آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار یکم ربیع الثانی 1440ھ9؍ دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد (انصار عباسی) کئی لوگوں کی رائے کے مطابق نیب کا ’’متاثرہ شخص‘‘ سمجھے جانے والے وزیراعظم کے سابق پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد نے اُس رپورٹ کی تیاری میں بڑا کردار ادا کیا جس کی بنیاد پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے آبادی کنٹرول کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب کیا۔ فواد حسن فواد گزشتہ پانچ ماہ سے جیل میں ہیں اور اب تک ان کیخلاف نیب نے کوئی ریفرنس بھی دائر نہیں کیا۔ وہ اُس کمیٹی کے رکن تھے جو چیف جسٹس پاکستان نے آبادی کے بم کو پھٹنے سے روکنے کی خاطر پالیسی بنانے کیلئے جولائی کے اوائل میں تشکیل دی تھی۔ کمیٹی تشکیل دیے جانے کے دو دن بعد، اچھی ساکھ کے حامل اس افسر کو نیب نے آشیانہ کیس میں گرفتار کرلیا، یہ وہ کیس ہے جو خود ہی تنازع کا شکار ہو چکا ہے کیونکہ بیورو کے پاس فواد یا شہباز شریف کیخلاف کوئی ثبوت نہیں۔ شہباز شریف کو اسی کیس میں اکتوبر میں گرفتار کیا گیا تھا۔ فواد حسن فواد نے نیب کی حراست کے دوران ہی کمیٹی کے کئی اجلاسوں میں شرکت کی حتیٰ کہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجے

جانے کے بعد بھی اجلاسوں میں شریک ہوئے۔ پالیسی تشکیل دینے کیلئے یہ اجلاس سپریم کورٹ اور وزارت صحت میں منعقد ہوتے تھے۔ فواد کو نیب اور جیل حکام اجلاس میں شرکت کرانے کیلئے اسلام آباد لاتے تھے۔ کمیٹی کے ساتھ جڑے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس پاکستان کو پیش کردہ رپورٹ کی تیاری میں فواد حسن فواد نے بڑا کردار ادا کیا، چیف جسٹس نے ہدایت کی تھی کہ وزیراعظم کی زیر صدارت بین الصوبائی رابطہ کمیٹی (آئی پی سی سی) میں تمام صوبوں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ رپورٹ پر بحث و مباحثہ کیا جائے۔ مبینہ طور پر رپورٹ کی تیاری کیلئے انہوں نے نیب کی جیل اور لاہور کی کیمپ جیل میں رہتے ہوئے دن رات محنت کی اور رپورٹ میں اہم کردار ادا کیا۔ ذریعے نے کہا کہ ایک موقع پر چیف جسٹس پاکستان نے بھی افسر کی جانب سے ڈالے گئے حصے کی تعریف کی تھی۔ ملک میں پریشان کن انداز سے بڑھتی آبادی پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان نے کمیٹی تشکیل دی تھی تاکہ آبادی کنٹرول کرنے کیلئے متفقہ پالیسی تشکیل دی جا سکے۔ نیب لاہور نے رواں سال جولائی کے پہلے ہفتے میں فواد حسن فواد کو آشیانہ کیس میں گرفتار کیا تھا۔ فواد پر الزام تھا کہ انہوں نے 2013ء میں آشیانہ ہائوسنگ اسکیم کا کنٹریکٹ منسوخ کرایا اور اس میں مبینہ طور پر ان کا مقصد یہی کنٹریکٹ من پسند ٹھیکیدار کو دینا تھا۔ تاہم، پانچ ماہ گزر جانے کے باوجود نیب فواد اور دیگر کیخلاف الزامات کی سچائی ثابت کرنے کیلئے کوئی ٹھوس شواہد سامنے نہیں لا سکی۔ اس کی بجائے نیب کے شہباز شریف اور فواد حسن فواد کیخلاف آشیانہ کیس کی بنیاد کو ایک قانونی دستاویز نے تباہ کردیا، اسی دستاویز میں انکشاف کیا گیا تھا کہ پروجیکٹ کیلئے لطیف سنز کا کنٹریکٹ کبھی منسوخ کیا ہی نہیں گیا تھا بلکہ پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی (پی ایل ڈی سی) اور ٹھیکے دار کے درمیان معاہدے کے تحت باہمی اتفاق سے ختم کیا گیا تھا۔ دی نیوز کے پاس معاہدے کی نقل دستیاب ہے، اور اس نے نیب کا کیس خراب کردیا تھا۔ نیب نے شہباز شریف اور فواد کو یہ پروجیکٹ من پسند کمپنی کو دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے گرفتار کر رکھا ہے۔ معاہدے کی نقل گزشتہ ماہ روز لاہور ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران فواد حسن فواد کے وکیل کی طرف سے پیش کی گئی تھی، اس میں دونوں فریقین، لطیف سنز اور پی ایل ڈی سی، کے دستخط موجود ہیں۔ معاہدے میں بتایا گیا تھا کہ ایک ارب 49؍ کروڑ 52؍ لاکھ 22؍ ہزار 824؍ روپے کے منصوبے پر عمل کیلئے 16؍ فروری 2013ء کو طے پانے والے معاہدے کو فریقین باہمی اتفاق رائے کے ساتھ ختم اور منسوخ کرتے ہیں۔ معاہدے پر 9؍ نومبر 2013ء کو دستخط کیے گئے اور اس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ فریقین اپنی منشا اور خوشی سے ناگزیر وجوہات کی بنا پر پروجیکٹ پر عمل کا معاہدہ ختم کرتے ہیں اور کسی بھی فریق کا دوسرے فریق پر کوئی دعویٰ یا ہرجانہ نہیں واجب الادا نہیں۔ اس معاہدے کے منظرعام پر آنے کی وجہ سے نیب کے سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور سابق سیکریٹری برائے وزیراعظم کے کیس کو نیا ڈرامائی موڑ مل گیا تھا۔ دونوں نیب کی حراست میں ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں