آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار یکم ربیع الثانی 1440ھ9؍ دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں ذاتی طور پر مسلم لیگی ہوں، خصوصاً اس دن سے جب مسلم لیگ کی قیادت صحیح معنوں میں نواز شریف کی صورت میں 1991کی دہائی میں سامنے آئی اور میں اس وقت سے ان کا مداح چلا آرہا ہوں ، اب تو بہت زیادہ مداح ہوگیا ہوں۔ مجھے جمہوری قدروں سے عشق ہے چنانچہ دوسری طرف مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ پیپلز پارٹی سے ہزار اختلاف کے باوجود یہ جماعت ہمیشہ میرے دل کے گوشے میں کہیں نہ کہیں چھپی ضرور رہی ہے۔ آج اسے میں باہر لے کر آنا چاہتا ہوں، چنانچہ آپ میرے اس کالم کو پی پی پی کے لئے کلمۂ خیر کا نام دے سکتے ہیں، اگرچہ بہت سے قارئین کو یہ کالم کلمۂ خیر سے کہیں آگے نظر آئے گا۔

آج سے ٹھیک تیس سال قبل بینظیر بھٹو نے دنیا کی پہلی منتخب مسلم خاتون وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔یہ یقیناً ایک تاریخی دن تھا جس کی اہمیت اور افادیت کا احساس وقت گزارنے کے ساتھ ساتھ مجھ پر مزید واضح ہوتا چلا جارہا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ بینظیر بھٹو اور ان کی پارٹی نے دس سال تک ثابت قدمی کے ساتھ بدترین فوجی آمریت کا مقابلہ کیا جب عدلیہ کے جج صاحبان ایوان اقتدار کی غلام گردش میں پھرا کرتے تھے اور اخبارات کی زبان بندی کے چرچے عام تھے۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی پیٹھ پر تازیانے برسائے جاتے تھے اور انہیں شاہی قلعے کی سخت صعوبتیں جھیلنا پڑتی تھیں۔ صاحبانِ اقتدار کا دعویٰ تھا کہ بھٹو کی سیاست مرچکی اور اب ضیاء الحق مارکہ اسلام کا بول بالا ہوگا لیکن جیسے ہی ضیاء الحق کے اقتدار کی شب ظلمت ڈھلی اور جمہوری سحر کی کرن پھوٹی بینظیر بھٹو بھرپور عوامی طمطراق کے ساتھ نمودار ہوئیں اور اس کے بعد جمہوریت کے لئے بھرپور جدوجہد نواز شریف کی صورت میں بھی سامنے آئی، مگر اس کا تذکرہ آگے چل کر ہوگا۔

یوں تو پیپلز پارٹی کی عوامی راج کے لئے جدوجہد کی داستان 1967سے ہی شروع ہوجاتی ہے جب پارٹی وجود میں آئی لیکن پھر بھٹو صاحب کا مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کی حمایت کا فیصلہ اور خود ان کا فسطائی طرزِ حکمرانی ایسے اقدامات تھے جن کی وجہ سے بہت سے لوگ ان سے دور ہوگئے۔ ان دنوں بہت سے لکھنے والے بھی بھٹو صاحب کے زیر عتاب آئے، جن میں ایک میں بھی تھا اور شاید اسی لئے کچھ عرصے تک جنرل ضیاء الحق کی ویسی مخالفت نہیں کی گئی جیسی کرنا چاہئے تھی۔ میں نے اپنے علامتی طرز بیان میں یہ سب کچھ لکھا جو میں بطور ادیب جبر کے دنوں میں اختیار کرتا ہوں۔ میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ بینظیر بھٹو اپنے والد سے بہتر رہنما تھیں لیکن کیا یہ کم تھا کہ وہ ایک ایسے معاشرے میں سیاست کررہی تھیں جہاں عورتوں کے لئے گھر سے باہر کیا گھر کی چار دیواری میں بھی تحفظ میسر نہیں اور یہ کہ وہ ایک عظیم باپ کی بیٹی تھیں، مگر پھر بھی اپنا علیحدہ مقام بنانے میں کامیاب ہوئیں۔ یہاں جس بات کی سب سے زیادہ تعریف کرنا مقصود ہے وہ یہ ہے کہ بینظیر بھٹو کے دور سے لے کر اب تک، جی ہاں آصف علی زرداری کی پیپلز پارٹی تک، پیپلز پارٹی پاکستان کی وہ جماعت ہے جس نے وفاق اور جمہوریت کے لئے بہت قربانیاں دی ہیں اور جس میں اعلیٰ درجے کے قابل اور نفیس سیاستدان شامل ہیں۔ یہ وہ واحد جماعت ہے جو ہندو برادری کے نمائندے کو مخصوص نشستوں کے بجاے براہِ راست اسمبلی میں منتخب کرواتی ہے۔ دلت برادری کی خاتون کو سینیٹ میں لے کر آتی ہے اور شیدی قبیلے کی خاتون کو سندھ اسمبلی میں نمائندگی دیتی ہے۔ صرف اٹھارہویں آئینی ترمیم ہی اتنا بڑا کارنامہ ہے جسے پیپلز پارٹی کے ماتھے کا جھومر کہا جاسکتا ہے، تاہم مسلم لیگ ن نے بھی کچھ شرائط کے ساتھ اس آئینی ترمیم کا بھرپور ساتھ دیا۔ اس سے حقیقی اقتدار صوبوں تک منتقل ہوا تاکہ وہ اپنے معاملات بہت حد تک خود چلانے کے قابل ہوسکے۔

اور اب ایک نظر پیپلز پارٹی کے پارلیمینٹرینز پر بھی ڈالیں،ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے PHDکی اور براہِ راست منتخب ہو کر آئی ہیں۔ خورشید شاہ اور مولا بخش چانڈیو سے زیادہ سیاسی باریکیوں کو سمجھنے والے لوگ کم ہی ہوں گے اور پھر رضا ربانی تو ہماری جمہوری تاریخ کا فخر ہیں۔ اس ایک شخص نے یہ کر دکھایا کہ اگر جمہوری اداروں کو صحیح طور پر چلایا جائے تو وہ کس طرح حقیقی معنوں میں طاقتور ہوسکتے ہیں، جس طرح رضا ربانی نے سینیٹ کے ا دارے کو چلایا، اس کی عزت اور تکریم کے علاوہ طاقت اور رعب میں بھی اضافہ ہوا۔ یہ ہماری جمہوری تاریخ کا سنہرا باب ہے۔ میں فرحت اللہ بابر اور قمر الزمان کائرہ کا بھی مداح ہوں۔

اگرچہ نواز شریف کی فکری خود احتسابی کے بعد سے مسلم لیگ حقیقی معنوں میں عوام کی نمائندہ جماعت بن چکی ہے لیکن ابھی بھی بہت کم ایسے رہنما ہیں جو نظریاتی طور پر نواز شریف کے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے فلسفے کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہوں اور ہر طرح کی مشکلات کا مقابلہ کرنے کو تیار ہوں۔ استثینات میں سرفہرست پرویز رشید ہیں جو کسی زمانے میں پیپلز پارٹی میں تھے یا ان کے بعد خواجہ سعد رفیق ، مشاہد اللہ خان ، خواجہ آصف، رانا ثناء اللہ، خواجہ حسان، احسن اقبال ، اسحقٰ ڈار اور متعدد دوسرے لوگ، لیکن ابھی بھی اکثریت ان لوگوں کی ہے جو بااثر تو ہیں یا الیکشن جیتنے کی صلاحیت تو رکھتے ہیں مگر سیاستدان نہیں ہیں۔ بائی دی وے پیپلز پارٹی میں بھی سب سیاستدان نظریاتی نہیں ہیں، ان میں بھی موقع پرست موجود ہیں، بہرحال نواز شریف کا یہ کریڈٹ شاید ان کے باقی تمام کارناموں پر بھاری ہے کہ انہوں نے غیر سیاسی لوگوں تک بھی یہ پیغام واشگاف الفاظ میں پہنچا دیا ہے کہ اس ملک میں اصل مسئلہ جمہور کی حکمرانی اور عوام کے ووٹ کی عزت کا ہے اور یہ بھی کہ وسطیٰ پنجاب میں جو اس سے پہلے اس طرح کے نعروں سے نابلد تھا جبکہ چھوٹے صوبے اور اقلیتیں ان تجربات کو بھگت چکے تھے۔ آخر میں یہ کہ میری جان، میری ایمان پاکستان ہے۔ میں پاکستان کو ایک طاقتور ملک دیکھنا چاہتا ہوں ، اتنا طاقتور جو جنگ کے بغیر انڈیا سے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا انتقام لے سکے اور سب سے بڑی بات یہ کہ پاکستان قائد اور اقبال کی سوچ کے مطابق ایک فلاحی ریاست بن سکے، جہاں عوام ہر لحاظ سے سکھ کا سانس لیں، چنانچہ میں نے ماضی میں بھی ،حال میں بھی وہی کچھ لکھا جو پاکستان اور اس کے جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے کے حوالے سے تھا۔ میں غیر سیاسی آدمی ہوں، بنیادی طور پر ادیب ہوں مگر ایک عام پاکستانی کی طرح اپنی ایک سوچ رکھتا ہوں، اس وقت ہمارا ساتھ ایک بہت بڑا مسئلہ بلوچوں کی محرومیوں کو دور کرنا اور انہیں قومی دھارے میں پوری طرح شریک کرنا ہے، اگرچہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد اب یہ ذمہ داری بلوچستان کی صوبائی حکومت پر ہے، مگر اس حوالے سے وفاق بھی جو کچھ کرسکتا ہے اسے اس سے بھی کہیں زیادہ کرنے کی کوشش کرنا چاہئے،اگرچہ موجودہ وفاقی حکومت (زبان پر بارِ خدایا یہ کس کا نام آیا) سے اس امر کی توقع عبث ہے، تاہم خواہش کرنے اور امید رکھنے میں کیا حرج ہے؟ مجھے لگتا ہے میں اپنے کالم کی حدود سے بہت آگے نکل گیا ہوں اور آخر میںایک بار پھر پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کا تذکرہ اور ان سے ایک گزارش کہ وہ خدارا ماضی کی غلطیاں نہ دہرائیں۔ اس وقت یا مسلم لیگ (ن) کو بہت بری طرح شکنجے میں کسا جاچکا ہے، خصوصاً نواز شریف اور ان کا پورا خاندان ایک بہت بڑے امتحان سے گزر رہا ہے۔ ماضی میں سیاسی جماعتیں برسراقتدار آنے کے لئے مد مقابل جماعت کا گلا گھونٹنے کی کوشش میں شریک رہی ہیں۔ اللہ کرے اب ہم ذاتی اغراض کے لئے ایک دوسرے کو پھندے پر لٹکا دیکھ کر تالیاں بجانا بند کردیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں