آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر2؍ربیع الثانی 1440ھ 10؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیوکے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے ماہر معیشت محمد سہیل نے کہا ہے کہ حکومت برسراقتدار آئی تو معاشی حالات خراب تھے اور ابھی بھی خراب ہیں، حکومت میں سب سے بڑا مسئلہ رابطوں کے فقدان کا ہے، حکومتی نمائندوں کے متضاد بیانات کنفیوژن پیدا کررہے ہیں جس کا اثر اسٹاک مارکیٹ اور سرمایہ کاری پر ہورہا ہے، حکومتی عہدیداروں کو مالی معاملات پر بہت کم اور نپاتلا بولنا چاہئے لیکن بہت زیادہ متضاد بیانات دیئے گئے، معاشی حالات شاید اتنے خراب نہیں جتنا سرمایہ کاروں کا اعتماد کم ہوگیا ہے، بیرونی ادائیگیوں میں توازن کے مسائل ابھی بھی ہیں، سینٹرل بینک کہہ رہا ہے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ضرور ہواہے لیکن زرمبادلہ کے ذخائر گرتے جارہے ہیں۔ ن لیگ کے رہنما رانا ثناء ا للہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پاکستان عوامی تحریک کی درخواست کو ڈسپوز آف کردیا ہے، سپریم کورٹ نے نہ جے آئی ٹی تشکیل دی نہ تشکیل دینے کاحکم دیا ہے، پنجاب حکومت نے خواہش کا اظہار کیا کہ وہ جے آئی ٹی

بنانا چاہتے ہیں، پنجاب حکومت کی بنائی گئی جے آئی ٹی کی قانونی پوزیشن کو چیلنج کریں گے، وہ جے آئی ٹی جو تحقیقات کر کے اپنی رپورٹ زیردفعہ 173سی آر پی سی عدالت میں داخل کرے گی اس کا کوئی قانونی نتیجہ نہیں ہوگا، عدالت نے فیصلہ ان شہادتوں پر کرنا ہے جو ہوچکی ہیں اور ٹرائل کورٹ میں ٹرائل کافی آگے بڑھ چکا ہے، علامہ طاہر القادری نے پہلے بھی چار سال سانحہ ماڈل ٹاؤن پر سیاست کی انہیں سیاست چمکانے کا مزید کچھ موقع مل جائے گا، عدالت کسی جے آئی ٹی یا تفتیشی رپورٹ کی پابند نہیں شہاد تو ں کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی، جب شہادتیں ریکارڈ ہوچکی ہوں اور فرد جرم لگ چکا ہو تو قانونی طور پر جے آئی ٹی کی تشکیل نہیں ہوسکتی ہے۔ سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن علی ظفر نے کہا کہ قانون کے تحت کسی کیس میں کوئی موقع ملے تو بار بار تحقیقات ہوسکتی ہے، سانحہ ماڈل ٹاؤن میں پہلی جے آئی ٹی بننے کے بعد حکومت نے خود دوسری جے آئی ٹی بنادی تھی، سانحہ ماڈل ٹاؤن میں الزام چونکہ اس وقت حکومت کیخلاف تھا اس لئے جے آئی ٹی پر متاثرین کو اعتماد نہیں تھا ، جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین اور زخمی تحقیقات میں شامل نہیں ہوئے، ایک وقت ایسا آیا جب کارروائی ختم کر کے ازسرنو شروع کردی گئی، پراسیکیوشن اور آئی او کے بیانات دوبارہ ہوں گے، اس مرحلہ پر عدالت کے فیصلے بھی ہیں اور قانون بھی کہتا ہے کہ اگر حکومت چاہے تو دوبارہ جے آئی ٹی بناسکتی ہے، بدھ کو عدالت نے سوال پوچھا کہ قانون کے مطابق حکومت ہی دوبارہ جے آئی ٹی بناسکتی ہے عدالت اسے ڈائریکشن نہیں دے سکتی تو اس وقت حکومت پنجاب کے نمائندے ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ حکومت جے آئی ٹی بنانے کیلئے تیارہے، اس تمام صورتحال کو دیکھا جائے تو حکومت پنجاب جے آئی ٹی بناتی ہے تو قانون کے مطابق ہوگا، نئی جے آئی ٹی تمام لوگوں کے دوبارہ بیانات اور شواہد کا جائزہ لینے کے بعد عدالت میں رپورٹ پیش کریگی، جے آئی ٹی رپورٹ کو حتمی فیصلہ نہیں کہا جاسکتا عدالت اس رپورٹ کو دیکھ کر کوئی حتمی فیصلہ کرے گی۔سینئرتجزیہ کار ارشاد بھٹی نے کہا کہ پیپلز پارٹی، ن لیگ اور ایم کیوا یم کے وزرائے اعظم، وزیراعلیٰ اور میئر کراچی تمام کیسوں کے باوجود اپنے عہدوں سے مستعفی نہیں ہوئے، عمران خان کی حکومت میں ایسی باتوں کی توقع نہیں کی جارہی تھی کیونکہ وہ ہمیں مغرب کی مثالیں دیتے ہیں، دکھ ہوتا ہے کہ کوئی صحافی عمران خان سے سوال پوچھے تو انہیں پتا نہیں ہوتا ڈالر کیوں بڑھ گیا ہے، جو خاص بات شرجیل میمن، ڈاکٹر عاصم، شجاعت عظیم، عثمان بزدار میں ہے وہی زلفی بخاری میں بھی ہے،عمران خان کے رشتہ دار اقتدارمیں نہیں لیکن ان کے کئی دوست حکومت میں عہدیدارہیں، دوستوں کو oblidge کرنا بری بات نہیں لیکن نالائق دوستوں کو حکومتی عہدے دینا بری بات ہے۔ نمائندہ جیو نیوز اعظم خان نے کہا کہ نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر عمران شفیق کا موقف تھا کہ زلفی بخاری تفتیش میں تعاون نہیں کررہے ہیں، ان سے جو ریکارڈ مانگا جارہا ہے وہ وزیراعظم کے معاون خصوصی ہوتے ہوئے اپنا اثر و رسوخ ستعمال کررہے ہیں اور ریکارڈ پیش نہیں کررہے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں