آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل3؍ربیع الثانی 1440ھ11؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی (ٹی وی رپورٹ) علماء کرام کی کفر کے فتوے لگانے ، واجب القتل قرار دینے اور گالیاں دینے کی شدید الفاظ میںمذمت، ملک کو نقصان پہنچانے والے شرپسند عناصر کیخلاف ریاست کو سخت کارروائی کرنی چاہئے،علماء کو بھی خاموش نہیں رہنا چاہئے پروفیسر ساجد میر، ڈاکٹر قبلہ ایاز، علامہ ندیم عباس اورمولانا ضیاء الدین نقش بندی کی جیو کے پروگرام ’کیپٹل ٹاک‘ میں گفتگو، مختلف مسالک کے علمائے کرام نے کفر کے فتوے لگانے، واجب القتل قرار دینے ، گالیاں دینے اور توڑپھوڑ کرنے کے عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے، جیو نیوز کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں گفتگو کرتے ہوئے علماء نے اتفاق کیا کہ ملک کو نقصان پہنچانے والے شرپسند عناصر کیخلاف ریاست کو سخت کارروائی کرنی چاہئے۔ میزبان حامد میر سے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ کچھ علماء یا دیندار طبقہ سے منسلک کچھ لوگوں نے گالیوں کا سہارا لینا شروع کردیا ہے جو خطرناک رجحان ہے، کفر کے فتوے لگانا یا واجب القتل قرار دینا ،

اس کی کوئی بھی گنجائش رد کردی گئی ہے، تعزیرات پاکستان کے اندر کسی کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے یا گالیاں دینے پر سزا کا قانون ہے، اسلامی نظریاتی کونسل کی بہت سی سفارشات پر پارلیمنٹ نے ابھی تک توجہ نہیں دی، اسلامی نظریاتی کونسل نے پیغام پاکستان تشکیل دیا ہے جس پر سول اور عسکری قیادت متفق ہے، پارلیمنٹ اس قومی بیانیہ کو اپنائے اور اس کی بنیاد پر قانون سازی شروع کرے،بیس دسمبر کو اجلاس میں ریاست مدینہ کیلئے ضروری اقدامات کی تفصیل پیش کریں گے۔وہ جیو نیوز کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہے تھے۔پروگرام میں معروف عالم دین پروفیسر سینیٹر ساجد میر،معروف عالم دین علامہ ڈاکٹر ندیم عباس اور سربراہ اتحاد تنظیم امت مولانا ضیاء الدین نقشبندی بھی شریک تھے۔پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ کچھ لوگ دین کے نام پر اداروں اور شخصیات کو گالیاں دیں تو علماء کو خاموش نہیں رہنا چاہئے، اس رجحان کا قلع قمع اور انسداد نہ کیا گیا تو سوسائٹی کو برباد کرے گا، ایسے لوگ اگر معافی مانگتے ہیں تو ان سے آئندہ بھی ایسا نہ کرنے کی گارنٹی لینی چاہئے،منبر رسول سے دیئے جانے والے خطبات کیلئے ریاست کی گائیڈ لائن ہونی چاہئے۔علامہ ندیم عباس نے کہا کہ اگر کوئی کلمہ پڑھنے والے مسلمانوں کو گالیاں نکالتا ہے تو یہ افسوس کا مقام ہے،گالی کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا نظریہ کا اختلاف ہوسکتا ہے، کوئی کسی مسلمان کی تکفیر کرتا ہے لیکن وہ کافر نہیں تو وہ تکفیر اسی کی طرف پلٹ جاتی ہے۔ضیاء الحق نقشبندی نے کہا کہ پارلیمنٹ اسلامی نظریاتی کونسل کو تسلیم کرے اور اس کی سفارشات کو قانون کا حصہ بنائے، منبر رسول پر ریاست پاکستان کی اجازت سے بات ہونی چاہئے، گالیاں دینے والے توبہ کرناچاہیں تو گارنٹی دیں آئندہ ایسی زبان استعمال نہیں کریں گے، ریاست پاکستان کو اس وقت سرگرم کردار ادا کرنا چاہئے اور امت اور پاکستان کو نقصان پہنچانے والوں کیخلاف کارروائی کرنی چاہئے۔ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ کسی کیخلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنا یا کسی کی اہانت کرنا کبھی بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقہ نہیں رہا ہے، کسی پر بھی کفر کا فتویٰ لگانے کا رجحان غلط اور خطرناک ہے دین اس کی تائید نہیں کرتا ہے، کسی فرد یا گروہ کو اجازت نہیں کہ کسی کو کافر یا واجب القتل قرار دے یہ ریاست کا کام ہے، ریاست اس رجحان کے تدارک کیلئے کوئی کردار ادا کرے تو علماء کو ساتھ دینا چاہئے۔قبلہ ایاز کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے کچھ علماء اور دیندارطبقہ سے منسلک لوگوں نے گالیوں کا سہارا لینا شروع کردیا ہے، یہ بہت خطرناک رجحان ہے اس کے ہمارے نوجوانوں پر منفی اثرات پڑتے ہیں، کسی کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے یا گالیاں دینے پر سزا کا قانون موجود ہے، ایسے کسی شخص کو تین سال قیدیا پانچ سال جرمانہ یا دونوں سزائیں بیک وقت دی جاسکتی ہیں، اسلامی نظریاتی کونسل نے اس سزا میں اضافے کی سفارش کی ہے، ایسے علماء کرام یا ان رویوں کو روکنے کیلئے انگیج کرنے کی ضرورت ہے، اس حوالے سے ذرائع ابلاغ اور نصاب کا بڑا کردار ہے، ہمارا نصاب تصادم کی بنیاد پر ہے اسے تحمل اور یکجہتی کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔قبلہ ایاز نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی بہت سی سفارشات پر پارلیمنٹ نے ابھی تک توجہ نہیں دی ہے، اسلامی نظریاتی کونسل نے پیغام پاکستان تشکیل دیا ہے جس پر سول اور عسکری قیادت متفق ہے، اس قومی بیانیہ کے تحت مسلح تحریک یا جدوجہد صرف ریاست کا استحقاق ہے کسی شخص یا گروہ کو اجازت نہیں ہے، کفر کے فتوے لگانے یا واجب القتل قرار دینے کی گنجائش بھی رد کردی گئی ہے، پارلیمنٹ اس قومی بیانیہ کو اپنائے اور اس کی بنیاد پر قانون سازی شروع کرے۔ڈاکٹر قبلہ ایاز کا کہنا تھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے سود سے متعلق سفارشات دیں لیکن اسے نافذ کرنے میں رکاوٹیں ہیں، بیس دسمبر کو اجلاس میں ریاست مدینہ کیلئے ضروری اقدامات کی تفصیل پیش کر یں گے، ریاست جمعہ کے خطبات کنٹرول تو نہ کرے مگر ان کیلئے کچھ رہنما اصول ضرور ترتیب دے کہ کن کن موضوعات پر خطبے دینے چاہئیں۔پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ کسی مسلمان کو کافر یا غیرمسلم قرار دینا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے، پاکستان کے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرنے والے ہیں، ہم اچھے مسلمان بنیں تو اس سے امت کا امیج بھی بہتر ہوگا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گفتگو میں بہت محتاط تھے اور ساتھیوں کو بھی محتاط رہنے کی تلقین کرتے تھے۔پروفیسر ساجد میر کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ دین کے نام پر اداروں اور شخصیات کو گالیاں دیں تو علماء کو خاموش نہیں رہنا چاہئے، ایسے لوگ اگر معافی مانگتے ہیں تو ان سے آئندہ بھی ایسا نہ کرنے کی گارنٹی لینی چاہئے، یہاں اگر کوئی عالم دین منبر پر بیٹھ کر گالی دیتا ہے تو لوگ اسے داد دیتے ہیں، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پارلیمنٹ سے منظور کروانا حکومت کا کام ہوتا ہے لیکن حکومتیں اس سے گریز کرتی رہی ہیں۔ پروفیسر ساجد میر کا کہنا تھا کہ منبر رسول سے دیئے جانے والے خطبات کیلئے ریاست گائیڈ لائن دے سکتی ہے، اتحاد امت کیلئے سب سے اہم گراؤنڈ حب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ علامہ ندیم عباس نے کہا کہ اسلام میں واضح ہے کہ اگر کوئی کسی مسلمان کی تکفیر کرتا ہے لیکن وہ کافر نہیں تو وہ تکفیر اسی کی طرف پلٹ جاتی ہے، ہمارے ہاں جس پر الزام لگتا ہے وہ خود کو مسلمان کہہ رہا ہوتا ہے لیکن اسے مارنے والا اس کی بات تسلیم نہیں کرتا، اسلام کو انفرادی قتل سے مسئلہ نہیں ہوتا لیکن اجتماعی بلووں سے اسلام کا بہت منفی امیج جاتا ہے، توہین رسالت کا الزام ایک شخص پر لگتا ہے مگر پورے محلے کو آگ لگادی جاتی ہے۔علامہ ندیم عباس کا کہنا تھا کہ جس مسلک میں یہ باتیں کی گئی ہیں اس کے علماء کرام کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے، قرآن کہتا ہے کہ کسی کے جھوٹے خدا کو بھی برا نہ کہو کہ کہیں ردعمل میں وہ آپ کے سچے خدا کو برا نہ کہہ دے ، لیکن اگر کوئی کلمہ پڑھنے والے مسلمانوں کو گالیاں نکالتا ہے تو یہ افسوس کا مقام ہے۔ضیاء الحق نقشبندی نے کہا کہ ریاست امت اور پاکستان کو نقصان پہنچانے والوں کیخلاف کارروائی کرے، اسلام میں گالیاں اہل ایمان کیلئے نہیں کفار کیلئے ہیں، جو لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں ریاست کوا ن کیخلاف اپنا کردار ادا کرنا چاہئے، ایسے لوگ اگر توبہ کرناچاہیں اور گارنٹی دیں کہ آئندہ ریاستی اداروں یا کسی بھی شخص کیخلاف ایسی زبان استعمال نہیں کریں گے تو اہل علم کو اکٹھا کرنا چاہئے۔ ضیاء الحق نقشبندی کا کہنا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمیت دیگر انبیاء کی توہین روکنے کیلئے عالمی سطح پر قانون بنانے کی کوشش وزیراعظم کا قابل تحسین قدم ہے، پارلیمنٹ اسلامی نظریاتی کونسل کو تسلیم کرے اور اس کی سفارشات کو قانون کا حصہ بنائے، پارلیمنٹ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو تسلیم نہیں کرتی ، منبر رسول پر ریاست کی اجازت سے بات ہونی چاہئے، ان خطبات کو تیار کرنے کیلئے اسلامی نظریاتی کونسل اپنا کردار ادا کرے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں