آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر9؍ربیع الثانی 1440ھ 17؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
برمنگھم(ابرار مغل) اسلام کے نام پر بننے والے عظیم ملک میں تحفظ ناموس رسالت ﷺ کا مطالبہ کرنے والوں کو جیلوں میں بند کیا جارہا ہے، ضعیف العمر بزرگوں اور بچوں کو بھی معاف نہیں کیا گیا جب کہ مہذب دنیا میں ان کا احترام کیا جاتا ہے۔ 90 سالہ مولانا مفتی محمد یوسف کو اس عمر میں گرفتار کر کے جیل میں بند کیا گیا ۔ تحریک لبیک کے سربراہ مولانا خادم رضوی اور دیگر علماء اکرام کو پابند سلاسل کر رکھا ہے، ان کو زخمی کیا گیا، جیلوں میں ان کے ساتھ سلوک حیران کن ہے دہشت گردی کے مقدمات قائم کیے جارہے ہیں ان کی زبانیں بند کی جارہی ہیں جمہوری اور پُر امن احتجاج پر پابندی لگا دی گئی، حکومت اور عدلیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس طرح کے مظالم بند کیے جائیں، گرفتار لوگوں کو رہا کیا جائے، زخمیوں کو طبی سہولتیں مہیا کی جائیں، عوام کے جان و مال کا تحفظ کیا جائے، تحریک لبیک پاکستان اور حکومت کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا اس پر عمل درآمد کیا جائے، آسیہ مسیح کی رہائی پر سپریم کورٹ کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان رابطہ کونسل برطانیہ کے زیر اہتمام مختلف مکاتب فکر کے علماء اکرام، اسلامی جماعتوں کے قائدین، پاکستان رابطہ کونسل کے چیئرمین مفتی فضل احمد قادری، جنرل سیکرٹری حافظ محمد ادریس، سینئر وائس چیئرمین

ڈاکٹر خرم بشیر، مرکزی جماعت اہلسنت کے رہنمائوںمولانا قاری محمد طیب نقشبندی، مولانا علامہ عبدلجبار عاطف، مولانا علامہ محمد شعیب ملک، مولانا مفتی عبدالکریم جماعتی، مولانا سید تنویر حسین شاہ، جمعیت علماء اسلام برطانیہ کے مرکزی رہنما ختم نبوت سنٹر برمنگھم کے خطیب علامہ امدادالحسن نعمانی، مولانا ضیاء الحق، مولانا طارق مسعود، مولانا محمد رفیق شاہ، جمعیت الحدیث کے امیر مولانا ابراہیم میرپوری، یوکے اسلامک مشن کے علماء اکرام سپارک بروک اسلامک سنٹر کے خطیب مفتی فاروق علوی، علامہ سرفراز مدنی، مفتی عبدالمجید ندیم، مولانا حافظ محمد سعید، مولانا محمد سجاد، مولانا قیام الدین ، رابطہ کونسل مڈلینڈ کے چیئرمین محمد زبیر شاہین، سیکرٹری مدثر بصیر، سید مودودی فائونڈیشن کے چیئرمین محمد غالب، محمد افضل، حافظ محمد حسین، قاری محمد صدیق اور دیگررہنمائوں نے برمنگھم میں منعقدہ ناموس رسالتﷺ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ختم نبوت اور ناموس رسالت ہر مسلمان کا بنیادی عقیدہ ہے، اللہ کے رسولﷺ کی عظمت کے خلاف کسی طرح کی توہین کو برداشت نہیں کیا جا سکتا جس طرح مسلمان تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں، دوسرے مذاہب کو مسلمانوںکےعقیدےاورجذبات کا خیال رکھنا چاہئے۔ پاکستان میں جس طرح کے حکومت نے حالات پیدا کر رکھے ہیں اس کے خلاف تمام دینی جماعتیں مشترکہ ردعمل اور احتجاج کر رہی ہیں، حکومت اگر آئین اور قانون کی خلاف ورزیاں کرے گی تو اس کی ذمے دار حکومت خود ہوگی، حکومت کسی بھی دبائو میں آکر ایسے اقدامات نہ کرے جس سے عدم استحکام کی صورت حال پیدا ہو، برطانیہ کی پاکستانی کمیونٹی موجودہ حالات سے پریشان ہے ہم ملک میں جمہوریت، عدل اور انصاف کا نظام اور تمام طبقہ فکر کے عوام کے جان و مال اور عزتوں کا تحفظ اور قانون کی بالا دستی چاہتے ہیں تاکہ ملک میں استحکام اور امن قائم ہو۔ کانفرنس میں ایک قرارداد منظور کی گئی اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ناموس رسالتﷺ کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنے والے تمام علماء اکرام اور دینی جماعتوں کے قائدین کو جیلوں سے رہا کیا جائے اور تمام مقدمات کو واپس لیا جائے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں