آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر9؍ربیع الثانی 1440ھ 17؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
لندن (پی اے) محکمہ موسمیات کی ایک سٹڈی رپورٹ کے مطابق کلائمٹ چینج کی وجہ سے موسم گرما کے دوران برطانیہ میں موسم گرما کے دوران ہیٹ ویو یعنی گرمی کی لہر کے امکانات 30گنا بڑھ گئے ہیں، محکمہ موسمیات کی سٹڈی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2018کے دوران گرمی کی شدت میں جو 30گنا اضافہ دیکھنے میں آیا، اس کا سبب انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے خارج ہونے والی گرمی کا اخراج ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گرمی میں اضافہ نہ ہو تو برطانیہ میں ہیٹ ویو کا امکان نصف فیصد سے بھی کم ہوں، لیکن کلائمٹ یعنی موسم میں تبدیلی کی وجہ سے اس کے امکانات 12 فیصد تک بڑھ گئے ہیں۔ ایسا کم و بیش ہر 8سال بعد ہوتاہے۔ 2018کے دوران گرمی کی شدت برطانیہ میں شدید ترین گرمی کا مشترکہ نتیجہ تھی، گرمی کی یہ شدت 1976,2003اور2018کے مساوی تھی، جو کہ 1910میں جب سے ریکارڈ رکھنا شروع کیا گیا ہے، سب سے زیادہ ہے۔ درجہ حرارت میں تیزی سے ہونے والا یہ اضافہ 27جولائی کو سب سے زیادہ تھا جبکہ سفولک کے علاقے فیلشم میں درجہ حرارت 35.6درجہ سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا، اب ریسرچرز نے تجزیہ کیا ہے کہ اب تک جس کلائمٹ کے ماڈل کی بنیاد پر مرتب کئے گئے ڈیٹا کا مطالعہ کیا گیا ہے، اس کے مطابق کوئلے اور تیل کو بطور ایندھن استعمال کے اثرات کے بغیر بھی دنیا میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہوجائے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں