آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر2؍ربیع الثانی 1440ھ 10؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں) سپریم آف کورٹ نے آئی جی اسلام آباد تبادلہ کیس میں وفاقی وزیر کا معافی نامہ مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اعظم سواتی پر آرٹیکل 62ون ایف کے تحت نااہلی کا مقدمہ چلے گا ، شواہد ریکارڈ کرنا پڑے تو ہم خود کر لینگے۔ چیف جسٹس جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے آئی جی اسلام آباد تبادلہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔چیف جسٹس نے اعظم سواتی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ʼآپ حاکم وقت ہیں، کیا حاکم محکوم کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں؟ کیا حاکم بھینسوں کی وجہ سے عورتوں کو جیل میں بھیجتے ہیں۔ساتھ ہی چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آباد سے استفسار کیا کہ ʼآپ نے اس معاملے میں کوئی ایکشن نہیں لیا؟۔جس پر آئی جی اسلام آباد نے جواب دیا کہ ʼمعاملہ عدالت میں زیر التوا ہے اس لیے ایکشن نہیں لیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ʼکیوں نہ اعظم سواتی کو ملک کیلئے مثال بنائیں؟چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ’’سپریم کورٹ خود بھی ٹرائل کرسکتی ہے، اب آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عدالت خود

ٹرائل کریگی‘‘۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ آئی جی کو اعظم سواتی کا فون نہ اٹھانے پر تبدیل کیا گیا جس پر اعظم سواتی کے وکیل نے کہا کہ آئی جی تبدیلی کاعمل پہلے سے جاری تھا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں