آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل10؍ربیع الثانی 1440ھ18؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بڑھتی ہوئی آبادی یعنی ’’خاندانی منصوبہ آبادی ‘‘پر فوری توجہ کے موضوع پر کل سپریم کورٹ میں ایک تقریب تھی،لاہور سے مجھے اور چوہدری غلام حسین کو بلایا گیا تھا،تین چاراہم لکھنے والے اور بھی بلائے گئے تھے۔ہمارے لئے آخری لائن میں نشستیں محفوظ کی گئی تھیں۔میں نے اعلیٰ ترین قانون گاہ میں پہلی قانون شکنی کی اورپارلیمنٹیرین کی نشستوں والی رو میں پہلی نشست پر جاکر بیٹھ گیا۔گرد و پیش نظر ڈالی تو قائم مقام اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری اور ان کے ساتھ وزیر اعلیٰ سندھ براجمان تھے۔چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو بلایاگیا تھا مگر تین وزرائے اعلیٰ نہیں آئے تھے انہیں آنا چاہئے تھا۔اس ہال کے قریب ہی کورٹ روم نمبر ون بھی ہے وہاں سے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار تو ایک بار ہوکر آئے ہیں۔لگتا ہے وزیر اعلی بلوچستان اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا بھی چاہتے ہیں کہ انہیں بھی اُس روم کی زیارت کرائی جائے۔عمران خان کے دست راست نعیم الحق، افتخار درانی بھی نظر آئے، وفاقی وزراء بڑی تعداد میں موجود تھے۔ وزیر قانون تقریب میں خاصی دیر سے آئے تھے،عمران خان اپنی تقریر کے دوران انہیں ڈھونڈھ رہے تھے،پرویز خٹک جلدی چلے گئے تھے شاید انہیں سگریٹ پینے کی خواہش تنگ کررہی تھی، مذہبی امور کے وزیر نور الحق قادری بھی دکھائی نہیں دئیے اس تقریب میں انہیں ضرور ہونا چاہئے تھا، کئی علما آئے ہوئے تھے،جب گفتگو کےلئے مولانا طارق جمیل کوا سٹیج پر بلایا گیاتو انہوں نے سامنے بیٹھے ہوئے جج صاحبان سےاپنے اندازمیں قربت کا اظہارکیا،شہزاد رائےکو بھی مدعو کیاگیاتھا۔شہزاد رائے نے بڑااچھا گیت سنایا تھا۔

تقریب میں ہونے والی سرگوشیوں پرریڈیو پاکستان کراچی کا تاریخی واقعہ ذہن میں لہرا گیا۔ڈی جی ریڈیوذوالفقار علی بخاری سے ایک بہت بڑے عالم دین نے شکایت کی ہے کہ جس کار میں صبح سویرے انہیں پروگرام میںبلایا جاتاہے، اسی گاڑی میں سارنگی نواز بندوخان بھی بیٹھے ہوتے ہیں۔بخاری صاحب نے فوراً کہا ’’بندو صاحب ابھی اٹھ کر جارہے ہیں انہیں بھی یہی شکایت تھی ‘‘۔مولانا طارق جمیل نے کہا تو صرف اتنا تھا کہ انہیں یادہو کہ نہ یاد ہو جسٹس آصف سعیدکھوسہ کالج میں میرے کلاس فیلو تھےاور پھر یاد دلانے کےلئے کسی عزیزاللہ نیازی کا نام بھی لیا۔انہوں نے چیف جسٹس کو داد دی کہ آپ دوسروں کے کام کررہے ہیں۔یعنی حکومت کے کرنے والے کام آپ کررہے ہیں۔خیر اس بات پر عمران خان نے بھی چیف جسٹس کو شکریہ ادا کیا کہ انتہائی ضروری کام جو گزشتہ حکومتوں کو کرنا چاہئے تھے وہ انہوں نے نہیں آپ نے کئے۔عمران خان نے اس بات پربھی چیف جسٹس کا شکریہ اداکیا کہ انہیں کورٹ روم نمبر ون کی بجائے تقریب میں مہمان خصوصی کے طور پر بلایا گیا۔عمران خان نےنئے پاکستان کی بنیاد رکھنے کا کریڈٹ بھی سپریم کورٹ کو دیا اور اسے ایک تاریخ ساز واقعہ قرار دیا کہ ملک کے وزیر اعظم کے خلاف جج صاحبان نے پاناما کیس میں فیصلہ دیا جو بہت مشکل کام تھا۔اگرچہ یوسف رضا گیلانی جب وزیراعظم تھے ان کے خلاف بھی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا مگر اُس وقت یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم کانہیں آصف علی زرداری کے جیالے کا کردار ادا کررہے تھے۔آصف علی زرداری کی گرفتاری کی خبریں بھی راہدایوں میں گردش کررہی تھیں مگرذاتی طور پر مجھے نہیں لگتا کہ وہ اتنی جلدی گرفتار کر لئے جائیں گے۔اس تقریب میں پیپلز پارٹی اور نون لیگ کا کوئی فرد نظر نہیں آیا، یا تو انہیں بلایا نہیںگیا تھا یا پھر وہ آئے نہیں تھے۔

اسٹیج پر تین کرسیاں لگی ہوئی تھیں،درمیان میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کرسی نشین تھے ان کے دائیں طرف وزیر صحت عامر کیانی براجمان تھے اور بائیں طرف چیف جسٹس ثاقب نثار جلوہ افروز تھے۔کئی مقررین آئے مگرکسی نے بھی وزیر صحت کا نام نہ لیا حتیٰ کہ انہیں چند جملے بولنے کےلئے ڈائس پر بھی نہیں بلایا گیا، اِس بات کا مجھے افسوس ہے۔سدرہ اقبال ا سٹیج سیکریٹری کے فرائض سر انجام دے رہی تھی۔کیا خبر کہ سدرہ نے کس کے کہنے پر انہیں گفتگو کےلئے نہیں بلایا۔میرے خیال میں وہاں سیکریٹری صحت کی بجائے وزیر صحت کو تقریر کرنا چاہئے تھی۔بہر حال پہلی بار یہ احساس ہوا کہ صرف افواج پاکستان اور عمران خان کی حکومت ایک پیج پر ہی نہیں سپریم کورٹ اور حکومت بھی ایک پیج پر ہے۔یہ اور بات کہ اسی روز عدالت میں زلفی بخاری کی نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے عمران خان کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اقربا پروری کی بات 20 بار کروں گا،کسی کو اعتراض ہے تو رہے، زلفی بخاری کیس میں دیکھنا ہے تقرری قانون کے مطابق ہوئی یا نہیں، اقربا پروری پر تقرریاں ہونگی تو مداخلت کر ینگے، عدالت کے پاس نظر ثانی کا اختیار ہے، کسی کو افسوس ہوا ہے تو ہم اپنے فیصلے بدل نہیں سکتے۔‘‘

عمران خان کے مطابق انہوں نے کسی رشتہ دار کو کوئی عہدہ نہیں دیا۔جب کہ سابقہ حکومت میں ملک کے تمام بڑے عہدے ایک ہی خاندان کے پاس تھے۔ شیخ رشید کی زبان میں پانچ پیاروں کی حکومت تھی۔کیا عمران خان کے دوست بھی ان کے اقربا میں شامل ہیں؟ اِس حوالہ سے عمران خان کا خیال یہ ہے کہ اس کی تمام تر دوستیاں اور دشمنیاں صرف پاکستان کے حوالے سے ہیں۔پاکستان کی بہتری کےلئے ہیں۔ذاتی طور پر چونکہ اس کا کسی شخص سے کوئی مفاد وابستہ نہیں، اس لئے میرے خیال میں اقربا پروری کا الزام اُس پر درست نہیں اور حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کے عزیز الٹاان دنوں مصیبت کا شکار ہیں عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کے خلاف بالکل غلط ایف آئی آر درج کی گئی۔ عمران خان کی بہن کے خلاف پاکستان سے پیسے لے جاکر دبئی میں جائیداد خریدنے کا مقدمہ بنایاگیا اور عمران خان نے ان معاملات میں کوئی دخل اندازی نہیں کی۔ صورتحال یہ ہے کہ عمران خان کے بھانجے کےلئے آئی جی اسلام آباد عامر ذوالفقار کو میں نے ذاتی طور پر فون کیا اور بتایا کہ حسان نیازی کے خلاف بالکل جھوٹی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔بے شک عامر ذوالفقار ایک انتہائی دیانت دار آفسر ہیں۔اقربا کی بات چھوڑیں بنی گالہ کے معاملات میں سی ڈی اے نےخود وزیر اعظم عمران خان کے خلاف جاکر کورٹ میں بیان دیاحالانکہ عمران خان وزیر اعظم ہی نہیں وزیر داخلہ بھی ہیں یعنی سی ڈی اے ڈائریکٹ ان کے ماتحت ہے۔یہ بات عمران خان نےتقریب میں بھی کی۔

پانی اور آبادی، مستقبل کے یہی دو بڑے چیلنج ہیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار اگر ان مسائل پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے تو پاکستان کی تاریخ میں اُن کا نام سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں