آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر2؍ربیع الثانی 1440ھ 10؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امتیاز راشد، لاہور

صدر مملکت جناب عارف علوی نے یہ بیان دے کر کہ جنوبی پنجاب صوبہ بننا آسان نہیں بہت سے لوگوں کے لئے آسانی پیدا کر دی جو اس بحث میں پڑے ہوئے تھے کہ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنایا جائے گا یا نہیں صدر مملکت عارف علوی کا تعلق تحریک انصاف سے ہے انتخابی مہم کے دوران وزیراعظم جناب عمران خان کا بھی یہ دعویٰ رہا تھا کہ وہ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنا کر ہی دم لیں گے اس پر باقاعدہ ایک بحث چلی ۔جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے نعرے پر انتخابی مہم چلائی گئی اور وہاں کے سیاست دان اس سلسلے میں دو حصوں میں بھی بٹے کچھ لوگ اس نعرے کی بدولت کامیاب ہو کر اسمبلیوں میں پہنچے اب صدر مملکت نے اس طرح کا بیان دے کر جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے والوں کے نہ صرف منہ بند کرنے کی کوشش کی بلکہ ان کی جدوجہد پر اوس پڑ گئی اور اب صدر مملکت کے بیان کے بعد اصل پنجاب دو حصوں میں تقسیم ہونے سے شاید بچ جائے اور اس کے لئے کی جانے والی جدوجہد خود بخود دم توڑ جائے۔ جنوبی پنجاب کو الگ صوبے کی حیثیت دینے کے لئے پنجاب میں بہت سی تحریکوں نے جنم لیا اس بات کو بہت آگے لے جانے کی کوشش کی گئی بہت سی سیاسی جماعتوں نے بھی اس سلسلے میں ہاں نہیں کی پالیسی اپنائی۔صدر مملکت عارف علوی جب تحریک انصاف کے ایک کارکن تھے تو اس وقت جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے پر ان کا موقف کچھ اور تھا اور وہ اپنی جماعت کی نمائندگی کرتے ہوئے اس حق میں تھے کہ صوبہ بننا چاہئے اب انہوں نے اس کے خلاف بات کرکے حالات وواقعات کا رخ کسی اور طرف موڑ دیا ان کے اس بیان سے وزیر اعظم عمران خان بھی شاید سوچ میں پڑ گئے ہوں گے کہ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے سلسلے میں انہی کی ایک شخصیت نے کیا بیان دے دیا۔ صدر مملکت کا اس سلسلے میں یہ موقف ہے کہ صوبہ بنانے میں بڑی مشکلات ہیں۔اثاثوں کو تقسیم کرنا ہے پانی کے حصے کا تعین کرنا ہے اس کے علاوہ اور بہت سے مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا یہ بیان دے کر شاید صدر مملکت یہ کہنا چاہتے ہوں کہ اس مسئلے پر خاموشی اختیار کرنا ہی عقلمندی ہو گی اب دیکھنا ہوگا کہ وزیراعظم عمران خان صدر مملکت کے بیان کے بعد جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے معاملے پر کتنا سنجیدہ نظر آئیں گے اگر وہ اس سلسلے میں خود بھی خاموشی اختیار کریں گے تو کیا اس کو بھی یوٹرن کہا جائے۔گزشتہ دنوں کرتار پور بارڈر کھولنے کے سلسلے میں پنجاب کے علاقے میں خوب گہما گہمی رہی بھارت سے آئے ہوئے رجوت سنگھ سدھو نے اس سلسلے میں خوب سماں باندھے رکھا وہ لاہور پریس کلب بھی آئے ۔گورنر ہائوس بھی گئے حضوری باغ میں ایک عشائیہ میں بھی انہوں نے شرکت کی لاہور میں شاپنگ بھی کرتے رہے ۔وزیر اعظم عمران خان کی خصوصی دعوت پر وہ کرتار پور بارڈر کو کھولنے کی تقریب میں شرکت کرنے کےلئے نارووال بھی گئے وہاں خطاب کرکے انہوں نے خوب داد سمیٹی وہ ہر جگہ امن او رشانتی کی بات کرتے رہے لیکن جب لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے تو ان سے ایک رپورٹر نے سوال کیا کہ سدھو صاحب آپ امن و شانتی کی باتیں تو بہت کر رہے ہیں کیا آپ کو مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم نظر نہیں آرہے وہاں بھارتی حکومت مسلمانوں کا کس طرح قتل عام کر ا رہی ہے اس سلسلے میں آپ کیا کہنا چاہیں گے تو وہ جواب گول کر گئے اور کہا کہ یہ وہاں کی حکومت اور وزراء جانے اس جواب سے ایسا لگا کہ نوجوت سنگھ سدھو مکمل طور پر ہمارے مہمان نہیں ہیں وہ دونوں ممالک کے رمیان امن شانتی کی باتیں تو ضرور کرتے ہیں لیکن دل ان کا اپنے دیس کے لئے ہی دھڑکتا ہے۔ خیر رجوت سنگھ سدھو کی جدوجہد اور چیف آف آرمی سٹاف قمر جاوید باجوہ سے ان کی جپھی رنگ لائی ۔پاکستان نے پہل کرتے ہوئے کرتار پور بارڈر کو کھولنے کی ایک بڑی تقریب کر ڈالی جس میں بھارت سے آئے ہوئے سکھوں، بھارتی میڈیا اور بھارت(پنجاب) کی ایک خاتون وزیر نے شرکت کی۔ وزیر اعظم عمران خان اور وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے اپنے خطابات میں بھارت کوبھی درس دیا کہ جنگوں کی سوچ میں کچھ نہیں رکھا ہمیں اپنے اختلافات بھلا کر ایک ہونے کی سوچنا چاہئے اگر ایسا ہو گیا تو دونوں ممالک کے درمیان تجارت چمکے گی دونوں ملکوں کے عوام کو اس سے فائدہ پہنچے گا اس طرح ہم امن شانتی کے قریب بھی آ سکتے ہیں لیکن شاید بھارت کو پاکستان کی یہ آفر پسند نہیں آئی اور بھارت کی طرف سے دل دکھا دینے والا ایک بیان داغ دیا گیا نہیں ایسا نہیں ہوسکتا پہلے پاکستان دہشت گردی کا خاتمہ کرے پھر سوچا جا سکتا ہے ۔ تاہم کرتار پور میں ہونے والی تقریب سے پاکستان نے خارجہ پالیسی کی سطح پر خوب کامیابی حاصل کی جس کا کریڈٹ وزیر اعظم عمران خان اور چیف آف آرمی سٹاف قمر جاوید باجوہ کو جاتا ہے ۔ نیب کی طرف سے بنائے گئے کرپشن کے مقدمات میں ملوث پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک بیماری میں مبتلا ہیں انہوں نے اس سلسلے میں ٹیسٹ بھی کرائے ہیں جس کی رپورٹیں بھی منظر عام پر آچکی ہیں اب اطلاع ہے کہ میاں شہاز شریف علاج کے سلسلے میں باہر جانا چاہتے ہیں دیکھتے ہیں کہ نیب کا قانون انہیں باہر جانے کی اجازت دیتا ہے یا نہیں بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ میاں شہباز شریف کو اس بات کا بھی ڈر ہے کہ اگر انہیں علاج کرانے کے لئے باہر جانے کی اجازت مل جاتی ہے تو مخالفین اسے کہیں این آر او سے نتھی نہ کر دیں جس کا اثر ان کی سیاست اور بھائی میاں نواز شریف پر بھی پڑ سکتا ہے اب فیصلہ کرنا پڑے گا کہ وہ نیب کی جیل میں رہنا چاہتے ہیں باہر کی فضا میں لیکن ان کا علاج کرانے کےلئے باہر جانا مشکل نظر آ رہا ہے ۔ پنجاب میں مہنگائی کا طوفان ابھی نہیں تھما اشیاء کی قیمتوں میں دن بدن اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے بالخصوص کھانے پینے کی اشیاء پھل فروٹ، سبزیاں ابھی اپنی اصل حالت میں نہیں آ سکیں اس سلسلے میں کچھ ذمہ دار حکومت ہے اور کچھ دکاندار جنہوں نے خود ساختہ مہنگائی کی ہوئی ہے حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی ایسا بیان منظر عام پر نہیں آیا جس سے ظاہر ہو کہ حکومت واقعی مہنگائی ختم کرنا چاہتی ہے اور نہ ہی اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں نے اس سلسلے میں کسی قسم کے اقدامات اٹھائے ہیں ۔تحریک انصاف کی حکومت مہنگائی کے سلسلے میں عوام سے کوئی انصاف نہ کرسکی ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں