آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار یکم ربیع الثانی 1440ھ9؍ دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پائیدار جمہوریت کے حامل ممالک میں یہ دستور ہے کہ پارلیمنٹ اور دیگر قومی ادارے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے تمام تر امور تسلسل کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ ان جمہوری اصولوں کی پاسداری کرنے والے ملکوں میں برس ہا برس تک غیر متزلزل حکومتیں قائم رہتی اور آئینی مدت بطریق احسن پوری کرتی ہیں۔ اسے بدقسمتی کہیے کہ ملکی تاریخ کے 71برس میں پاکستان کے جمہوری اداروں کو تسلسل سے صحت مند ماحول میں کام کرنے کا بہت کم وقت ملا۔ الحمدللہ آج ملک میں جمہوریت قائم ہے جس کا تقاضا ہے کہ قومی اہمیت کے تمام امور پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے کا ماحول پیدا کیا جائے اور قانون سازی کے معاملے میں مخالفت برائے مخالفت کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے افہام و تفہیم سےکام لیا جائے ، اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے آرڈی ننسوں کے ذریعے قانون سازی کا بیانیہ سردست محل نظر ہے۔اس طرح قانون سازی کا راستہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کا ایک طریقہ کار تو بن سکتا ہے لیکن جمہوریت کے علمبردار معاشروں میں پارلیمنٹ میں کئے جانے والے فیصلوں کو ہی عزت دی جاتی ہے۔ اس وقت سینیٹ میں اپوزیشن کو اکثریت حاصل ہے اور قومی اسمبلی میں بھی بالعموم متضاد نظریات کی پارٹیوں کا اتحاد قائم ہے جو ضروری نہیں کہ ہر معاملے میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔ اس سے قانون

سازی میں حکومت کو مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اس کے پیش نظر ضروری قانون سازی کے لئے صدارتی آرڈی ننسوں کے اجرا کا جو عندیہ دیا ہے، سیاسی مخالفین اور قانونی ماہرین اسے پارلیمانی جمہوریت کے منافی طریقہ قرار دے رہے ہیں۔ آرڈی ننس کے ذریعے نافذ کئے جانے والے قوانین کی منظوری آگے چل کر پارلیمنٹ سے لینا ہوتی ہے اگر اپوزیشن کسی آرڈیننس کی منظوری نہیں دیتی اور قرار داد کے ذریعے اسے نامنظور کر دیتی ہے تو آرڈیننس اپنی 120 روزہ میعاد کی تکمیل سے پہلے ہی غیر موثر ہو جائے گا۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ سپریم کورٹ اپنے مختلف فیصلوں میں منتخب پارلیمنٹ کی بجائے منتظمہ یا عاملہ کی جانب سے آرڈی ننس کے ذریعے دستور سازی کو رد کر چکی ہے کیونکہ یہ اصل میں پارلیمنٹ ہی کا دائرہ اختیار ہے۔ آرڈی ننس کے ذریعے حکومت چلانا ماضی کی آمرانہ حکومتوں میں تو ہوتا رہا ہے لیکن ایک منتخب پارلیمانی ڈھانچے کی موجودگی میں یہ طریقہ اختیار کرنا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ منتخب عوامی نمائندوں کی شرکت اور بحث ومباحثہ کے بغیر قانون سازی کسی صورت مناسب نہیں۔ اس وقت بلاشبہ موجودہ حکومت کو قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل ہے لیکن سینیٹ میں طاقتور اپوزیشن کا سامنا ہے اس صورت حال میں قانون سازی بظاہر مشکل دکھائی دے رہی ہے لیکن پارلیمانی جمہوریت میں حکومت اوراپوزیشن میںکسی بھی مسئلے کے حل کیلئے مکالمہ اس نظام کا ناگزیر حصہ ہے۔ اگر پارلیمنٹ کا اجلاس نہ ہو رہا ہو تو کسی فوری مسئلے سے نمٹنے کیلئے آرڈی ننس کے اجرا میں کوئی قباحت نہیں لیکن جب پارلیمنٹ اِن سیشن ہو یا اس کا اجلاس بلانے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو تو آرڈی ننس کا سہارا لینا کسی طور مستحسن نہیں۔ پارلیمنٹ میں اتفاق رائے پیدا کرنا ہی حکومت کا اصل امتحان ہے۔ مزید برآں یہ تمام سیاسی جماعتوں کا کام ہے کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا مرکز بنائے رکھنے کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں اسے منتخب عوامی فورم سمجھتے ہوئے بے مقصد اور غیر پارلیمانی حربوں سے گریز کیا جائے۔ پاکستان کو اس وقت بہت سے بحرانوں کا سامنا ہے معاشی مسائل کے علاوہ اسے اپنے گردو پیش کے کسی قدر غیر دوستانہ ماحول کا بھی سامنا ہے۔ بعض مخاصمانہ قوتیں نہیں چاہتیں کہ پاکستان مضبوط اور مستحکم ہو۔ ان کے عزائم ناکام بنانے کیلئے ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ ذاتی پسند و ناپسند کی قربانی دیکر قومی یک جہتی اور سیاسی استحکام کو فروغ دیں۔ یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب جمہوری ادارےمضبوط ہوں جو بھی فیصلے کئے جائیں پارلیمنٹ کی منظوری سے کئے جائیں اور اس مقصد کیلئے باہمی اختلافات افہام و تفہیم سے دور کئے جائیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں