آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 7؍ربیع الثانی 1440ھ 15 ؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد(نمائندہ جنگ) سپریم کورٹ نے نواز شریف وغیرہ کیخلاف ا لعزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کے ٹرائل کو17 دسمبر تک ٹرائل مکمل کر کے 24 دسمبر کو فیصلہ سنانے کا حکم جاری کیا ہے۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بار بار وقت لینے آجاتے ہیں، کونسی الف لیلی کی کہانی تیار کرنی ہے، کیس کو لٹکانے کی کوشش کیوں کرتے ہیں ؟چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس اعجا زالاحسن پر مشتمل بنچ نے جمعہ کے روز احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ٹرائل مکمل کرنے کے لئے مدت میں8ویں بار توسیع کیلئے درخوا ست کی سماعت کی تو پراسیکیوٹر نیب اورنواز شریف وغیرہ کے وکیل خواجہ حارث پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بار بار وقت لینے آجاتے ہیں، کونسی الف لیلی کی کہانی تیار کرنی ہے، کیس کو لٹکانے کی کوشش کیوں کرتے ہیں ؟ ، یہ ہے آپ کی وکالت، کیسے بڑے وکیل ہیں آپ؟جس پر انہوں نے جواب دیا کہ میں نے کبھی بڑا وکیل ہونے کا دعویٰ نہیں کیا جس پر چیف جسٹس نے

کہاکہ اگر آپ وقت پر کام مکمل نہیں کر سکتے تو کیس لیا ہی نہ کریں ،خواجہ حارث نے کہاکہ اگر آپ کو لگتا ہے تو میں کیس چھوڑ دیتا ہوں ، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ہمیشہ عدالت پر غصہ کر جاتے ہیں، 10 تاریخ دے دیتے ہیں، آپ بحث مکمل کرلیں ،خواجہ حارث نے کہاکہ ایسا ہے تو دلائل نہیں دوں گا اس کے بغیر ہی کیس مکمل کر لیا جائے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں