آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر9؍ربیع الثانی 1440ھ 17؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مقبوضہ کشمیر میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کی شفاف اور بھرپور تحقیقات ہونی چاہئے

لندن (نیوز ڈیسک) لارڈ قربان حسین کے سوال پر لارڈ احمد آف ومبلڈن فارن اینڈ کامن ویلتھ آفس نے تحریری جواب میں کہا ہے کہ ہم نے کشمیر پر آل پارٹیز پارلیمنٹری گروپ (اے پی پی جی) کی رپورٹ میں بھارت کے آرمڈ فورسز (سپیشل پاورز ) ایکٹ اور حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے تشویش کو نوٹ کیا اور منسٹر آف سٹیٹ فار ایشیا اینڈ دی پیسیفک نے اس سے اتفاق کیا ہے کہ وہ اے پی پی جی کشمیر سے ملاقات کر کے ان کی رپورٹ میں دی گئی سفارشات پر تبادلہ خیال کریں گے۔ فارن اینڈ کامن ویلتھ آفس نے کہا کہ ہم تمام ممالک کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اپنے ملکی قوانین کو انٹرنیشنل ہیومن رائٹس سٹینڈرڈز کے مطابق یقینی بنائیں۔ فارن اینڈ کامن ویلتھ آفس نے کہا کہ ہیومن رائٹس کی خلاف ورزیوں اور ابیوز کا کوئی بھی الزام تشویش ناک ہوتا ہے اور ایسے الزامات کی بھرپور، مناسب اور شفافیت کے ساتھ انویسٹی گیشن ہونی چاہئے۔ ایف سی او کا کہنا ہے کہ ہم بھات اور پاکستان کی حکومتوںکے ساتھ مسئلہ کشمیر بشمول انسانی

حقوق کو اٹھاتے ہیں۔ برطانوی حکومت ہیومن رائٹس کے فروغ اور تحفظ سمیت تمام چیلنجز سے نمنٹنے اور کپیسٹی بلڈنگ کیلئے پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ لارڈ قربان حسین نے 22 اکتوبر کو سوال میں حکومت سے پوچھا تھا کہ اس نے بھارت میں آرمڈ فورسز (سپیشل پاورز) ایکٹ کےخاتمے اور حقوق انسانی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے الزامات میں آرمڈ فورسز کے ممبرز کی انویسٹی گیشن کے حوالے سے کیا اقدامات کئے، یہ سفارشات اے پی پی جی کشمیر کی رپورٹ ہیومن رائٹس ابیوزز ان جموں اینڈ کشمیر میں کی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی پوچھا گیا تھا کہ اس رپورٹ کی سفارشات پر عملدرآمدکے حوالے سے حکومت نے بھارت اور پاکستان کی حکومتوں کی حوصلہ افزائی کیلئے کیا اقدامات کئے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں