آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل3؍ربیع الثانی 1440ھ11؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
 کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہےکہ 26ممالک کی معلومات سے ہمیں وہاں گیارہ ارب ڈالر کا پتا چلا ہے، پچھلے دور میں کیے گئے معاہدے پر عملدرآمد اور تیزی سے کام ہمارے دور میں ہورہا ہے،سینئر تجزیہ کار بین الاقوامی امور معید یوسف نے کہا کہ پاکستان کو افغانستان میں امریکا کی مدد کرنا ہوگی اس کے بعد ہی پاک امریکا تعلقات بہتر ہوسکتے ہیں۔میزبان شاہزیب خانزادہ نےتجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا امریکا کے حوالے سے موقف سخت ہوتا جارہا ہے، پہلے بھی وزیراعظم کے سخت بیانات سامنے آئے اور اب انہوں نے مزید سخت باتیں کیں ہیں لیکن ساتھ ہی سپرپاورامریکا کے ساتھ دوستی کی خواہش کا اظہار بھی کیا ہے، وزیراعظم نے صاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ پاکستان امریکا کیلئے کرائے کی بندوق نہیں بنے گا،پاکستان امریکا کے ساتھ چین جیسے تعلقات چاہتا ہے، وزیراعظم عمران خان نے امریکی اخبار کوا نٹرویو دیا ہے جس میں امریکا سے تعلقات، اسامہ بن لادن کی موت، پاکستان کی معاشی صورتحال، غیرملکی دورے، آئی ایم ایف اور ممبئی حملوں پر کھل کر بات کی ہے۔ شاہزیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ یہ بڑا اہم معاملہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان

کہہ رہے ہیں کہ سعودی عرب، چین اور یو اے ای سے پیسے ملے ہیں لیکن ان حکومتوں کے کہنے پر اسے خفیہ رکھنا چاہتے ہیں، ان پیسوں کا مقصد مارکیٹ میں اعتماد دینا اور آئی ایم ایف سے مذاکرات کرتے ہوئے بتانا تھا کہ ہماری معاشی صورتحال اتنی خراب نہیں جتنی نظر آرہی ہے، لیکن اگر یہ معاملہ خفیہ رکھا جائے گا تو مارکیٹ میں کیسے اعتماد آئے گا اور آئی ایم ایف سے مذاکرات میں پاکستان کیسے اس کا فائدہ اٹھائے گا، اگر اسٹیٹ بینک کے ریزروز میں وہ نمبرز نہیں آئیں گے جو ان ممالک سے پیسوں کی صورت میں ملے ہیں تو پاکستان میں کس طریقے سے غیریقینی کی صورتحال کم ہوگی۔شاہزیب خانزادہ نے کہا کہ ممبئی حملوں سے متعلق سوالوں پر عمران خان نے جواب دیا کہ ہم بھی ممبئی حملوں میں ملوث افراد سے متعلق کچھ کرنا چاہتے ہیں، اس سلسلے میں اپنی حکومت سے کہا ہے کہ دیکھیں کیس کہاں تک پہنچا ہے، اس کیس کو سلجھانا ہمارے مفاد میں ہے۔ سینئر تجزیہ کار بین الاقوامی امور معید یوسف نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا امریکی اخبار میں چھپنے والا انٹرویو کافی ہلکا ہے، امریکی صحافی نے پاکستان کو سمجھنے اور عمران خان کی رائے جاننے کے بجائے ماضی کی طرح پرانے سوالات کیے، پاکستان کو افغانستان میں امریکا کی مدد کرنا ہوگی اس کے بعد ہی پاک امریکا تعلقات بہتر ہوسکتے ہیں، وزیراعظم نے ٹھیک بات کی کہ امریکا جیسی سپر پاور سے تعلقات خراب نہیں کیا جاسکتا ہے، پاکستان کو افغان مسئلہ کے حل کیلئے اپنی تمام تر کوشش کرنی چاہئے۔ معید یوسف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے بیانیوں میں تضادات ہیں، امریکا اب افغانستان میں سیاسی حل کیلئے رضامند نظر آرہا ہے، دونوں ممالک کو ایک دوسرے پر الزامات کے بجائے طالبان کو میز پر لانے کیلئے کوشش کرنی چاہئے، پاکستان کو افغان طالبان پر اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہئے، امریکا بھی ملبہ پاکستان پر ڈالنے کے بجائے اس کی کوششو ں کو سراہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ او ای سی ڈی معاہدہ کے تحت آٹومیشن کے پراسس میں دو ممالک کا آپس میں ایک دوسرے کو ’یس‘ کرنا ضروری ہوتا ہے، اس معاہدہ میں سوئٹزرلینڈ نے ابھی تک شمولیت نہیں کی ہے، برٹش ورجن آئی لینڈ سمیت بہت سے ایسے ممالک جہاں ہمیں شک ہے کہ دولت ہوسکتی ہے وہاں پرا ٓٹومیشن کے معاہدہ میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی تصدیق نہیں کی، سوئٹزرلینڈ اور دیگر چھوٹے آف شور ٹیکس ہیونز سمیت ایسے ممالک سے آٹومیشن میں شامل ہونے کیلئے کام کررہے ہیں جہاں ہمارے خیال میں پاکستان کی لوٹی گئی دولت ہوسکتی ہے۔ شہزاد اکبر نے بتایا کہ سوئٹزرلینڈ کے ساتھ معاہدہ کی بات 2013ء میں شروع ہوئی تھی، سوئٹزرلینڈ سے معاہدہ کیلئے 2014ء میں ڈرافٹ طے ہوگیا تھا لیکن اس وقت کی حکومت نے اسے مزید مذاکرات کیلئے ڈال دیا اور اپنے آخری سال میں مذاکرات کو مکمل کیا گیا ، لیکن وہ تصدیقی عمل جس کے بعد معلومات لی جاسکتی ہیں اس کی پیروی نہیں ہوئی، اس کی پیروی ہمارے دورِ حکومت میں ہوئی اور ہم نے اس کی تصدیق کروائی۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ بیرون ملک لوٹے گئے گیارہ ارب ڈالر میں او ای سی ڈی کے تحت سراغ لگائے گئے کیسوں کے علاوہ منی لانڈرنگ ، ملکوں سے باہمی معلومات کے تبادلہ اور برطانیہ کے ساتھ باہمی تعاون سے سراغ لگائی گئی دولت بھی شامل ہے، 26ممالک کی معلومات سے ہمیں وہاں گیارہ ارب ڈالر کا پتا چلا ہے، پچھلے دور میں کیے گئے معاہدے پر عملدرآمد اور تیزی سے کام ہمارے دور میں ہورہا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں