آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل10؍ربیع الثانی 1440ھ18؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ چند روز سے بھولا ڈنگر خوشی سے پھولا پھر رہا ہے، اس نے کہیں اخبار میں خبر پڑھ لی ہے کہ وزارت خزانہ سگریٹ پر گناہ ٹیکس لگائے گی۔ مجھے اس کی خوشی پر بہت حیرت ہوئی کیونکہ وہ خود بھی سموکر ہے۔ میری دینی معلومات بہت کم ہیں، لہٰذا میں یقین سے نہیں کہہ سکتا،تاہم میں نے بعض علماء سے سنا ہے کہ تمباکو نوشی گناہ نہیں، مباح ہے۔ واللہ اعلم بالصواب، بہرحال میں بھولے ڈنگر کی بات کررہا تھا، کل وہ میری طرف آیا تو زندگی میں پہلی مرتبہ اس کے ہاتھ میں کوئی لپٹی ہوئی چیز تھی جو وہ میرے لئے لایا تھا، دیکھا تو قلفی تھی۔ میں نے کہا اے حاتم ثانی کیوں دوست کو آگ لگانے پر تلے ہوئے ہو۔ بولا’’ سگریٹ پر گناہ ٹیکس کی خوشی میں تمہارا منہ میٹھا کرانے کے لئے قلفی لایا ہوں۔‘‘ میں نے بھولے سے کہا ’’اے میرے ڈنگر دوست، یہ تو نیا ٹیکس لگانے کا ایک طریقہ ہے، اس میں خوش ہونے کی کون سی بات ہے۔ ‘‘بولا’’تم لوگ مجھے بھولا ڈنگر کہتے ہو، حالانکہ یہ تم لوگ ہو، جنہیں یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ یہ ابتداء ہے اس کے بعد متعدد گناہوں پر ٹیکس عائد کیا جائے گا اور پھر دھڑلے سے ٹیکس ادا کرو، دھڑ لے سے گناہ کرو۔‘‘

اس کے بعد بھولے ڈنگر نے مثالیں گنوانا شروع کیں تو میں نے شرم سے منہ ڈھانپ لیا۔ میں نے کہا’’ بھولے مجھے علم نہیں تھا تمہارے اندر کتنے گندے گناہوں کی خواہش پل رہی ہے۔ بولا ’’یہ تمہاری اپنی سوچ ہے، ورنہ حکومت عوام کو ڈھیروں مسرت دینا چاہتی ہے، جس میں ایسی لذیتیں اور خوشیاں بھی موجودہیں جن سے بہت سے لوگ مستفید ہونا چاہتے ہیں، مگر ممانعت کی وجہ سے مستفید ہو نہیں پاتے اور جو ہوتے ہیں وہ خود کو گنہگار بھی سمجھ رہے ہوتے ہیں، جس سے سارا مزا جاتا رہتا ہے۔‘‘ میں بھولے ڈنگر کی خرافات خاموشی سے سن رہا تھا اور دخل اندازی بالکل نہیں کررہا تھا کہ مبادا اس کے خیالات کا سلسلہ ٹوٹ جائے اور میں اس کے ذہن کی گندگی کے آگے ’’ڈکا‘‘ لگا دوں، چنانچہ میں نے اسے مسلسل بولنے دیا، وہ کہہ رہا تھا بلکہ مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ’’ اگر تم روزہ نہ رکھ سکو، تو اسلامی شرع کے مطابق کیا کرتے ہو؟ میں نے کہا کفارہ ادا کرتا ہوں بلکہ ایسے بہت سے گناہ اور بھی ہیں، جن کے ارتکاب کی صورت میں آپ کفارہ ادا کردیں کہ اللہ کی ذات آپ کو معاف کردے۔‘‘یہ سن کر بھولا’’ڈنگر‘‘ بہت خوش ہوا، کہنے لگا’’ اللہ تمہارا بھلا کرے تمہیں پتہ ہے کبھی کبھار شام کو جب موسم خوشگوار ہو، دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر میں بھی موج میلہ کرلیتا ہوں مگر بعد میں احساس گناہ چین نہیں لینے دیتا۔ اب میں گناہ ٹیکس، لاحول ولا، کفارہ ادا کردیا کروں گا اور اس کے بعد ستے ای خیراں ہیں۔‘‘ میں نے کہا بھولے میں سمجھ گیا ہوں، تم شراب نوشی کی بات کررہے ہو، بولا’’آہو آہو‘‘ میں نے پوچھا ’’اس کے علاوہ؟‘‘ کہنے لگا! حکومت نے بازارِ حسن بند کردیا ہوا ہے، اب صرف جوتوں کی دکانیں ہیں۔ ظاہر ہے وہ صحیح کہہ رہا تھا مگر میں چاہتا تھا وہ کھل کر بات کرے، چنانچہ وہ شروع ہوگیا ’’دیکھو نا تمہارا تعلق فنون لطیفہ سے ہے، پہلے اس بازار میں شام ہوتے ہی سازو آواز کی مدھ بھری تانیں سنائی دیتی تھیں، گجرے بیچنے والے نظر آتے تھے، اب حکومت کو یہ بازار کھولنا پڑے گا، کفارہ ادا کریں اور گانا سننے کے لئے کسی بھی کوٹھے کی سیڑھیاں چڑھ جائیں۔‘‘

میں نے کہا’’بھولے گانا سننے پر تو پہلے بھی کوئی پابندی نہیں تھی، مگر گانے کی آڑ میں اور بہت کچھ ہوتا تھا، وہاں مونچھوں والی ایک مخلوق کاندھوں پر پرنا ڈالے تم جیسے لوگوں سے تعاون کرنے کے لئے سرگرم عمل نظر آتی تھی۔ اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘ بھولا بولا’’ہاں تو ٹھیک ہے ناحکومت کو بس گناہ ٹیکس ہی تو ادا کرنا پڑے گا‘‘۔ میں نے اس کی تصحیح کی ’’گناہ ٹیکس‘‘ نہیں کفارہ کہو کفارہ‘‘ اس دوران بھولا ڈنگر خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا، چنانچہ اس روز اس نے اپنی ساری دبی ہوئی خواہشات کا کھل کر اظہار کیا اور یوں ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ واقعی ڈنگر ہے کیونکہ میں تو اس کا باطن باہر لارہا تھا، جس پر اس نےاپنی دینداری کا لبادہ اوڑھا ہوا تھا، جب میں نے دیکھاکہ وہ اپنے دو چار دشمنوں کو قتل کرنے کی انسانیت سوز حرکات کو بھی کفارے کے دائرے میں لانا چاہ رہا ہے تو میں سنجیدہ ہوگیا۔ میں نے بھولے کو مخاطب کیا اور کہا’’بھولے میں کسی گناہ کی بات نہیں کرتا کیونکہ ہمارے ہاں تو کھیل تماشوں کو بھی گناہ میں شامل کرلیا گیا ہے، البتہ میں ایک بات وزارتِ خزانہ تک پہنچانا چاہتا ہوں، کیا کروں؟‘‘ ڈنگر تو ڈنگر ہی ہوتا ہے، بولا ’’تم مجھے بتائو، میں کل ہی وزیر خزانہ کو بتادوں گا، وہ میرے لنگوٹیا ہے، ہم روزانہ شام کو مولا بخش کی دکان پر پان کھانے جاتے ہیں۔‘‘ میں نے بمشکل اپنی ہنسی روکی اور کہا’’اچھا کل وہ جب تمہاری طرف آئیں تو انہیں کہنا حکومت پاکستان کی اجازت سے بروری بیئر کے لاکھوں ڈرم تیار ہوتے ہیں، ہوتے ہیں نا؟ بولا’’ ہاں ہوتے ہیں‘‘ میں نے بھولے کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور عرض کی کہ کل جب وزیر خزانہ تمہاری طرف آئیں تو انہیں کہنا کہ وہ اگر اس فعل کو اسلام سے متصادم نہیں سمجھتے تو فوری طور پر فی ڈرم بیئر پر گناہ ٹیکس عائد کرکے کفارہ ادا کریں اور اس کفارے سے جو کروڑوں اربوں روپے حاصل ہوں وہ غریب پاکستانیوں میں تقسیم کردیں، ایک مرغ اور چار مرغیوں کی تقسیم والی اسکیم سے یہ اسکیم کہیں بہتر ہے!‘‘۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں