آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر2؍ربیع الثانی 1440ھ 10؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد (نمائندہ جنگ، نیوز ایجنسیاں) عدالت عظمیٰ میں ’’سانحہ ماڈل ٹائون‘‘ کے دوران جاں بحق ہونے والی خاتون کی بیٹی بسمہ کی آئینی درخواست کی سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے چیف لاء افسر/ایڈووکیٹ جنرل احمد اویس نے حکومت کی جانب سے وقوعہ کی تحقیقات کیلئے نئی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی)کی تشکیل پر آمادگی کا اظہار کیا ہے جس پر فاضل عدالت نے صوبائی حکومت کو سارے واقعہ کی از سر نو تحقیقات کیلئے نئی جے آئی ٹی کی تشکیل کا حکم جاری کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی ہے۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ ٹرائل کورٹ کو دی جا ئیگی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ طاہرالقادری نے دھرنا دیا لیکن عدالت نہ آئے، ٹرائل کی روزانہ سماعت کا بھی کہہ چکے، اس سے تیز انصاف کیا دیتے؟ طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ ساڑھے چار سال سے انصاف نہیں ملا، اب محسوس ہوتا ہے انصاف کا دروازہ کھل گیا ہے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس آصف سعید خان کھوسہ

،جسٹس شیخ عظمت سعید ،جسٹس فیصل عرب اور جسٹس مظہرعالم میاں خیل پر مشتمل لارجر بنچ نے بدھ کو مقدمہ کی سماعت کی تو درخواست گزار بسمہ ،پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری اورایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس پیش ہوئے۔ عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو اس کیس کی از سر نو تحقیقات کیلئے نئی جے آئی ٹی کی تشکیل سے متعلق عدالت کے اختیارات کے حوالے سے معاونت کرنے کی ہدایت کی تو فاضل وکیل نے کہاکہ عدالت اس سلسلے میں مجاز ہے جبکہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کے استفسار پر کہا کہ حکومت پنجاب نے سانحہ ماڈل ٹائون کی از سر نو شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کیلئے نئی جے آئی ٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس پر فاضل عدالت نے مذکورہ حکم کے ساتھ درخواست نمٹادی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں