آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل10؍ربیع الثانی 1440ھ18؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی(نیوز ڈیسک)اے پی این ایس اور پی بی اےنے چوہدری فواد کے بیان پر شدید تحفظات کا اظہارکیا ہے اور وزیر اعظم عمران خان سے درخواست کی ہے کہ وہ میڈیا کی واجب الادا رقوم کی ادائیگی کے لیے متعلقہ وزارتوں کو ہدایات جاری کریں۔تفصیلات کے مطابق،آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) اور پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن(پی بی اے)نے وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین کے بیان پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔وفاقی وزیر طلاعات نے دعویٰ کیا تھا کہ میڈیا انڈسٹری کے آدھے سے زائد واجبات کی ادائیگی میڈیا ہائوسز کو کردی گئی ہے ، اس کے باوجود اس رقم کو ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔وزیر اطلاعات نے کہا تھا کہ 1اعشاریہ3ارب روپے میں سے آدھے (اعشاریہ6 ارب روپے)میڈیا ہائوسز کو جاری کردیئے گئے ہیں ، جو کہ انہوں نے صحافیوں کو ادا کرنے کے بجائے پوری رقم اپنے پاس رکھ لی ہے۔ایسے بیانات جھوٹے اور میڈیا صنعت میں تنازعات کا باعث ہیں۔اس سے قبل بھی وزیر اطلاعات نے نیوز میڈیا صنعت کے خلاف تحقیر

آمیز بات کی تھی ،جو کہ انتہائی افسوس ناک ہے۔حقیقت یہ ہے کہ حکومت(وفاقی اور صوبائی) پر میڈیا کی واجب الادارقم 1اعشاریہ3ارب روپے نہیں بلکہ 8ارب روپے ہے۔اس میں سے حکومت نے 10فیصد کی ادائیگی بھی نہیں کی ہے ۔ان 8ارب روپے میں سے تقریباً3ارب روپے 4سال سے زائد عرصے سے حکومت پر واجب الادا ہیں ، جب کہ باقی 3ارب روپے 9سے15ماہ کے درمیان حکومت پر واجب الادا ہیں ۔اس میں زیادہ تر رقم وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت نے ادا کرنا ہیں۔معزز چیف جسٹس نے میڈیا واجبات کی ادائیگی کے لیے خصوصی اجلاس طلب کیا تھا اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے کہا تھا کہ وہ 30روز کے اندر غیر متنازعہ ادائیگیاں کردیں۔تاہم تقریباً60 روز گزرجانے کے باوجود واجبات کی ادائیگی اب تک نہیں کی گئی ہے۔اس اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعا ت اور وفاقی وزیر خزانہ موجود تھے۔اے پی این ایس اور پی بی اے اپنے مشترکہ اعلامیہ میں وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین کے بیان کی سخت مذمت کرتا ہے، کیوں کہ ان کا بیان نہ صرف غلط اور گمراہ کن ہے بلکہ وہ وفاقی وزیر اطلاعات کے عہدے کے شایان شان بھی نہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے اے پی این ایس ایگزیکٹیو کمیٹی کو 16اکتوبر ،2018کو یقین دہانی کرائی تھی ، لیکن اس کے باوجود اب تک مکمل رقم کا 10فیصد بھی ادا نہیں کیا گیا ہے۔بظاہر لگتا ہے کہ وزیر اطلاعات کو ان کی وزارت کی جانب سے گمراہ کیا گیا ہے۔اس لیے انہیں چاہیئے کہ وہ بیان دینے سے قبل ایک مرتبہ پھر حقائق کی تصدیق کرلیں کیوں کہ غلط بیان ان کے عہدے اور ساکھ کو متاثر کرسکتا ہے۔اے پی این ایس اور پی بی اے وزیر اعظم عمران خان سے درخواست کرتا ہے کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت دیں کہ وہ میڈیا کی واجب الادا رقوم کی ادائیگی کریں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں