آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل3؍ربیع الثانی 1440ھ11؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستانی و کشمیری قیادت مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اوور سیز کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائے،راجہ نجابت حسین

لندن (جنگ رپورٹ) عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر پر لابی اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو اجاگر کرنے کے حوالے سے یورپی یونین اور برطانیہ میں متحرک ترین تنظیم جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے عہدیداروں کی شبانہ روز محنت ، مختلف ایوانوں اور اداروں میں مسلسل کامیابیوں کے بعد تحریک کے سربراہ نے نومبر کے آخری ہفتوں میں آزاد کشمیر و پاکستان کا دورہ کیا ۔ اس دورے میں چیئرمین راجہ نجابت حسین نے یورپ و برطانیہ میں ہونے والی پیش رفت سے صدر آزاد کشمیر ، وزیر اعظم آزاد کشمیر ، حریت کانفرنس کی قیادت ، وفاقی وزراء فواد حسین چوہدری ، وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور ، ڈاکٹر شیریں مزاری ، وزارت خارجہ کے حکام ،کشمیرمیڈیا سروس کی ٹیم، لابی گروپ یوتھ فورم فار کشمیر ، آزاد کشمیر کے صحافیوں و دانشوروں ، ایڈیٹرز ، قومی اسمبلی و آزاد کشمیر اسمبلی کے ممبران ، جموں و کشمیر لبریشن سیل کے حکام سے تفصیلی ملاقاتیں کیں اور سفارتی محاذ پر کی گئی سرگرمیوں ، مختلف فورمز پر پیش رفت اور مستقبل کی سرگرمیوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور مستقبل کی سرگرمیوں کی مشاورت اور معاونت کے ساتھ تحریکی تقریبات کو منعقد کرنے کا پروگرام بھی ترتیب دیا ۔ تحریک حق خود ارادیت کے چیئرمین کی ان ملاقاتوں کے علاوہ برطانوی پارلیمنٹ میں

قائم آل پارٹیز پارلیمنٹری کشمیر گروپ کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جاری کی گئی رپورٹ کے حوالے سے منعقدہ سیمینار اور مختلف تنظیموں کے رہنمائوں کے رہنمائوں کی جانب سے دئیے گئے عشائیوں میں شرکت کی ۔ راجہ نجابت حسین نے اس موقع پر پر آزاد کشمیر ، مقبوضہ کشمیر اور پاکستانی رہنمائوں کو تحریکی عہدیداروں کی مسلسل کاوشوں خصوصاً خواتین عہدیداروں کی کارکردگی سے آگاہ کیا اور کہا کہ برطانیہ و یورپ میں تحریک حق خود ارادیت واحد تنظیم ہے جس کے عہدیداران کی اکثریت خواتین و نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔ ہم مستقبل قریب میں خصوصاً نوجوانوں و خواتین کو خصوصی کردار دے کر مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کریں گے ۔ راجہ نجابت حسین نے پاکستانی و کشمیری قیادت سے خصوصی اپیل کی کہ وہ بیرون ملک کشمیریوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے وفود میں شامل کریں تاکہ کشمیری براہ راست عالمی فورمز سے بات کر کے ان کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائیں ۔ راجہ نجابت حسین نے اس موقع پر لیڈرشپ اور صحافیوں سے بھی اپیل کی کہ وہ دنیا بھر میں کشمیری و پاکستان نژاد سیاسی اکابرین ، خصوصاً ممبرا ن پارلیمنٹ کو عالمی اداروں میں بھیجنے اور مشاورتی عمل میں شامل کر کے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور کشمیر کی تحریک کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں خصوصی اہمیت دیں ۔ راجہ نجابت حسین کشمیری و پاکستانی قیادت کو بیرون ملک کشمیریوں کے جذبات سے آگاہ کرتے ہوئے گلگت بلتستان کے حساس معاملے میں غور و فکر کے عمل میں آزاد کشمیری کی سیاسی و سفارتی قیادت ، حریت قائدین کو مشاورت میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ۔ تحریک حق خود ارادیت کی طرف سے مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو جلد از جلد ان کے تمام حقوق مہیا کیے جائیں جو پاکستان کے چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر کی عوام کو حاصل ہیں ۔ تحریک آزادی کشمیر کے محاذ پر بھی گلگت بلتستان کے کے عوامی نمائندوں کو شامل کر کے کشمیریوں قوم کو احساس دلایا جائے کہ حکومت پاکستان ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو ایک اکائی سمجھتی ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جدو جہد پر یقین رکھتی ہے اور ریاست کی قومی وحدت کو کسی صورت بھی پارہ پارہ نہیں ہونے دے گی جس کے لیے بھارت طرح طرح کے حربے اختیار کر رہا ہے ۔ انہوں نے صدر ریاست آزاد کشمیر سردار مسعود خان کی شبانہ روز کاوشوں اور سفارتی تجربہ کاری سے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے پر بھرپور اور شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ۔انہوں نے وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کی جانب سے بیرون ملک بلا اامتیاز سیاسی وابستگی کشمیریوں سے تعاون اور کشمیریوں کے قومی نقطہ نظر کو مقامی و عالمی سطح پر اٹھانے پر شکریہ ادا کیا ۔راجہ نجابت حسین نے صدر ریاست سردار مسعود خان اور وزیر اعظم سمیت وفاقی وزراء کو بیرون ملک مستقبل کے پروگرامات میں دعوت بھی دی ۔ صدر ریاست اور وزیر اعظم نے دعوت قبول کرتے ہوئے تحریکی عہدیداروں کو ان کے کام پر زبردست خراج تحسین بھی پیش کیا ۔ تحریکی عہدیدار ن کی کاوشیں رنگ لا رہی ہیں اور برطانیہ و یورپ کے پارلیمان سے حوصلہ افزا خبریں مسلسل جدو جہد کا نتیجہ ہیں ۔ برطانوی پارلیمنٹ کے کشمیر گروپ کی 32سال بعد رپورٹ تارکین وطن کشمیریوں اور تمام تنظیموں کی کاوشوں کا نتیجہ ہے اور اس کا کریڈٹ جہاں قربانیاں دینے والے کشمیریوں کو جاتا ہے وہیں کشمیر دوست اراکین برطانوی پارلیمنٹ کو بھی جاتا ہے جنہوں نے مقبوضہ کشمیر کی عوام کا کیس پارلیمنٹ میں پیش کیا اور اس پر خوب کام کیا ۔ کشمیر دوست اراکین بھارت کی ظالمانہ کارروائیوں کو ہر سطح پر اجاگر کر کے کشمیریوں کی آواز بن رہے ہیں ۔علاوہ ازیں انہوں نے دورے کے دوران حریت قائدین سے ملاقاتیں کیں اور خصوصی نشستوں کے دوران حریت قیادت کو ایک ملین یورپی کشمیریوں کی جانب سے یقین دلایا کہ بیرون ملک کشمیری اپنے وطن کی آزادی کی اس تحریک میں لاکھوں شہیدوں کے خون کی قربانی اور مشترکہ مزاحمتی قیادت کی ولولہ انگیز تحریک پر لبیک کہتے ہوئے ہر محاذ پر اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے اور ان کی کال پر مسئلہ کشمیر کو عالمی سیاستدانوں اور فورمز تک پہنچاتے رہیں گے جب کہ آزاد کشمیر و پاکستان میں متحرک نوجوان قیادت و فورمز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں بلکہ ان کی کاوشوں کو عالمی سطح پر پہنچانے کے لیے بھی اقدامات کریں گے ۔ راجہ نجابت حسین نے کشمیری میڈیا ، ریاستی اخبارات و پاکستانی میڈیا ہائوسز بالخصوص پی ٹی وی کے خصوصی تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تعاون ہمارے کاز کو بھی تقویت مل رہی ہے ۔ انہوں نے پاکستانی میڈیا سے مطالبہ کیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو خصوصی کور یج د ے کر اپنا قو می حق ادا کریں ۔ اس موقع پر تحریک کے سربراہ راجہ نجابت حسین نے 5جنوری سے 11فروری تک تحریکی سرگرمیوں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان و آزاد کشمیر کے علاوہ مقبوضہ کشمیر اور عالمی سطح پر متحرک کشمیریوں اور ہمدردوں سے اس بڑے کاز کیلیے تعاون کی اپیل کرتے ہیں ۔جو جہاں کردار ادا کر سکتا ہے اسے ادا کرنا چاہیے ۔ ہماری پوری ٹیم جس قومی جذبے اور کشمیریوں پر ہونے والے مظالم بند کرانے کے لیے جس انداز میں کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اس میں تعاون ، معاونت اور مشاورت کی اشد ضرورت ہے تا کہ ہم ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کے حصول اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم بند کروا سکیں ۔ راجہ نجابت حسین نے پوری تحریکی تنظیم کو خصوصی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ گذشہ نو سال کی ہماری اس جدو جہد کے نتائج سامنے ہیں اور کارکردگی قابل تحسین ہے ۔ انشا ء اللہ وہ وقت دور نہیں جب ریاست جموں و کشمیر کے عوام بھی دوسری اقوام کی طرح آزادی کا سانس لے سکیں گے اور ہم ان کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے بیرون ملک سے براہ راست معاونت کرسکیں گے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں