڑ جائے اور جمہویت کی کھیتی سے اب تک ”روزی“ نہ پاسکنے والے سارے حرماں نصیب ”دہقان“ اکٹھے ہوکر ہر خوشہٴ گندم کو خاکستر کر دیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں