آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل3؍ربیع الثانی 1440ھ11؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کہتے ہیں کہ میرے دور حکومت میں ڈالر پوچھے بغیر 10پیسے بھی اوپر نہیں جاتا تھا، جبکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں توازن رہا۔

پیشی کے موقع پر وقفے کے دوران نواز شریف نے کمرۂ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے مزید کہاکہ دنیا 2013 ءسے 2017ء تک ہماری معیشت کو مضبوط اور متوازن کہتی تھی،2017ء میں جب میں گھر گیا تو دہشت گری ختم ہوگئی تھی۔

انہوں نے کہاکہ شہباز شریف نے پہلی بار کراچی سے الیکشن لڑا، فیصل واوڈا صرف چار،پانچ سو ووٹوں سے جیتے، وہ بھی آپ کو پتہ ہے کہ فیصل واوڈا کیسے جیتے، فافن رپورٹ دیکھ لیں۔

نواز شریف نے مزید کہا کہ اگر یہ کہتے ہیں کہ ہم نے ڈالر کو مصنوعی طریقے سے برقرار رکھا تو یہ بھی رکھ لیں، ڈالر کی قیمت برقرار رکھنے کا مصنوعی طریقہ ہے کیا؟

انہوں نے سوال کیا کہ شہباز شریف کو کس جرم میں اندر رکھا ہوا ہے؟ ہماری معیشت موجودہ دور حکومت کی متحمل نہیں ہوسکتی، ہمارے دور میں سی این جی اسٹیشن پر قطاریں ہوتی تھیں۔

نوازشریف نے کہا کہ پوچھتے ہیں کہ 1999ء کے بعد باہر کیوں گئے؟ مشرف نے جلاوطن کیا خود مرضی سے نہیں گئے۔

انہوں نے کہا کہ کوئی تو پوچھے احتساب کس طرح ہو رہا ہے، نیب جس طرح ہے اسی طرح رہنا چاہیے، ہم تو بھگت چکے ہیں، اب باقی بھگتیں۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ نیب عمران خان کے ہیلی کاپٹر کا بھی احتساب کرے،عمران کے باقی خاندان کے ذرائع آمدن کا بھی احتساب کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا تو ذرائع آمدن کا ریکارڈ 1937ء سے موجود ہے، ہم سیاست میں آنے سے پہلے زیادہ خوش حال تھے۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ سیاست میں آنے کے بعد پریشانیوں میں اضافہ ہوا، ملکی معیشت ہر چیز کی متحمل ہو سکتی ہے ماسوائے موجودہ حکومت کے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں