آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار یکم ربیع الثانی 1440ھ9؍ دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد(این این آئی ) سابق وزیراعظم نواز شریف نے فلیگ شپ ریفرنس میں بطور ملزم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریفرنس مخالفین اور جے آئی ٹی کی جانبدار رپورٹ کی وجہ سے بنا ،واجد ضیا اور تفتیشی افسر نے مجھے پھنسانے کی کوشش کی۔ دوران سماعت جج ارشد ملک نے کہا کہ حسین، حسن کو پیسے بھیجتے رہے، آجاتے تو مسئلہ حل ہو جاتا، میاں صاحب کو بیٹوں سے جائیداد سے متعلق پوچھنا چاہیے تھا۔بدھ کو احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت کی اس موقع پر سابق وزیراعظم نواز شریف بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔نواز شریف نے بطور ملزم اپنا تحریری جواب یو ایس بی میں جمع کرادیا جسے عدالت کے کمپیوٹر میں منتقل کردیا گیا ۔سابق وزیراعظم نے فلیگ شپ ریفرنس میں 136 سوالوں کے جواب دئیے، وکیل خواجہ حارث نے عدالت سے استدعا کی کہ باقی 4 سوالات کے جواب کچھ درستگیوں کے بعد (آج) جمعرات کو جمع کرائیں جائینگے۔سماعت کے دوران فاضل جج ارشد ملک نے نواز شریف سے براہ راست سوال پوچھتے ہوئے کہا، پہلے تو میاں صاحب وزیر

اعظم تھے، معاملات میں مصروف تھے، آپ کو بیٹوں سے جائیداد کی دستاویزات سے متعلق پوچھنا چاہیے تھا۔اس موقع پر وکیل خواجہ حارث نے جواب دیتے ہوئے کہا بچے جوان ہیں نواز شریف ان پر پریشر نہیں ڈال سکتے تھے جس پر جج ارشد ملک نے کہا پھر بھی پوچھ تو سکتے ہیں، بیٹے تو ہیں نا۔نواز شریف نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بچے فلیٹس خریدتے تھے، ری فرنش کر کے کمپنیاں بنا کر فروخت کر دیتے تھے جس پر فاضل جج نے سوال کیا کہ حسین نواز کے ذریعے حسن نواز کو رقم جاتی تھی اگر حسین نواز ہی آ جاتے تو مسئلہ حل ہو جاتا۔جج ارشد ملک نے کہا کہ ٹرائل کے دوران قطری ہی آ جاتا تو بھی مسئلہ حل ہو جاتا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں