آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل10؍ربیع الثانی 1440ھ18؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ، تھرکول بجلی منصوبہ، ڈاکٹر ثمرمبارک منداوردیگر کیخلاف تحقیقات نیب کے سپرد

اسلام آباد(ایجنسیاں)سپریم کورٹ آ ف پاکستان نے تھر کول منصوبہ تحقیقات کیلئے قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھجواتے ہوئے سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور دیگر کے خلاف کارروائی کا حکم دیدیا‘ دوران سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثارنے ریمارکس دیئے کہ تھرکول منصوبے کی جگہ سے لوگ سامان بھی اٹھا کر لے گئے‘ جو اربوں روپے منصوبے پر لگے اس کا حساب کون دیگا؟۔ جمعرات کو چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تھر کول گیسی فکیشن منصوبہ ازخود نوٹس کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی اور اس موقع پر سا ئنسدا ن ڈاکٹر ثمر مبارک مند بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آڈیٹر جنرل نے حتمی رپورٹ پیش کر دی ہے اور بتایا کہ اب تک 4 ارب 69 کروڑ روپے منصوبے پر خرچ ہوچکے ہیں لیکن بجلی پیدا نہیں ہوئی۔چیف جسٹس نے اس موقع پر استفسار کیا کہ جو اربوں روپے منصوبے پر لگے اس کا حساب کون دے گا، ثمر مبارک مند نے کہا تھا بجلی سے ملک کو مالا مال کردوں گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تھرکول منصوبے کی جگہ

سے لوگ سامان بھی اٹھا کر لے گئے، جسٹس فیصل عرب نے سوال کیا 2017کے بعد رقم کس کے کہنے پر جاری ہوئی تھی۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ تھر کول پلانٹ پر صرف تین چوکیدار تھے، منصوبے کے لیے فزیبلیٹی اسٹڈی اور منصوبہ بندی ناقص تھی اور منصوبے کے لیے پلاننگ کمیشن نے کردار ادا نہیں کیا۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اربوں روپے خرچ کرنے کے بعد کیوں خیال آتا ہے کہ منصوبہ درست نہیں۔جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ منصوبہ 2 سال سے بند تھا لیکن کروڑوں روپے کی خریداری جاری تھی، خدشہ ہے کہ پہلے والے 4 ارب بھی منصوبے پر نہیں لگے ہوں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں