آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر2؍ربیع الثانی 1440ھ 10؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاناما فیصلہ،نئے پاکستان کی بنیاد،حکمرانوں کو قانون کے تحت لانے کا کام سپریم کورٹ نے کیا،وزیر اعظم

اسلام آباد(ایجنسیاں)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی لازم و ملزوم ہیں‘پاناما کیس کے فیصلے نے نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی ہے‘حکمرانوں کو قانون کے تحت لانے کا کام سپریم کورٹ نے کیا‘جو کام چیف جسٹس نے کئے وہ جمہوری حکومت کو کرنے چاہیے تھے‘قانون کی حکمرانی کا جن اب بوتل سے باہر نکل چکا ہے اور اب اسے کوئی بند نہیں کر سکتا‘ اب طاقتور کو قانون کے تحت لایاجارہاہے‘اب کوئی نہیں سوچے گا کہ وہ قانون سے بالاتر ہے‘پاکستان کو اس وقت مسائل اور مشکلات کا سامنا ہے، انشاءاللہ ہم ان مسائل سے جلد نکل جائیں گے ‘ڈیم منصوبہ 5سال میں کبھی نہیں بنتا‘کسی نے نہیں سوچا تھا وزیراعظم بھی قانون کے تابع ہوگا‘ 6 نئے قانون اسمبلی میں لے کر آرہے ہیں ‘پوری کوشش کر رہے ہیں کہ قانون سازی کے ذریعے پرانا نظام عدل تبدیل کریں‘پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے‘آنے والے دنوں میں قرضوں سے نکل جائیں گے ‘ ہم شارٹ ٹرم سوچ کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوئے

ہیں‘بڑھتی ہوئی آبادی قومی مسئلہ ہے جس میں پوری قیادت، سول سوسائٹی اور علماء کو بھی سامنے آنا پڑے گا‘آبادی کنٹرول کرنے کیلئے ٹاسک فورس قائم کر دی ہے۔ بدھ کو سپریم کورٹ میں پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی کے موضوع پر ایک روزہ سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ سول اور کرمنل پروسیجر کورٹ میں ترامیم متوقع ہے۔ان کا کہناتھاکہ کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے جمہوریت اور قانون کی حکمرانی لازم و ملزوم ہے‘۔وزیراعظم نے کہا کہ ماضی کی حکومتیں صرف 5 سال کا سوچتی تھیں کہ اگلا الیکشن کیسے جیتیں ‘ان کی چھوٹی سوچ کی وجہ سے ہم پانی جیسے سنگین مسئلے میں پھنس گئے‘میرے کانوں نے یہ بھی سنا کہ اچھا ہوا بنگلا دیش الگ ہوگیا وہ بوجھ تھا، آج وہی بنگلا دیش آگے کی طرف جارہا ہے۔عمران خان نے کہا کہ جمہوریت کا مقصد حکمرانو ں کو قانون کے نیچے لانا ہے، سی ڈی اے میرے نیچے ہے پھر بھی وہ مجھے بتاتا ہے عمران خان نے یہاں غلطی کی، میرے ماتحت ادارہ سی ڈی اے آج عدالت کو بنی گالا کی صورتحال بتارہا ہے، ایسا پہلے نہیں تھا، اب کوئی نہیں سوچے گا کہ وہ قانون سے بالاتر ہے۔ہم بڑے بڑے قبضہ گروپوں پر ہاتھ ڈال رہے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں