آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ4؍ربیع الثانی 1440ھ 12؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

3ماہ میں پیسہ ثابت کریں ورنہ حکومتی خزانے میں جائیگا،آرڈیننس لانا چاہئے،فواد چوہدری

لندن، کراچی، اسلام آباد(مرتضیٰ علی شاہ ،نیوز ڈیسک، نمائندہ جنگ)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ آرڈیننس لانا چاہیے کہ 3ماہ میں لوگ اپنے پیسے ثابت کر دیں ورنہ سارے حکومتی خزانے میں شامل ہو جائیں گے، اٹھارویں ترمیم سےآئین میں 100ترامیم کی گئیں،چیئرمین سینیٹ کی کارروائی اور الفاظ غلط تھے سر عام معافی مانگیں،دوہری شہر یت والوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت ہونا چاہیے، میڈیا واجبات کی ادائیگی سے متعلق بیان پر قائم ہوں۔ برطانیہ کے دورے پر موجود وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہےکہ ہمارا معاشی چارٹ بڑا واضح ہے، 120 برطانوی کمپنیاں پاکستان میں کام کر رہی ہیں، چاہتے ہیں مزید برطانوی کمپنیاں پاکستان میں کام کریں، وزیراعظم کی خوا ہش ہے پاکستانیوں کو بیرون ملک جا کر نوکری نہ کرنی پڑے ،پار لیمنٹ میں قبرستان جیسی خاموشی نہیں ہونی چاہیے بلکہ مسائل پر بات ہونی چاہیے، میرا نقطہ نظر جارحانہ ہوتا ہے اس لیے اپوزیشن بھی روٹھی رہتی ہے۔دریں اثنا آکسفورڈ

یونیورسٹی میں لیکچردیتے ہوئے فوادچوہدری نے کہا کہ حکومت کرپشن اور منی لانڈرنگ کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے ،سول اور عسکری ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کررہے ہیں، وزیراعظم کی ترجیحات میں شفافیت اور قانون کی حکمرا نی سرفہرست ہے، حکومت نے ریاستی میڈیا سے سینسر شپ ختم کردی ہے، انہوں نے کہا کہ کشمیر سمیت دیگر تنازعات کے حل کیلئے مذاکرا ت واحد راستہ ہے۔کرتار پور راہداری خارجہ پالیسی کے محور کا ایک مظہر ہے۔لندن سے نمائندہ جنگ کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اگر ہر ایک کو فتویٰ جاری کرنے اور اپنے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے مذہب کو استعمال کرنے کی کھلی چھوٹ دیدی گئی تو یہ ملک نہیں چل سکتا۔ فواد چوہدری نے یہ باتیں اپنی لندن کے 3روزہ دورے کے اختتام پر پاکستان ہائی کمیشن میں پاکستانی میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک لبیک پاکستان نے سرکاری افسران کو قتل کرنے کے بیانات جاری کر کے ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا تھا، کوئی بھی ملک کسی بھی مسئلے پر انارکی پھیلانے اور تشدد پر اکسانے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ انہوں نے کہا کہ 18بین الاقوامی این جی اوز پر، جن میں سے بیشتر کا تعلق برطانیہ، یورپ اور امریکہ سے ہے، پاکستان میں کام کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے، کیونکہ وہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی میں ملوث پائی گئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ماضی کے معاملات نظر انداز کر کے بھارت کے ساتھ اپنے دیرینہ مسائل اور تناز عا ت طے کرنا چاہتا ہے۔ایک سوال کےجواب میںانہوں نے کہا کہ سینیٹ کے چیئرمین کو ان سے سرعام معافی مانگنی چاہئے، سینیٹ کے چیئرمین کی کارروائی اور الفاظ غلط تھے، فواد چوہدری نے پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن کے رہنمائوں کے نام لے کر کہا کہ ان کااحتساب کیا جانا چاہئے اور سرسری سماعت کے بعد ہی انہیں بند کیا جانا چاہئے۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت میں بعض ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو سابقہ حکومتوں کا حصہ اور موجودہ اپوزیشن کے اتحادی تھے تو انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت میں شامل ان لوگوں کو ماضی میں فیصلہ سازی کا اختیار نہیں تھا۔ انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت اور عمران خان کی ٹیم کے زیر انتظام معیشت صحیح طرح کام کر رہی ہے اور عمران خان کی ٹیم نے گزشتہ100 دنوں میں شاندار کاکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری آ رہی ہے اور پاکستان کے معاشی مسائل سے نمٹا جا رہا ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت ایک جدید ترین میڈیا یونیورسٹی قائم کرے گی جہاں طلبہ کو میڈیا کے جدید خطوط پر تربیت دی جائے گی، میڈیا سے متعلق امور پر بات چیت کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان پر30 ہزار کروڑ کا قرضہ ہے اور موجودہ حکومت میڈیا کو اشتہارات دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ انہوں نے میڈیا ہائوسز سے کہا کہ وہ اپنے میڈیا ماڈل کی اصلاح کریں یا مالی مشکلات کا سامنا کریں۔ آل پاکستان نیوز پیپرز ایسوسی ایشن نے جمعہ کو ایک بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات کے اس بیان کو غلط قرار دیا تھا کہ میڈیا انڈسٹری کے نصف بقایا جات ادا کئے جا چکے ہیں، ایک اخباری بیان میں میڈیا کے اداروں نے وزیراعظم عمران خان سے درخواست کی تھی کہ وہ متعلقہ وزرا کو میڈیا سے کئے ہوئے وعدے پورے کرنے اور بقایا جات ادا کرنے کی ہدایت کریں، اے پی این ایس اور پی بی اے نے فواد چوہدری کے اس بیان کا سخت نوٹس لیا تھا، جس میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ میڈیا انڈسٹری کو ان کے نصف بقایا جات ادا کر دیئے گئے ہیں اور یہ رقم ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی پر خرچ کی جانی چاہئے۔ چوہدری فواد نے کہا تھا کہ میڈیا ہائوسز کو1.3 بلین روپے میں سے0.6 بلین روپے ادا کئے جاچکے ہیں اور ان لوگوں نے اپنے صحافیوں کو ادائیگی کرنے کے بجائے ساری رقم خود ہی رکھ لی ہے۔ فواد چوہدری نے پریس کانفرنس میں اس بات پر اصرار کیا کہ نصف رقم میڈیا ہائوسز کو ادا کی جاچکی ہے اور وہ اپنے بیان پر قائم ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں