آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل3؍ربیع الثانی 1440ھ11؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

واشنگٹن: سیم فلیمنگ

لندن : جم پیکارڈ

ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی وزیراعظم کے بریگزٹ معاہدے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، انہوں نے کہا کہ یہ یورپی یونین کے لئے فائدہ مند جبکہ امریکا کے ساتھ تجارت کیلئے برطانیہ کی اہلیت کو نقصان پہنچائے گا۔

پیر کے روز امریکی صدر کا بیان تھریسامے کو دارالعوام میں اتوار کو یورپی یونین کے رہنماؤں کی جانب سے مفاہمت کے معاہدے کی منظوری پر وزیراعظم بریفنگ دینے کے دوران مخالفانہ ردعمل کا سامنا کرنے کے گھنٹوں بعد آیا ۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کا اظہار کیا کہ بریگزٹ معاہدہ برطانیہ کیلئے امریکا کے ساتھ کسی تجارتی معاہدے کرنے کیلئے زیادہ مشکلات پیدا کردے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے صحایفوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کیلئے یہ ایک بہترین منصوبہ ہوسکتا ہے لیکن اس وقت جو معاہدہ سامنے آیاہے، وہ امریکا کے ساتھ تجارت کے قابل نہیں رہ سکتے، اور میرا نہیں خیال کہ وہ یہ سب چاہتے ہیں،اس معاہدے کیلئے یہ کافی منفی ثابت ہوگا۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم تھریسامے کی بریگزٹ پالیسی پر حملہ کیا ہے۔ موسم گرما کے دوران دی سن نیوز پیپر کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے خیال پیش کیا کہ برطانیہ کا بریگزٹ منصوبہ امریکا اور برطانیہ کے مابین تجارتی معاہدے کو کمزور کرسکتا ہے، یہاں تک کہ انہوں نے تھریسامے کے یورپی یونین مخالف حریف بورس جانسن کوبے حد سراہا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان وزیراعظم تھریسامے پر دباؤ میں اضافہ کرے گا جیسا کہ انہوں نے 11 دسمبر کو اہم ووٹ سے پہلے معاہدے کے لئے برطانوی پارلیمان کے اندر قائل کرنے میں کامیاب ہونے کی کوشش کی۔ جیسا کہ وہ برطانیہ کا یورپی یونین سے باہر نکالنے کی تیاریاں کررہی ہیں امریکا کے ساتھ آزاد تجارت کا وعدہ تھریسامے کا موزوں نکتہ ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت، اگر آپ معاہدہ کو دیکھیں تو وہ ہمارے ساتھ تجارت نہیں کرسکتے ہیں، اور یہ مناسب نہیں ہوگا۔ مجھے نہیں لگتا کہ ان کا یہ مقصد ہے، میرا نہیں خیال کہ وزیراعظم تھریسامے یہ چاہتی ہیں اور امید ہے کہ وہ اس کے ابرے میں ضرور کچھ کریں گی۔

بروکنگ تھنک ٹینک میں مرکز برائے امریکا اور یورپ کے ڈائریکٹر تھامس رائٹ نے کہا کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے پاس آؤ اور انہیں پیچھے چھوڑ دو، لیکن 27 ممالک پر مشتمل یورپی یونین کی مارکیٹ بہت وسیع ہے۔ یہ برطانیہ اور یورپ کے طویل المدت مفادات کیلئے نقصان دہ ہے اگر برطانیہ اور یورپی یونین کے 37 ممالک کے درمیان کوئی ٹکراؤ ہے۔

امریکی صدر کا بیان وزیراعظم تھریسامے کے ناقدین نے پکڑ لیا۔ لیبر پارٹی کی رکن ٹیولپ صدیق نے کہا کہ یہاں تک کہ ڈونلڈ ترمپ جو اتنے عقلمند نہیں وہ بھی جانتے ہیں کہ یہ اچھا معاہدہ نہیں ہے۔

یورپی یونین کے مخلاف ٹوری پارٹی کے رکن پارلیمان مائیکل فیبرکینٹ نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بالکل صحیح بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ یورپی یونین کے لئے بہت اچھا معاہدہ ہے۔

مارگریٹ تھیچر کی حکومت میں کنزیرویوٹو پارٹی کے سابق وزیر تجارت اور یورپی یونین کے معروف مخالف پیٹر للی نے کہا کہ بدقسمتی سے ڈونلڈ ٹرمپ کا مؤقف درست ہے۔

لارڈ للی نے کہا کہ معاہدہ کا مسودہ امریکا کے ساتھ برطانوی تجارتی معاہدے کو خارج از امکان کردے گا، ٹرانس پیسیفیک پارٹنر شپ میں شمولیت اختیار کرنے کا دعوت نامہ اکیلے قبول کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

تاہم یورپی یونین کے لئے یہ ایک شاندار معاہدہ ہے، جو یورپی یونین کے برآمدکنندگان کیلئے رعایتوں کے بدلے میں اپنے کاروباری شراکت داروں کو برطانیہ کی مارکیٹ تک رسائی کی پیشکش فراہم کرنے کے قابل ہوں گے۔

دسویں نمبر کے ترجمان نے کہا کہ سیاسی اعلان کہ ہم یورپی یونین کے ساتھ متفق ہیں کافی واضح ہے ہماری اپنی ایک خودمختار تجارتی پالیسی ہوگی اس لئے برطانیہ امریکا کے ساتھ سمیت دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے کرسکتا ہے۔

ہم نے پہلے ہی مشترکہ ورکنگ گروپوں، جس کی اب تک پانچ ملاقاتیں ہوچکی ہیں، کے ذریعے امریکا کے ساتھ جرأت مندانہ معاہدوں کے لئے بنیادی کام شروع کررہے ہیں۔

امریکی تجارتی نمائندوں نے بھی اس مہینے کے آغاز میں برطانیہ اور امریکا کے آزاد تجارتی معاہدے کے مستقبل پر عوامی رائے جاننے کیلئے مطالبہ جاری کیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں