آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍شوال المکرم 1440ھ 20؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
معروف ادیب اور ناول نگار عبداللہ حسین نے ”اداس نسلیں“ لکھ کر اردودان طبقے میں دھوم مچا دی تھی، ان دنوں پاکستان کے ہر طبقے، علاقے اور نسل میں بڑھتے ہوئے غصے، اشتعال اور ناراضگی کے جذبات مجھے سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ اگر عبداللہ حسین ”ناراض نسلیں“ کے عنوان سے نیا شاہکار تخلیق کریں تو کمال ہو جائے، شائد پبلشر سے اپنی اعزازی کاپی حاصل کرنے کے لئے انہیں خود بھی طویل قطار میں لگنا پڑے۔
نوجوان نسل اپنے بزرگوں سے نالاں، بزرگ اپنے رہنماؤں اور رہنما اپنے بزرگوں پر برہم، عوام حکمرانوں سے اور حکمران عدلیہ و میڈیا سے ناراض، کہیں ریاستی اداروں سے شکایت اور کہیں ریاست ہی ہدف تنقید، شکوہ ہر زبان پر ہے، شکر کے کلمات سننے کو کم ملتے ہیں۔ شائد اس لئے ترقی و خوشحالی کے باوجود پریشانی، اضطراب اور تشویش نے قومی وجود کو جکڑ رکھا ہے اور سکون قلب عنقا۔
ان دنوں حکمران اتحاد اور اپوزیشن کے سرکردہ پارلیمنٹرین دی نیوز کے سینئر رپورٹر عمر چیمہ کی ایک رپورٹ کو طنز اور تنقید کا ہدف بنا رہے ہیں جس میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سمیت سرکردہ سیاستدانوں کی طرف سے انکم ٹیکس کے گوشوارے داخل نہ کرنے کا ذکر ہے یہ سیاستدان اور قوم سے ٹیکس وصول کرنے کے خواہش مند عوامی نمائندے اربوں روپے کی جائیدادوں، مہنگی امپورٹڈ گاڑیوں

اور بینک بیلنس کے مالک ہیں مگر ٹیکس ادا کرنا تو درکنار ٹیکس ریٹرن داخل کرنا کسر شان سمجھتے ہیں جو تین چار لاکھ روپے سالانہ آمدنی والے ہر شخص کی قانونی ذمہ داری ہے۔ ان حکمرانوں اور سیاستدانوں کو چیئرمین نیب پر بھی غصہ ہے، جس نے ملک میں دس سے بارہ ارب روپے روزانہ کرپشن کا انکشاف کرکے حکمران طبقے کی اخلاقی ساکھ پر سوالیہ نشان ثبت کر دیا ہے اور عدلیہ پر برہمی کہ وہ روزانہ ناقص حکمرانی کا پردہ چاک کرتی ہے۔

تازہ ترین ناراضگی کا شدت سے اظہار ڈاکٹر فاروق ستار نے عدالت عظمیٰ پر کیا اور ایم کیو ایم کے اس مرد معقول و معتدل نے فرمایا ”سیاستدانوں اور بیورو کریسی کے خلاف اقدامات چیف جسٹس کے خلاف واٹرلو ثابت ہوں گے“ نرم خو فاروق ستار کا یہ ردعمل کراچی میں نئی حلقہ بندیوں، فوج کے ذریعے گھر گھر ووٹوں کی تصدیق کے عدالتی احکامات اور قائد تحریک الطاف حسین کو توہین عدالت کا نوٹس جاری ہونے کے بعد سامنے آیا جبکہ چھ جماعتوں کی طرف سے ناقابل تردید شکایات پر سندھ کے الیکشن کمشنر سونو لال بلوچ کا تبادلہ کر دیا گیا ہے جو حکمران اتحاد کے لئے بڑا دھچکا ہے لیکن کراچی کی حکومت مخالف قوتوں کے لئے باعث اطمینان۔
ایم کیو ایم کو اپنا ردعمل ظاہر کرنے کا جمہوری حق ہے اور عدالت عظمیٰ اس پر قانونی تقاضوں کے مطابق گرفت کرنے میں آزاد! مگر میری ناقص رائے میں ایم کیو ایم کو قدرت نے بہترین موقع عطا کیا ہے کہ توہین عدالت کا نوٹس ملنے پر جذباتی بیان بازی کے بجائے قانونی شہ دماغوں کی بہترین ٹیم کے ساتھ قائد تحریک کے موقف کا دفاع کرے اور ثابت کرے کہ اگر بقول قائد تحریک ”جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے مفادات کا تحفظ کرنے والی جماعتوں“ کے رہنما اور وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز میاں نواز شریف اور مخدوم یوسف رضا گیلانی نوٹس ملنے پر عدالتوں کے سامنے پیش ہو گئے ”نوٹس ملیا ککھ نہ ہلیا“ تو قائداعظم کے پیروکار شہری عوام کی نمائندہ پڑھی لکھی، غریب اور متوسط طبقے کی قیادت بھی شائستگی، معقولیت، توازن اور لکھنوی تہذیب کے ادب و آداب کے ساتھ قانونی تقاضے پورے کر سکتی ہے اور اپنے کارکنوں ووٹروں کو بھی جذباتی ردعمل ظاہر کرنے سے باز رکھ سکتی ہے۔
جنرل پرویز مشرف کی طرف سے اس کے چہرے پر لگا 12 مئی کا بدنما داغ دھونے اور ملک بھر کے غریب اور متوسط طبقے کو اپنے قول و فعل، گفتار و کردار سے متاثر کرکے اثر و رسوخ قومی سطح پر بڑھانے کے لئے ایم کیوایم کا قانون پسند اور عدلیہ کے احترام پر مبنی سافٹ امیج ضروری ہے تاکہ مخالفین کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ کراچی میں کاروباری بندش اور اربوں روپے کے نقصان کے ذمہ دار توہین عدالت کے نوٹس سے پریشان اور توہین الطاف پر برافروختہ عناصر ہیں۔ جمعہ اور ہفتہ کو کراچی میں جو ہوا وہ ایم کیو ایم کے مخالفین، ایسٹبلشمنٹ اور خفیہ ایجنسیوں کی سازش ہو سکتی ہے مگر اسے ناکام بنانا بہرحال ایم کیو ایم کی ذمہ داری ہے۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو دباؤ میں لانے اور الزام تراشی، کردار کشی کے ذریعے جرأت مندانہ کردار سے باز رکھنے کی نئی مہم کا آغاز ہو گیا ہے، سنا ہے فیصل رضا عابدی نئے ہتھیاروں کے ساتھ میدان میں اترنے والے ہیں۔ اب تک چیف جسٹس ہر آزمائش میں ثابت قدم اور سرخرو رہے معلوم نہیں توہین عدالت کا تازہ نوٹس کیا گل کھلائے، حکمرانوں کے بہی خواہ اس بہانے الیکشن کے التوا کی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں تاکہ مرزا یار کھل کھیلے، مگر کیا سب کو ایک آنکھ سے دیکھنے اور قانون کے اطلاق میں کسی چھوٹے بڑے، طاقتور کمزور سے رورعایت نہ کرنے والی عدالت عظمیٰ سے ناراض عناصر کو کھلی چھٹی ملنی چاہئے؟
کیا ملک میں تیزی سے بڑھتی مایوسی، بے یقینی اور محرومی کا یہ علاج نہیں کہ امید کے چراغ جلانے، قانون کی حکمرانی کا تصور زندہ رکھنے اور عدل و انصاف کی ترازو سے دونوں پلڑے برابر رکھنے والے اس ادارے کی رٹ چلتی رہے؟ تاکہ یہ ملک ملک رہے، انسانی معاشرہ نظر آئے جنگل میں تبدیل نہ ہو جہاں بھیڑیئے، شیر، باگڑ بلے اور دوسرے خونخوار جانور کسی معصوم اور کمزور کو جینے نہیں دیتے۔ پاکستان اس وقت ناراض نسل کی گرفت میں ہے، ایک دوسرے سے ناراضگی آہستہ آہستہ بے تدبیری، مصلحت کیشی اور کوتاہ اندیشی کی وجہ سے پاکستان اور اس کی بقا کے ضامن اداروں کے ساتھ ناراضگی بلکہ دشمنی میں بدل رہی ہے مگر ہم اور ہمارے مسیحا تماش بینی میں مصروف ہیں شائد ”ناراض نسلیں“ ہمارا مقدر سنوار دیں بشرطیکہ ان کا رخ قومی اداروں کے بجائے اس ملک کو بھیڑیوں اور گدھوں کی طرح نوچنے والے طبقہ اشرافیہ کی طرف ہو جائے، بدمعاش، بدقماش، شعبدہ باز اور خونخوار اشرافیہ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں