آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر2؍ربیع الثانی 1440ھ 10؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کرپشن کے خاتمے اور ٹیکس چوروں کو پکڑنے کی ہمہ گیر مہم کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کی بحالی کے لئے سرکاری اخراجات میں کمی ایک منطقی اقدام ہے جس پر تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے عملدرآمد شروع کردیا ہے۔ ابتدا وزیراعظم ہائوس کی ضرورت سے زیادہ گاڑیوں کی فروخت سے کی گئی اور اب وفاق کے اخراجات میں دس فیصد بچت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزارت خزانہ کے نوٹیفیکیشن کے مطابق ہر قسم کی گاڑیوں (موٹر سائیکلوں کے علاوہ) کی خریداری اورنئی اسامیوں کی تخلیق پر پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے گنجائش رکھی گئی ہے کہ آپریشنل مقاصد کے لئے وزارت خزانہ سے این او سی حاصل کرنے کے بعد گاڑیاں خرید سکیں گے۔ اس فیصلے سے سرکاری افسروں اور ان کے دفاتر کے لئے بے دریغ گاڑیاں خریدنے اور ان کے غیرقانونی اور بے جا استعمال کا راستہ بند ہو جائے گا۔ نئی اسامیوں کی تخلیق پر پابندی بھی مستحسن اقدام ہے ایسی اسامیاں عموماً حکومتی شخصیات اور اعلیٰ عہدیداروں کے منظور نظر افراد کو نوازنے کیلئے تخلیق کی جاتی تھیں تاہم لازم ہے کہ جہاں حقیقی ضرورت ہو وہاں شفاف طریقے سے اسامیوں کی گنجائش نکالی جائے تاکہ مستحق افراد میں بے روزگاری کا خاتمہ ممکن ہو۔ سرکاری وفود کو بلا ضرورت بیرون ملک بھیجنے پر پابندی بھی اچھا فیصلہ ہے۔

جہاں ناگزیر ہو وہاں بھی وفود کے ارکان کی تعداد کم سے کم رکھی جائے گی۔ ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو 15دسمبر تک تمام وفاقی وزارتوں اور ڈویژنوں کے ساتھ مل کر بچت سے متعلق حکمت عملی وضع کرے گی۔ اس میں مختص بجٹ کے اندرگاڑیوں کی مرمت، مینٹی نینس اور دیگر اخراجات کی مد میں بچت بھی شامل ہو گی۔ وفاق کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں کو بھی چاہئے کہ بچت اور کفایت شعاری کے ایجنڈے پر کام کریں اور اشد ضروری اخراجات کے علاوہ ہر قسم کی فضول خرچیوں کو روکیں۔ سرکاری سطح پر کفایت شعاری کی مہم کے انفرادی سطح پر بھی مثبت نتائج برآمد ہوں گے اور اصراف بے جا اور نمود و نمائش کا کلچر ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں