آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل3؍ربیع الثانی 1440ھ11؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لندن (پی اے) برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کی جانب سے بریگزٹ ڈیل کو بچانے کیلئے آئرش بیک سٹاپ پر ایم پیز کو فیصلے کا اختیار دینے کی تجویز کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس تجویز کے ذریعے تھریسا مے کامنز میں اپنے پلان کو منظور کرانے کیلئے باغیوں کی حمایت حاصل کرنے کی خواہاں تھیں۔ ٹوری بیک بینچ ترمیم کے بارے میں خیال ہے کہ اسے 10 ڈائوننگ سٹریٹ کی حمایت حاصل ہے، اس اقدام میں ایم پیز کو ناردرن آئرلینڈ بارڈر کے تنازع میں زیادہ آواز کا حق دیا جائے گا۔ ڈی یو پی لیڈر ارلین فوسٹر نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس اہم اور نازک مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ بیک سٹاپ کا مقصد ناردرن آئرلینڈ میں ہارڈ بارڈر سے بچنا ہے۔ اس کے ذریعے آئر لینڈ پر کچھ یورپی یونین رولز کا اطلاق ہوگا جبکہ ایم پیز کی بڑی تعداد اس کی مخالفت کر رہی ہے۔ تھریسا مے کے پلان کی حمایت کیلئے وزرا ملک بھر میں دورے کر رہےہیں تاکہ اس ڈیل کے حق میں راہ ہموار کر کے 11 دسمبر کو کامنز میں اسے منظور کرایا جائے۔ درجنوں

ٹوری ایم پیز ان کے پلان کو مسترد کردیں گے۔ ڈی یو پی نے بھی اس کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ ڈائوننگ سٹریٹ نے ان افواہوں کو مسترد کر دیا ہے کہ کامنز میں پلان کے مسترد کئے جانے کے خدشات کے پیش نظر ووٹ کو موخر کیا جا سکتا ہے۔ ڈائوننگ سٹریٹ نے کہا کہ بریگزٹ پلان پر ووٹنگ 11 دسمبر کو ہی ہوگی۔ تاہم ٹوری بیک بینچرز کے چیئرمین سر گراہم براڈی نے کہا کہ اگر بیک سٹاپ کے تنازع کو حل کرنے کیلئے ووٹ کو موخر کیا جاتا ہے تو میں اس کا خیر مقدم کروں گا۔ ہیلتھ سیکرٹری میٹ ہینکاک نے بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام ٹوڈے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے بہترین مفاد میں یہ ہے کہ ایم پیز تھریسا مے کے پلان کی حمایت کریں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے قوی امید ہے کہ ہم کامنز ووٹ میں فتح یاب ہوں گے، قبل از وقت اندازے نہ لگائے جائیں، میں چاہتا ہوں کہ ہم مباحثہ جاری رکھیں، باقی دنوں میں ہم دلائل کے ذریعے ایک دوسرے کو قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔ پورپی کمیشن نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ بریگزٹ پر مذاکرات ری اوپن نہیں ہوں گے۔ ٹوری ارکان کا خیال ہے کہ یہ ترمیم قریب ترین اقدام ہو سکتی ہے، جس کے ذریعے بیک سٹاپ کے تنازع کو حل کرنے میں مددمل سکتی ہے۔ سابق ناردرن آئرلینڈ منسٹر رچرڈ سوائر نے کہا کہ یہ ایم پیز کی مرضی ہے کہ وہ دیوار پر جو لکھا ہے، اسے قبول کر لیں یا مجھ جیسے لوگوں کی طرح ڈیل کی سپورٹ کریں۔ کنزرویٹیو بریگزیٹئر سٹیو بیکر نے اس ترمیم کو مسترد کر دیا اور کہا کہ ایم پیر سے کہا جا رہا ہے کہ وہ جن یا گہرے نیلے سمندر میں سے ایک کو قبول کرلیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تجویز سے چند ہی لوگ قائل ہو سکیں گے۔ کنزرویٹیو یورپین ریسرچ گروپ کے ایک اندرونی ذریعے نے بتایا کہ ترمیم ٹرانسپیرنٹ ہے۔ ڈی یو پی لیڈر ارلین فوسٹر نے کہا کہ اس ترمیم سے کوئی قانونی پابندی نہیں ہوگی۔ تھریسا مے کی ڈیل کو منظور کرانے کیلئے منسٹرز کمیونٹیز سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ چانسلر فلپ ہیمنڈ، ہیلتھ سیکرٹری ہینکاک، کیبنٹ آفس منسٹر ڈیوڈ لیڈنگٹن، سکاٹش سیکرٹری ڈیوڈ مونڈل اپنے ملک گیر دوروں میں تھریسا مے کی بریگزٹ ڈیل کی عوام میں حمایت کیلئے مہم چلا رہے ہیں۔ تھریسا مے نے کہا ہے کہ میں نے اپنے دوروں میں عوام کی یہ اجتماعی آواز سنی ہے کہ ان کی خواہش ہےکہ برطانیہ یہ ڈیل یورپی یونین کے ساتھ کرے۔ اسی لئے منسٹرز عوام سے بات کرنے کیلئے دورے کررہے ہیں تاکہ بریگزٹ پلان کیلئے عوامی حمایت کو مزید تقویت دی جا سکے۔ منسٹرز کمیونٹیز سے خطاب کر رہے ہیں اور انہیں آگاہ کر رہے ہیں کہ یہ ڈیل کس طرح کارگر ہوگی اور عوام اور ملک کو اس کے کیا فائدے ہوں گے۔ لیبر لیڈر جیریمی کوربن نے کہا کہ تھریسا مے کا پلان ملک کیلئے بالکل ناکام ہے اور یہ دنیا میں ہونے والی تمام ڈیلز میں بد ترین ہے اور اس سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا، یہ کسی کیلئے بھی کارگر نہیں ہے، چاہے وہ ریمین کو ووٹ دیں یا چھوڑنے کیلئے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ اگر ڈیل کو کامنز میں مسترد کر دیا گیا تو ان کی ترجیح نئے عام انتخابات ہوں گے، جو کہ آفر پر نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ٹیبل پر تمام آپشنز کھلے رکھیں گے۔ جس میں ڈیڈ لاک توڑنے کیلئے پبلک ووٹ کیلئے کمپین بھی شامل ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں