آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار یکم ربیع الثانی 1440ھ9؍ دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

احتشام طورو، پشاور

ملک بھر کی طرح خیبر پختونخوا میں بھی حکومت کے ابتدائی 100 دنوں کو بعض حلقوں کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ بعض حلقوں کی طرف سے اصلاحات کی جانب موجودہ حکومت کے اقدامات کی پذیرائی کی جارہی ہے ملک بھر کی طرح خیبر پختونخوا میں بھی معاشی بحران سے عوام میں بے چینی بڑھتی جارہی ہے بجلی وگیس کی قیمتوں میں کئی بار اضافے کے بعد ڈالر کی شرح میں ریکارڈ اضافے کے بعد سود کی شرح میں اضافے سے کاروبار پر بھی بہت برے اثرات پڑ ے ہیں خیبر پختونخوا میں حقیقی معنوں میں تبدیلی لانے غربت وبدحالی اور بے روزگاری کے خاتمے کیلئے حکمرانوں کو صوبے میں صنعتی وزرعی انقلاب کی طرف توجہ دینی ہوگی اگر چہ حکمرانوں کی طرف سے خیبر پختونخوا کو سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز بنانے کیلئے سیاحت کو ترقی دینے نئی سیاحتی مقامات متعارف کروانے کے سلسلے میں خصوصی منصو بہ بندی کرلی گئی ہے سیاحت کی اہمیت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا دنیا کے بیشتر ممالک اور خطوں کی معیشت کا زیادہ تر انحصار سیاحت پر ہے اور اپنی حکومتیں بھی سیاحت کے صنعت پر ہی چلا رہی ہیں پاکستان کی سیاحت میں 70فیصد حصہ خیبر پختونخوا کا ہے دنیا میں تیل کے بعد سیاحت ہی بڑی آمدنی کا ذریعہ ہے ۔ پاکستان میں دنیا کے سب سے زیادہ قدرتی حسن سے مالامال اور پر فضا سیاحتی مقامات موجود ہیں تاہم اس شعبے سے ہم صحیح معنوں میں اب تک مستفید نہیں ہوسکے ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے اس اہم صنعتی شعبے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان سے بعد میں آزاد ہونے والے ممالک نے اپنی تمام تر وسائل اور توانائیاں سیاحت پر مرکوز کرکے نہ صرف ترقی کے دوڑمیں ہم سے آگے نکل گئے ہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک کی صفوں میں اپنا ایک نمایاں مقام بنا لیا ہے جب تک سیاحت کو صنعت کا درجہ نہیں دیا جاتا تو سیاحت فروغ کیسے فروغ پاسکتی ہے سیاحت کے فروغ کیلئے پہلی بنیادی ضروریات میں کمیونیکشن سسٹم ہے جن میں سڑکیں ٗٹیلی فون ٗبجلی اور پانی ٗصحت اور سیکورٹی شامل ہیں سیاحت دنیا بھر میں پرائیویٹ سیکٹر میں فروغ پاتی ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں سیاحت پر پبلک سیکٹر نے قبضہ جما رکھا ہےخیبر پختونخوا میں سیاحت کے اِتنے زیادہ مواقع موجود ہیں کہ نہ صرف مقامی سیاح بلکہ غیر ملکی سیاح بھی یہاں آسکتے ہیں بلکہ ماضی میں بڑی تعداد میںآتے بھی رہے ہیں اور اب آہستہ آہستہ غیر ملکی سیاحوں نے ایک بار پھر پاکستان بالخصوص خیبر پختونخوا کے سیاحتی مقامات کا رخ کرلیا ہے خیبر پختونخوا کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یہاں وسیع سمندر اور بلند بالا پہاڑ ہیں تو قدیم تاریخی مقامات بھی ہیں۔ یہ تمام اجزاء سیاحوں کی کشش کا سبب ہیں مگر غیر ملکیوں کو یہاں لانے کے لیے بہترین انفرااسٹرکچر کی ضرورت ہے جو ابھی یہاں موجود نہیںتاہم سرسبز وشاداب اور حسین وادیوں ، برف پوش پہاڑوں اور گنے جنگلات پر مشتمل ملاکنڈ ڈویژن ٗہزارہ ڈویژن کی قدرتی خوبصورتی اپنی مثال آپ ہےوادی سوات اور وادی ہزارہ کے بعد حال ہی میں فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد ضلع شمالی ٗوجنوبی وزیرستان ٗضلع کرم ٗضلع مہمند ٗضلع خیبر ٗضلع باجوڑ بھی سیاحتی و قدرتی دولت سے مالا مال ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ان محروم علاقوں کو جو کہ پاکستان بننے کے بعد ان علاقوں میں سیاحت و قدرتی دولت کی طرف سے کسی نے بھی توجہ نہیں دی اگر ان علاقوں پر بھرپور توجہ دی گئی تو ترقی وخوشحالی کے راستے کھلیں گے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے اپنی پہلی ہی ترجیحات میں سیاحت پر بھرپور توجہ دی اور اسے نہ صرف فروغ دینے بلکہ اسے آمدن کا ایک موثر ذریعہ بنانے کیلئے دن رات کام شروع کررکھاہے اس سلسلے میں انھوں نے ایک خصوصی ٹاسک فورس بھی قائم کیا ہےجس کے چیئرمین وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان جبکہ سینئر وزیر برائے کھیل و سیاحت عاطف خان سمیت صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات اکبر ایوب خان ، وزیر ماحولیات اشیاق ارمڑ ، وزیر قانون سلطان محمد چیف سیکر ٹر ی خیبر پختونخوا نوید کامران بلوچ کے علاوہ سیکرٹری ہائے مواصلات و تعمیرات ، ماحولیات اور قانون اس دس رکنی ٹاسک فورس کا حصہ ہیں ۔ سیاحت کو فروغ دینے کیلئے اور اسے ایک مستقل موثر آمدنی کا ذریعہ بنانے کیلئے وزیراعظم پاکستان عمران خان کی زیرسرپرستی ٹورازم ٹاسک فورس بھی بنائی گئی ہے جو ہر سال 4 نئے سیاحتی مقامات کا تعین سمیت دیگر اقدامات اٹھائے گی اور وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے سیاحت کو صنعت کادرجہ دینے کی جانب کی جانیوالی کوششوں سے لگ رہا ہے کہ حکومت حقیقی معنوں میں سیاحت کو موثر آمدنی کا ذریعہ بنانے میں کافی سنجیدہ ہے سیاحتی شعبے میں کام کرنے سے ملک کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکتا ہےسینئر وزیر سیاحت عاطف خان کے مطابق خیبرپختونخوا میں سیاحت کا فروغ اور اسے ایک برینڈ کے طور پر متعارف کرانا خیبرپختونخوا حکومت کا ویژن ہے تحریک انصاف کی حکومت نے اسے ایک منافع بخش شعبہ بنانے کی ٹھان لی ہےسیاحت کے شعبے کو آمدن کا ایک موثر ذریعہ بنائیں گےاور اپنی پسند کی بناء پر اس شعبے کی وزارت لی ہے تاکہ نہ صرف اسے ایک آمدن کاموثر ذریعہ بنا نے کیلئے اپنا کردار ادا کر کے غیر ملکی سیاحوں کو ایک بار پھر یہاں پر لاکرخیبر پختونخوا کا سافٹ ایمج دنیا کے سامنے لاسکوں سینئر و زیر عاطف خان کی باتیں اور دعوے اپنی جگہ درست ہے لیکن بیرونی دنیا سے سیاحوں کو پاکستان لانا ایک انتہائی مشکل کام ہے کیونکہ بیرونی دنیا میں ملک میں بالخصوص خیبر پختونخوا میں دہشتگردی اور بدامنی کے ہونیوالے واقعات کی وجہ سے پاکستان کا امیج کافی متاثر ہوا ہے اور پاکستان کا سافٹ امیج بحال کرنے میں اب بھی کافی وقت لگے گا تاہم اس حوالے سے ملک اور بیرونی دنیا میں تحریک انصاف کی حکومت کی کاوشوں کو سراہا جارہا ہے ۔ اگر حکومت کی 100 دن کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو صوبے میں زیادہ تر حکومت کی توجہ کا مرکز سیاحت کا شعبہ رہا اور اس حوالے سے سینئر عاطف خان کافی اقدامات اٹھارہے ہیں اور بھرپور کاوشوں میں لگے ہوئے ہیں ، سیاحت کے فروغ کے حوالے سے اس قسم کی کاوشیں ہم نے ماضی میں نہیں دیکھیں ۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں