آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل3؍ربیع الثانی 1440ھ11؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاقی حکومت نے مالی خسارے پر قابو پانے کے لیے بینک قرضوں پر انحصار کا فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت مانیٹری اینڈ فسکل پالیسی کوآرڈی نیشن بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں مالی پالیسی، مانیٹری پالیسی اور بیرونی فنانسگ کا جائزہ لیا گیا۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اجلاس میں ریونیو بڑھانے اور اخراجات کم کرنے پر اتفاق کیا گیا اور مالی خسارے پر قابو پانے کیلئے بینک قرضوں پر انحصار کا فیصلہ کیا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آئندہ سال جنوری میں بیرونی فنانسگ بڑھنے سے اسٹیٹ بینک کی فنانسنگ پر انحصار کم ہوگا۔

وزرات خزانہ کے اعلامیے کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ میں مالی خسارہ جی ڈی پی کا 1.4فی صد رہا۔

اعلامیے کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ تیل اور درآمدی اشیاء میں چار فی صد کمی جب کہ برآمدات میں چار فی صد اور بیرون ممالک سے ترسیلات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔

وزرات خزانہ کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی طلب اور رسد میں فرق کی وجہ سے آئی، روپے کی قدر مارکیٹ اور درمیانے درجے کی ضرورت کے مطابق ہے۔

اعلامیے کے مطابق بین الااقومی مارکیٹ میں تیل کی کمی اور ادھار تیل سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم ہوگا، آئندہ مہینوں میں دوست ممالک سے ترسیلات میں اضافے سے زر مبادلہ کے ذخائر بڑھیں گے۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ مالی پالیسی میں تبدیلیاں اگلے مالی سال کے اہداف سے مطابقت رکھتی ہیں اور شرح سود واضح طور پر مثبت ہے جس سے مجموعی طلب پوری ہو سکے گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں