آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل10؍ربیع الثانی 1440ھ18؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کراچی(اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے 20 گمشدہ بچوں کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر ڈائریکٹر ایف آئی اے کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے اور پولیس کو بچی بسما سے زیادتی کرنے والے ملزمان کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے ریماکس دیئے آپ لوگ اس قابل بھی نہیں کہ ملزمان کو گرفتار کرسکیں۔ جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو کی سربراہی میں دو رکنی بنچ کے روبرو 20 گمشدہ بچوں کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ متاثرہ بچی کی والدہ نے کہا کہ میری بچی کے ساتھ زیادتی کرکے اسے بیہوشی کی حالت میں گھر کے سامنے چھوڑ کر گئے۔ پولیس نے عدالت میں رپورٹ پیش کردی۔ عدالت نے ڈی آئی جی کرائم برانچ کی سرزنش کرتے ہوئے استفسار کیا کہ جب بچی بازیاب ہوگئی تو ملزمان کہاں ہیں؟ عدالت نے ریماکس دیئے آپ لوگ اس قابل بھی نہیں کہ ملزمان کو گرفتار کرسکیں۔ عدالت نے آئی جی سندھ کو خود معاملات دیکھنے اور ملزمان کو 20 دسمبر تک گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ لاپتہ بچی کی ماہ نے کہا کہ میری بے زبان 12 سالا بیٹی منیزہ 2 سال سے لاپتہ ہے۔ لاپتہ بچوں سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ لاپتہ بچوں کی ماؤں کی عدالت میں آہ و بکا، مائیں رو رو کر بچوں کی بازیابی کی فریاد کرتی رہیں۔ عدالت نے ریماکس دیئے بچوں

کی گمشدگی پر سخت تشویش ہے، ادارے کیا کررہے ہیں؟ ایک ماں نے روتے ہوئے کہا کہ میری بچی 6 سال سے لاپتہ ہے اس کی تصویر دیکھ دیکھ روتی ہوں۔ ایک اور بچی کی ماں نے کہا کہ میری بچی ڈیڑھ سال سے غائب ہے کوئی میری بچی کو واپس لا دے۔ عدالتی احکامات کے باوجود ایف آئی اے کی جانب سے کسی افسر کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ڈائریکٹر ایف آئی اے کو پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں