آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل3؍ربیع الثانی 1440ھ11؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اسلام آباد(نمائندہ جنگ) سپریم کورٹ نے نواز شریف کیخلاف نیب ریفرنسز کی ڈیڈ لائن مدت 24 دسمبر تک بڑھا دی ہے۔ العزیزیہ ریفرنس میں اپنے دلائل میں کہا کہ جے آئی ٹی نے گلف اسٹیل فروخت پر شکوک پیدا کرنے کی کوشش کی، 75؍ فیصد شیئرز کی فروخت کے معاہدہ سے متعلق کوئی تحقیقات ہی نہیں کیں۔ جمعہ کے روز خواجہ حارث نے العزیزیہ ریفرنس میں اپنے حتمی دلائل جاری رکھتے ہوئے کہاکہ جن دستاویزات کی بنیاد پر یو اے ای حکام کو ایم ایل اے لکھا گیا وہ عدالت کے سامنے نہیں جس پر فاضل جج نے کہاکہ ان دستاویزات کے بجائے میں آپکے دلائل سے زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ سکتا ہوں۔ خواجہ حارث نے بتایاکہ واجد ضیاء نے کہا کہ بارہ ملین درہم کی کوئی ٹرانزکشن نہیں ہوئی۔ اس پر عدالت نے استفسار کیاکہ گلف اسٹیل کے زمے واجب الادا رقم کیسے ادا ہوئی؟ کیا واجب الادا رقم بینک نے ادا کرنا تھی ،کوئی بینک گارنٹی تھی ؟ معمول کی پریکٹس تو یہی ہے کہ نئے قرض کیلئے پہلا ادا کرنا پڑتا ہے۔ طارق شفیع نے بھی نئے قرض سے پہلے پرانا قرض واپس کیا ہوگا ؟جس پر وکیل صفائی نے کہاکہ ہم فرض کرلیتے ہیں کہ قرض تھا ہی نہیں یا واپس کردیا تھا ، واجد ضیاء نے جھوٹ بولا کہ انہوں نے گلف اسٹیل کے شراکت دار محمد حسین کے بچوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ جج نے کہاکہ مجھے نہیں سمجھ آرہا کہ ان

باتوں کا اس کیس سے کیا تعلق بنتا ہے ؟خواجہ حارث نے بتایاکہ جے آئی ٹی نے 75فیصدشیئرز کی فروخت کے معاہدے سے متعلق کوئی تحقیقات ہی نہیں کیں، گلف اسٹیل مل کی فروخت کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی، عبد اللہ قائد آہلی کو شامل تفتیش کرنے سے گریز کیا ، 25فیصد شیئرز کی فروخت کے گواہوں کا بھی بیان قلمبند نہیں کیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں