آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل3؍ربیع الثانی 1440ھ11؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد (اے پی پی، خبر ایجنسی) مانیٹری اینڈ فسکل پالیسیز کوآرڈی نیشن بورڈ کا اجلاس جمعے کو وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت ہواجس میں ٹیکس وصولی بڑھانے ، اخراجات کم کرنے کا فیصلہ کیا گیااسکے ساتھ ساتھ ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو بتایاگیا کہ جنوری سے بیرونی سرمایہ کاری آنا شروع ہوجائےگی ،عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہونے سے صورتحال بہتر ہوگی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مالی سال 2018-19ءکی پہلی سہ ماہی میں مالیاتی خسا ر ہ جی ڈی پی کا 1.4 فیصد رہا،پہلے 4ماہ کے دوران نان آئل امپورٹس میں 4فیصد کمی ریکارڈ ، ترسیلات زر میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ بورڈ نے مالیاتی استحکام کے حوالے سے حکام کے ایڈجسٹمنٹ پلان کو سراہا اور کہا کہ ان اقدامات کے نتائج رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں سامنے آئیں گے جو اقتصادی استحکام میں کردار ادا کریں گے۔ اسی طرح محصولات جمع کرنے اور اخرا جا ت پر قابو پانے کیلئے مسلسل کوششوں کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ مالیاتی خسارہ کے

حوالے سے بورڈ نے اسٹیٹ بینک کی فنانسنگ پر انحصار کے زری و اثرات کا جائزہ لیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ جنوری 2019ءکے بعد زیادہ تر بیرونی فنانسنگ حاصل ہو گی جس سے فنانسنگ مکس میں بہت بہتری آئے گی، اس کے نتیجے میں بینکنگ کے شعبہ سے قرضوں پر انحصار بھی کم ہو گا۔ کوآرڈی نیشن بورڈ کو بیرونی شعبہ کے حوالے سے بتایا گیا کہ جنوری 2018ء کے بعد سے کیے گئے اقدامات سے کرنٹ اکاؤنٹ پر اثرات نظر آ رہے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں